منی بجٹ پر حکومتی ارکان کی بے حسی

دو ارب اور ساڑھے تین سو ارب روپے کے درمیان زمین اور آسمان والا فرق ہوتا ہے۔ ’’فنانس (ترمیمی) بل 2021‘‘ کے عنوان سے جو ’’منی بجٹ‘‘ جمعرات کی سہ پہر شوکت ترین صاحب نے قومی اسمبلی کے روبرو رکھا وہ روزمرہّ ضرورت کی تقریباََ144اشیاء کو ٹیکس کے ضمن میں فراہم کردہ نرمی واپس لیتے ہوئی قومی خزانے کے لئے مزید ساڑھے تین سو ارب روپے جمع کرنا چاہ رہا ہے۔وزیر خزانہ اور ان کے مصاحبین وترجمانوں کا مگر اصرار ہے کہ میرے اور آپ جیسے عام شہریوں کو باہم مل کر سرکار کو فقط دو ارب روپے مہیا کرنا ہوں گے۔عام آدمی کو گویا نئے ٹیکسوں سے بچالیا گیا ہے۔

حقیقت کیا ہے اسے طے کرنا مجھ جیسے معاشی امور سے نابلد قلم گھسیٹ کے بس کی بات نہیں۔یہ کالم لکھنے سے قبل مگر پیٹرول پمپ گیا تھا۔ گاڑی کی ٹینکی بھروانے کے لئے پانچ ہزار روپے کا نوٹ دیا تو واپس دو سو روپے ملے۔ چند دن قبل تک یہ مسئلہ چار ہزار روپے سے کم میں حل ہوجایا کرتا تھا۔مہنگائی کی نئی لہر ٹھوس تجربے سے محسوس کرلی ہے۔گھر لوٹ کر اخبارات کے صفحۂ اوّل پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ وطن عزیز میں افراط زر کی شرح 12.3فی صد کو چھورہی ہے۔یہ شرح حکومتِ پاکستان کے اعدادوشمار پر نگاہ رکھنے والے ایک ادارے ہی نے بتائی ہے۔گزشتہ 21مہینوں کے درمیان یہ انتہا کا ریکارڈ بناتی شرح بھی رپورٹ ہوئی ہے۔حکومتی ترجمان مگر دعویٰ کررہے ہیں کہ روزمرہّ اشیاء خاص کر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔میڈیا میں گھسے چند سیاپا فروش لیکن اسے عوام کے سامنے نہیں لارہے۔مہنگائی کی دہائی مچائے جارہے ہیں۔

منی بجٹ کو قومی اسمبلی کے روبرو رکھنے سے قبل حکومت نے تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کا اجلاس بھی طلب کیا تھا۔ عمران خان صاحب نے اس اجلاس کی صدارت فرمائی۔طویل وقفے کے بعد رپورٹر کے تجسس کو بروئے کار لاتے ہوئے میں نے مذکورہ اجلاس میں شریک کم ازکم دس لوگوں سے رابطہ کیا۔ان سے الگ الگ گفتگو کے بعد دریافت ہوا کہ مذکورہ اجلاس کے دوران کسی ایک رکن نے محتاط ترین الفاظ میں بھی وزیر اعظم کو متنبہ نہیں کیا کہ شوکت ترین صاحب کا تیار کردہ منی بجٹ مہنگائی کی نئی اور شدید ترین لہر کو مہمیز لگائے گا۔ زر عی حلقوں سے تعلق رکھنے والے چند اراکین نے اگرچہ شکوہ کیا کہ بازار میں کھاد سرکار کے طے کردہ نرخوں کے مطابق بآسانی میسر نہیں۔مناسب کھاد کے بغیر جو فصلیں بوئی گئی ہیں بھرپور پیداوار نہیں دے پائیں گی۔

میرے اور آپ کے ووٹ سے قومی اسمبلی پہنچ کر حکومتی نشستوں پر براجمان ہوئے اراکین گویا مہنگائی کو ہمارا بنیادی مسئلہ تصور نہیں کررہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان کی کثیر تعداد نے منی بجٹ کے خلاف دہائی مچاتے اپوزیشن اراکین کے خلاف نہایت حقارت سے ’’چور-چور‘‘ کی آوازیں بھی بلند کیں۔حکومت کا دل وجاں سے ساتھ دیا۔اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی دنوں سے جبکہ تاثر یہ پھیلارہی تھیں کہ 25سے زیادہ حکومتی اراکین ان سے رابطے میں ہیں۔آئندہ انتخاب کے دوران وہ تحریک انصاف کی ٹکٹ پر کھڑے ہونا نہیں چاہ رہے۔اپوزیشن جماعتوں کی سرپرستی کے خواہش مند ہیں۔حکومتی بنچوںکی جانب سے اپوزیشن کے خلاف ان کا جارحانہ رویہ مذکورہ تاثر کو شدت سے رد کرتا نظر آیا۔

اپوزیشن کو حکومتی صفوں سے منی بجٹ کے خلاف مزاحمت کی واقعتا امید ہوتی تو اسے بھڑکانے کے لئے قائد حزب اختلاف بذات خود ایوان میں موجود ہوتے۔شہباز شریف صاحب نے مگر وہاں تشریف لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیںکی۔بلاول بھٹو زرداری بھی موجود نہیں تھے۔ شوکت ترین صاحب کو لہٰذا شدید مزاحمت کا سامنا نہیں کر نا پڑا۔تھوڑا ہنگامہ ہوا وہ مگر کسی بھی حوالے سے ’’تاریخی‘‘ ہرگز نہیں تھا۔جمعہ کی صبح محض 12منٹ کی کارروائی کے بعد قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی بھی کردیا۔

ہمارے میڈیا میں تاثر یہ پھیلایا گیا کہ چونکہ حکومت اپنے اراکین کو ایوان میں لانے اور وہاں موجود رکھنے میں مسلسل ناکام ہورہی ہے اس لئے قومی اسمبلی کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لئے مؤخر کردیا گیا ہے۔حقیقت مگر یہ ہے کہ ہمارا تحریری آئین یہ تقاضہ کرتا ہے کہ قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر رائے شماری سے قبل سینٹ کی فنانس کمیٹی سے آئی ان سفارشات کا انتظار کیا جائے جو کسی بھی مالیاتی بل پر کم ازکم چودہ دنوں کے دوران غوروخوض کے بعد تیار کی جاتی ہیں۔یہ کالم چھپنے کے روز یا اس سے ایک دو روز بعد سینٹ کا اجلاس لہٰذا طلب کرنا ہوگا۔وہاں سے آئی سفارشات کا انتظار بھی لازمی ہے۔حکومت کو نظربظاہر منی بجٹ کو سرعت سے منظور کروانے کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی۔ اس سے قبل اگرچہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ منی بجٹ کو 12جنوری سے قبل منظور کروانا ہر صورت لازمی ہے۔اس دن واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس ہونا ہے جو پاکستان کو ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دے گا۔ حکومتی ترجمان مگر اب یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ 12جنوری حتمی تاریخ نہیں ہے۔آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے حصول کے لئے پاکستان مزید کچھ دن تک انتظار کرسکتا ہے۔حکومتی صفوں میں لہٰذا ’’ستے خیراں‘‘ کا ماحول ہے۔اس کو دیکھتے ہوئے ’’مارچ اپریل‘‘ کی بابت قیاس آرائیاں مجھے تو یا وہ گوئی محسوس ہورہی ہیں۔میں اگرچہ ٹھوس حوالوں سے ان قیاس آرائیوں کا جائزہ لوں تو موجودہ حکومت کے کئی ناقد مجھ پر مایوسی پھیلانے کا الزام لگانا شروع ہوجاتے ہیں۔کاش میں ٹھوس حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے امید ایجاد کرنے کے قابل ہوتا۔