موٹو ٹنل: ایوبیہ میں انگریز دور کی 130 برس قدیم سرنگ کی بحالی

یہ ذکر ہے کہ لگ بھگ 130 سال پہلے کا جب برصغیر پاک و ہند پر برطانوی راج تھا۔ اس دور میں ہزارہ ڈویژن کے پُرفضا مقام ایوبیہ اور ڈونگا گلی کے درمیان ایک سرنگ بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی اور اس پر فوری عمل درآمد بھی کیا گیا۔

موٹو ٹنل نامی اس سرنگ کی تعمیر سنہ 1891 میں مکمل ہوئی اور یہ سرنگ ایک طویل عرصے تک فعال رہی اور اس سے برطانوی فوجی اہلکار مستفید ہوتے رہے۔ تاہم چند دہائیوں پہلے یہ سرنگ عدم توجہی کی وجہ سے بند ہو گئی تھی اور ایک طرح سے اس پر کچرے کا ڈھیر ڈال دیا گیا تھا۔

یہ ایک تاریخی مقام اور اہم قومی ورثہ تھا جو عدم توجہی کے باعث ضائع ہو رہا تھا۔ لیکن اب اس سرنگ کو اب اپنی اصل حالت میں بحال کر دیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔

مری سے ایوبیہ جانے والے بیشتر سیاحوں کو اب یہ تاریخی مقام بھی دیکھنے کو ملے گا جو برطانوی فوج نے اپنی سہولت کے لیے 130 سال پہلے بنایا تھا۔

ٹنل
،تصویر کا کیپشنسرنگ کا دہانہ، بحالی سے قبل اور بعد میں

تاریخی پس منظر

بنیادی طور پر یہ سرنگ اور ٹریک برطانوی فوج کی آمدو رفت کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس سرنگ کا مقصد انگریز حکومت کی فوج کو یہ سہولت فراہم کرنا تھی کہ انھیں بازار سے نہیں گزرنا پڑتا تھا اور گھوڑا ڈھاکہ موجودہ ایوبیہ اور ڈونگہ گلی یعنی مری کے درمیان سفر کم ہو گیا تھا۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات کے افسر سردار محمد نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس 250 فٹ کی سرنگ سے کوئی دو کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو گیا تھا۔

اس سرنگ کی لمبائی لگ بھگ 250 فٹ ہے، چوڑائی چار فٹ اور اونچائی چھ فٹ ہے جبکہ اس ٹریک کی لمبائی جو ایوبیہ سے ڈونگہ گلی اور مری تک جاتا ہے، اس کی لمبائی 16 کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔

ڈونگہ گلی کے بعد برطانوی فوج کی رجمنٹ باڑیاں منتقل ہو گئی تو سنہ 1930 میں اس سرنگ سے پانی کی پائپ لائن گزاری گئی تھی جس سے گھوڑا ڈھاکہ ایوبیہ سے پینے کا پانی فوج کو فراہم کیا جاتا تھا۔

ٹنل

سردار محمد نواز نے بتایا کہ سنہ 2005 میں پھر پاکستان حکومت نے بھی اسی سرنگ سے پانی کی پائپ لائن بچھائی تھی اس طرح اس سرنگ سے تین پائپ لائنیں گزرتی تھیں جس سے سرنگ سے عام آدمی کا گزرنا مشکل ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1891 کے بعد یعنی اس سرنگ کے بننے کے بعد سے ہی عام سیاحوں کو اس سے گزرنے کی اجازت نہیں تھی اور اس سے صرف برطانوی فوجی گزرتے تھے۔

سردار نواز نے بتایا کہ یہ ایک تاریخی ورثہ ہے اور اس پر ماضی کے آثار اب بھی نمایاں ہیں بعض مقامات پر اس سرنگ سے گزرنے والے فوجیوں کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں لیکن ایک عرصے تک یہ سرنگ کچرے تلے چھپی رہی۔

ٹنل

یہ سرنگ کہاں واقع ہے؟

یہ سرنگ ایوبیہ نیشنل پارک میں واقع ہے اور یہ اس 16 کلومیٹر ٹریک کو حصہ ہے جو ایوبیہ سے کوزا گلی تک جاتا ہے۔ اس ٹریک کا چار کلومیٹر ٹریک ایوبیہ نیشنل پارک سے گزرتا ہے جسے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

سردار محمد نواز نے بتایا کہ ایوبیہ نیشنل پارک سنہ 1984 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا رقبہ 8184 ایکڑ ہے تاکہ یہاں پر پایا جانے والا جنگل، جنگلی حیات اور فلورا محفوظ کیا جا سکے۔

ٹنل

سردار محمد نواز کے مطابق اس سرنگ پر اتنا کچرا پھینکا گیا کہ سرنگ کا دہانہ اس میں چھپ گیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شجر کاری مہم کے دوران کھدائی کے دوران یہ سرنگ دریافت ہوئی لیکن حکام کے مطابق اس سرنگ کے بارے میں معلومات پہلے سے تھیں کیونکہ اس سے پانی کی پائپ لائن گزاری جا چکی تھی۔

ٹنل

سردار محمد نواز نے بتایا کہ اس سرنگ سے کچرے کی صفائی میں آٹھ ماہ لگے اور اس کی بحالی کے لیے امدادی اداروں نے فنڈز مہیا کیے تھے جس کے بعد ایک غیر سرکاری تنظیم نے اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس سرنگ میں بعض مقامات پر چٹان کی اصل حالت میں پتھر بھی موجود ہیں جبکہ بیشتر حصے میں پتھر سے ملتے جلتا میٹریل استعمال کیا گیا ہے۔

اس سرنگ کے اندر خوبصورت روشنیوں کا نظام بھی ہے جبکہ خوبصورت ٹریک کے علاوہ انفارمیشن سینٹر رہنمائی کی سہولت، راستے میں بیٹھنے کے مقامات اور کافی شاپ بھی موجود ہے۔

ٹنل

محکمہ سیاحت کے حکام نے بتایا ہے کہ اس سرنگ سے مقامی لوگوں کو بہت سہولت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ مقامی افراد طویل سفر طے کرتے تھے اور اکثر راستے میں جنگلی حیات کی موجودگی سے ان کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے تھے۔ اب اس سرنگ سے لوگ محفوظ ہوں گے اور ان کا سفر بھی کم ہوگا۔