منگ وینزاؤ: ہواوے کی فنانشل چیف کو ڈاک میں گولیاں، قتل کی دھمکیاں بھیجی گئیں

چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کی سینیئر ایگزیکیٹو منگ وینزاؤ کو، جو وینکوور میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں، ڈاک کے ذریعے گولیاں بھیجی گئی ہیں۔ یہ بات بدھ کے روز ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے دوران بتائی گئی۔

منگ وینزاؤ کو سکیورٹی فراہم کرنے والی کمپنی نے بدھ کو اپنے بیان میں بتایا کہ انھیں کئی بار قتل کی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔

منگ وینزاؤ کو سنہ 2018 میں ایچ ایس بی سی کو ایران کے ساتھ ہواوے کے تعلقات کے بارے میں گمراہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

ان کے کیس کی وجہ سے کینیڈا اور چین کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہوئی ہیں۔ بیجنگ نے کئی بار ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ہواوے میں بطور چیف فنانشل آفیسر کام کرنے والی اس خاتون کو وینکوور انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا وارنٹ گرفتاری امریکہ نے جاری کیا جہاں ان پر بینک فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ یہ خیال ہے کہ ان کی وجہ سے ایچ ایس بی سی نے ممکنہ طور پر ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔

ان کی ضمانت پر رہائی کے چند روز بعد ہی انھیں وینکوور میں ان کے گھر میں ہی قید کیا گیا۔ خود کو امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف وہ ایک قانونی جنگ لڑ رہی ہیں جہاں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

منگ وینزاؤ کو ملنے والی دھمکیاں

برٹش کولمبیا سپریم کورٹ کو ان قتل کی دھمکیوں کے بارے میں ڈگ مینرڈ نے بتایا جو سکیورٹی کمپنی لائنز گیٹ رسک مینجمنٹ کے سربراہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منگ کو جون اور جولائی 2020 کے دوران اپنی رہائش گاہ پر ’پانچ سے چھ‘ دھمکی آمیز خط موصول ہوئے۔ ’ان خطوط کا اندازہ ان کے باہر نشانات سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔‘

منگ وینزاؤ
،تصویر کا کیپشنمنگ وینزاؤ کے مقدمے کو کینیڈا اور دوسرے ممالک میں غور سے دیکھا جا رہا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ ’کبھی کبھار ان لفافوں کے اندر گولیاں بھی ہوتی تھیں۔‘

اس کیس میں وینکوور پولیس اور دیگر تحقیقات کا کیا کردار ہے، اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔

منگ چاہتی ہیں کہ عدالت کے ذریعے ان کی ضمانت پر عائد شرائط کو نرم کیا جائے۔ وہ چاہتی ہیں کہ دن کے وقت ان کا مسلسل پیچھا کرنے والی سکیورٹی ٹیم کو اس کام سے ہٹا دیا جائے۔

عدالت نے انھیں اجازت دی ہے کہ وہ صبح 6 بجے سے 11 بجے تک گھر سے نکل سکتی ہیں۔ اس دوران ایک سکیورٹی ٹیم ان کے ہمراہ ہوتی ہے۔ ان کی ٹانگ پر جی پی ایس ٹریکر بندھا ہوا ہے تاکہ یقینی بنایا جا سے کہ وہ اپنی ضمانت کی شرائط پر عمل کریں۔

بدھ کو امیگریشن حکام نے منگ کے خاندان کو کینیڈا سفر کرنے کی اجازت دی تھی۔

چین کا سخت ردعمل

دسمبر 2018 میں جب منگ کو گرفتار کیا گیا تو اس کے فوراً بعد بیجنگ نے دو کینیڈین شہریوں کو گرفتار کر لیا اور انھیں اب تک قید میں رکھا گیا ہے۔ ان سے تفتیش بھی جاری ہے۔

منگ کا دفاع کرنے والے وکیل کے مطابق کینیڈا سے کہا جا رہا ہے کہ ’امریکی پابندیوں کا اطلاق کروائیں۔‘

ہواوے ان اقدامات کا ہدف بنا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ نے چینی کمپنیوں کے خلاف تجارتی جنگ کے دوران اٹھائے تھے۔ انھوں نے ان کمپنیوں پر سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ چینی حکومت کو امریکی شہریوں کی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

امریکہ نے ہواوے کے خلاف سخت پابندیاں لگائی تھیں اور اپنے نیٹ ورکس پر اس کمپنی کا فائیو جی سامان حاصل کرنے پر پابندی لگائی تھی۔ تجارتی بلیک لسٹ میں ایسے 38 نام شامل کیے گئے تھے جنھیں ہواوے سے جوڑا گیا تھا۔

رواں ہفتے ہواوے ایک بار پھر تنقید کی زد میں آیا جب اس کی ایک ایسی ٹیکنالوجی کا انکشاف ہوا جو پیدل سفر کرنے والوں میں سے اویغور باشندوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہواوے نے اس پر موقف دیا تھا کہ اس کی کسی بھی ٹیکنالوجی کو کسی مخصوص نسل کے لوگوں کی نشاندہی کے لیے نہیں بنایا گیا۔

error: