منکی پوکس: عالمی ادارہ صحت کا نئے وائرس کے پھیلاؤ پر عالمی ایمرجنسی کا اعلان

عالمی ادارہ صحت نے منکی پوکس کے پھیلاؤ کو عالمی ایمرجنسی کا درجہ دے دیا ہے جس کی وجہ دنیا میں اس نایاب وائرل انفیکشن کے بڑھتے ہوئے کیسز بتائے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وائرس پر ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے بعد لیا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر تیدروس ادھانوم گیبرائسس نے کہا ہے کہ اب تک منکی پوکس کے 16000 سے زیادہ کیسز 75 ممالک سے رپورٹ ہو چکے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس بیماری کی وجہ سے اب تک پانچ اموات بھی ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت عالمی طور پر صحت سے جڑی صرف دو ہی دیگر ایمرجنسیز ہیں جن میں کورونا کی وبا اور پولیو کے مکمل خاتمے کی مہم شامل ہیں۔

ڈاکٹر تیدروس نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی کے اجلاس میں اس نکتے پر اتفاق نہیں ہو پایا تھا کہ منکی پوکس کو عالمی ایمرجنسی کا درجہ دیا جائے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ منکی پوکس تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ یہ پریشانی کا باعث ہے۔

ان کے مطابق اب تک منکی پوکس کے پھیلاؤ کے طریقے سے متعلق کچھ زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔

ڈاکٹر تیدروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے تجزیے کے مطابق عالمی طور پر منکی پوکس کا خطرہ درمیانے درجے کا ہے لیکن یورپی خطے میں خطرہ زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ منکی پوکس کے بین الاقوامی پھیلاؤ کا بھی خدشہ موجود ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس اعلان سے منکی پوکس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے اور ویکسین کی تیاری کے عمل کو تیز بنانے میں مدد ملے گی۔

عالمی ادارہ صحت ایسی تجاویز بھی جاری کر رہا ہے جن سے امید کی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ممالک کو منکی پوکس وائرس کے پھیلاو کو روکنے اور ایسے لوگوں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی جن کو اس وائرس سے زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر تیدروس نے کہا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جسے درست اقدامات اٹھا کر روکا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مئی میں پاکستان میں بھی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے ہدایت دی تھی کہ صحت عامہ سے منسلک تمام قومی و صوبائی حکام منکی پوکس کے مشتبہ متاثرین کی جانچ کے لیے ہائی الرٹ پر رہیں جبکہ ایئرپورٹس سمیت داخلی راستوں پر مسافروں کی نگرانی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

اس جاری کردہ الرٹ کے مطابق حفاظتی اقدامات کے لیے وقت پر تشخیص اہم ہے لہذا تمام سرکاری و نجی ہسپتال متاثرین کے علاج اور آئسولیشن (مریض کو تنہائی میں رکھنے) کے انتظامات کریں۔ این آئی ایچ نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ فی الحال پاکستان میں منکی پوکس کا کوئی مصدقہ کیس موجود نہیں۔

واضح رہے کہ منکی پوکس سب سے پہلے وسطی افریقہ میں 1950 میں دریافت ہوا تھا۔ برطانیہ میں اب تک اس وائرس کے دو ہزار سے زیادہ مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کو منکی پوکس سے متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ ہے، جن میں ہم جنس پرست اور طبی عملہ شامل ہیں، کو فوری طور پر ویکیسن دینی چاہیے۔

منکی پوکس کی علامات کیا ہیں؟

منکی پوکس
،تصویر کا کیپشنمنکی پوکس میں جسم پر دانے اور آبلے آ جاتے ہیں

ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر میں درد، پٹھوں میں درد اور عام طور کسی بھی چیز کا دل نہ چاہنا شامل ہیں۔

ایک بار جب بخار جاتا رہتا ہے تو جسم پر دانے آ سکتے ہیں جو اکثر چہرے پر شروع ہوتے ہیں، پھر جسم کے دوسرے حصوں، عام طور پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے تک پھیل جاتے ہیں۔

دانے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ دانے میں بدلنے سے قبل یہ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور بعد میں یہ دانے سوکھ کر گر جاتے ہیں لیکن بعد میں زخموں سے داغ پڑ سکتے ہیں۔

انفیکشن عام طور پر خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور 14 سے 21 دنوں کے درمیان رہتا ہے۔

جیمز کیلیگھر، بی بی سی نامہ نگار برائے صحت اور سائنس کا تجزیہ

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے عالمی ایمرجنسی کا اعلان ایک اہم قدم ہے۔

یہ دنیا بھر کے ممالک کو ایک پیغام ہے کہ وہ اس وائرس کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی ساتھ اس اعلان کا مقصد دنیا بھر میں آگہی پھیلانا ہے اور اس کی وجہ سے غریب ممالک کو منکی پوکس کنٹرول کرنے کے لیے درکار وسائل حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بنیادی طور پر تو ہمارے پاس وہ تمام وسائل موجود ہیں جن سے منکی پوکس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ منکی پوکس کورونا کی طرح نہیں پھیلتا اور ہمارے پاس پہلے ہی ایک ویکسین موجود ہے، جو چیچک کے لیے بنائی گئی تھی، جو حفاظت فراہم کرتی ہے۔

اگرچہ کسی کو بھی منکی پوکس ہو سکتا ہے، اس کی موجودہ وبا سے ہم جنس پرست افراد، یا وہ مرد جو مردوں سے تعلقات رکھتے ہیں، زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو ایسے افراد پر مرکوز کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ویکسین یا عام طبی معلومات تاکہ وائرس کو کنٹرول کیا جا سکے۔

لیکن یاد رہے کہ کئی ایسے ممالک ہیں جہاں پر ہم جنس پرستی غیر قانونی تصور کی جاتی ہے اور سزا کا خوف اس بیماری کے پھیلاو کو روکنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اسی لیے اس بیماری کو روکنا صرف وائرس سے ہی نہیں جڑا بلکہ اس میں معاشرتی اور ثقافتی چیلنج بھی درپیش ہوں گے۔

error: