منکی پاکس کا مرض ’بے قابو‘ نہیں ہوا، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ اگرچہ ’منکی پاکس‘ پہلی بار افریقہ کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی پھیل رہی ہیں، تاہم ایسا نہیں ہے کہ ’وبا‘ ’بے قابو‘ ہو چکی ہے۔

منکی پاکس میں حالیہ اضافہ رواں ماہ 7 مئی کے بعد دیکھا گیا، جب انگلینڈ میں پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا اور اب تک دنیا بھر کے ڈیڑھ درجن ممالک میں اس کے 130 تک کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ مزید 106 مشتبہ کیسز کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

عام طور پر ماضی میں منکی پاکس صرف افریقی خطے تک محدود تھا، تاہم اس بار اس بیماری نے یورپ کو گھیرے میں لے رکھا ہے، جہاں کے ایک درجن ممالک میں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

اگرچہ ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ممکنہ طور پر منکی پاکس کے حالیہ کیسز تبدیل شدہ ساخت کے ہوں گے، تاہم اس حوالے سے بھی عالمی ادارہ صحت واضح کر چکا ہے کہ نئے کیسز میں کوئی تبدیلی نوٹ نہیں کی گئی۔‎

منکی پاکس کے یورپ کے بعد شمالی امریکی ممالک میں تیزی سے پھیلنے کے بعد دنیا میں خوف کی فضا پیدا ہوچکی ہے اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے اس حوالے سے ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر رکھی ہے۔

تاہم اب عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ اب تک منکی پاکس قابل قبول حالت میں ہے، ایسا نہیں کہ یہ مرض ’بے قابو‘ ہوچکا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی گلوبل انفیکشن کی ڈائریکٹر سالوی برینڈ نے جنیوا میں ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ منکی پاکس ’قابو‘ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت اس بات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ منکی پاکس کی کڑی نگرانی کی جائے، تاہم اب تک کہ شواہد سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ اس میں کوئی تبدیلیاں آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے اور مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے کہ حالیہ منکی پاکس کیسز کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں؟

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ منکی پاکس کا پھیلاؤ انسانی رویوں کی وجہ سے ہوسکتا ہے، کیوں کہ کورونا کی طویل پابندیوں کے بعد اب انسان آزاد ہوئے ہیں تو ان کا میل جول انہیں دوسری مصییبت میں منتقل کر سکتا ہے۔

منکی پاکس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری قریبی تعلقات سے پھیلتی ہے، یہ کورونا کی طرح تیزی سے پھیلنے والی وبا نہیں۔

منکی پاکس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، جس وجہ سے ماہرین سماجی دوری کو یقینی بنانے کی ہدایات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ عام طور پر منکی پاکس غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیلتا ہے اور عام طور پر اس بیماری کا شکار وہ لوگ بنتے ہیں، جو ہم جنس پرستی کی جانب راغب ہوں، تاہم تمام کیسز میں ایسا نہیں ہوتا۔

منکی پاکس ابتدائی طور پر بندروں میں پائی جانی والی بیماری تھی جو 1970 کے بعد افریقہ کے مغربی حصے میں پھیلی اور کئی دہائیوں تک وہیں پھیلتی رہی۔

اگرچہ ماضی میں منکی پاکس کے کچھ کیسز یورپ اور امریکا جیسے خطوں میں سامنے آئے، تاہم اس کے زیادہ تر کیسز افریقہ میں ہی پائے جاتے تھے لیکن اب پہلی بار اس بیماری کے کیسز افریقہ کے بجائے دیگر خطوں میں رپورٹ ہونے پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔

error: