Site icon Dunya Pakistan

منی لانڈرنگ، شوگر اسکینڈل: شہباز شریف کا جواب 'غیر تسلی بخش' قرار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ اور شوگر اسکینڈل کی تحقیقات میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے جواب کو 'نامکمل اور غیر اطمینان بخش' قرار دے دیا۔

 رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کو ادارے کی 'خواہش' کے مطابق جواب نہیں دینا تھا۔

شہباز شریف کے وکیل اور مسلم لیگ (ن) کے نائب سیکریٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے ایف آئی اے کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں اپنے مؤکل کا جواب جمع کروانے کے بعد کہا کہ شہباز شریف نے ایف آئی اے کے تمام سوالات کا جواب خالصتاً قانونی بنیادوں پر دیا ہے۔'

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ وہ رمضان شوگر ملز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یا ڈائریکٹر تھے اور نہ ہی شیئر ہولڈر تھے، اس طرح ان کا اس کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

منی لانڈرنگ کے الزامات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مسٹر تارڑ نے کہا کہ 'وہ بے بنیاد اور غیر سنجیدہ تھے' کیونکہ نہ تو قومی احتساب بیورو (نیب) اور نہ ہی ایف آئی اے عدالت میں اس حوالے سے کچھ ثابت کر سکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ شہباز تحقیقات میں اس کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے جو سراسر جھوٹ ہے، شہباز اور (ان کے بیٹا) حمزہ دونوں ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا حتیٰ کہ جب وہ کوٹ لکھپت جیل میں تھے اس وقت بھی انہوں نے ایف آئی اے کے تمام سوالات کا جواب دیا اور اس سے قبل جب بھی ادارے نے انہیں طلب کیا وہ ذاتی طور پر حاضر ہوئے۔

رہنما مسلم لیگ ( ن) نے الزام لگایا کہ عمران خان حکومت شہباز کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا چاہتی ہے جس وجہ سے ان کی ہدایت پر یہ 'سیاسی' کیس ان کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ شہباز شریف نے شوگر اسکینڈل کی تحقیقات میں منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق اپنے سوالنامے کا ’نامکمل اور غیر اطمینان بخش‘ جواب جمع کرایا۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف نے 35 میں سے صرف ایک سوال کا جواب دیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ رمضان شوگر ملز کے معاملات میں ان کا کوئی کردار نہیں، ان کے بچے اور بیوی اس مل میں ڈائریکٹر/شیئر ہولڈر ہیں اور اس کے معاملات کا ان سے پوچھا جائے۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ باقی جواب غیر متعلقہ تھے مثلاً یہ کیس سیاسی طور پر محرک تھا، یہ ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش تھی اور ایف آئی اے خصوصاً لاہور ڈائریکٹر کا ان کے ساتھ رویہ 'جارحانہ' تھا۔

Exit mobile version