مکّار اور مجبور

وکی لیکس ہمارے جانے پہچانے کمزور اور نا اہل حکمران طبقے کی بد نما کردار کشی سے عبارت ہے۔ تاہم کچھ چیزیں باعثِ حیرت ہیں:
۱- صدر زرداری سوچتے ہیں کہ فوج اُنہیں قتل کرا دے گی یا منظرِ عام سے ہٹا دے گی۔ ہم یہ بات پہلے ہی جانتے ہیں کیونکہ صدر زرداری یہ ایک سے زیادہ مرتبہ سرِعام فرما چکے ہیں کہ اُنہیں اسٹریچر پر ایوانِ صدر سے لے جایا جا سکتا ہے۔ تاہم ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ایسا ہونے کی صورت میں اُنہوں نے بلاول سے کہہ دیا ہے کہ وہ فریال تالپور کو صدر نامزد کر دے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے یو اے ای کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے خاندان کو دبئی میں قیام کرنے کی اجازت دے دے۔
۲- جنرل کیانی نواز شریف کے ججوں کو بحال کرنے کے لیے کیے گئے لانگ مارچ کے دوران اقتدار پر قبضہ کرنے کا سوچ رہے تھے مگر ایسا کرنے سے صرف اس لیے باز رہے کہ وہ جتنا زرداری صاحب کو ناپسند کرتے تھے اُس سے کہیں زیادہ نواز شریف پر عدم اعتماد کرتے تھے اور وہ یہ لا ئحہ عمل طے کرنے میں ناکام رہے کہ نواز شریف کو اقتدار میں لائے بغیر زرداری سے چھٹکارہ کیسے پائیں؟ ہم یہ بات پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ زرداری کا اقتدار میں آنا فوج کی اُس ناقابلِ حل الجھن کے باعث ہے جس کی رو سے وہ نسبتاً چھوٹی برائی ہیں۔ جو بات ہمارے لیے نئی تھی وہ کیانی صاحب کا امریکی سفیر این پیٹرسن کو یہ اشارۃً بتانا تھا کہا اگر لانگ مارچ کے دوران صورتِ حال بگڑ گئی تو وہ آصف علی زرداری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کریں گے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پندرہ مارچ ۹۰۰۲ کی رات کو وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے چھے گھنٹے ایوانِ صدر میں کیوں بسر کیے؟ وہ یقینا صدر صاحب کو قائل کر رہے ہوں گے کہ فوج کے دباؤ کی صورت میں وہ ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دیں اور جج بحال کر دیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ جنرل صاحب اسفند یار ولی کو منتخب کر چکے تھے جو زرداری صاحب کے استعفے کی صورت میں صدارت کے منصب پر فائز کر دیے جاتے جبکہ گیلانی صاحب کو وزیرِ اعظم برقرار رکھا جاتا۔ اِ س طرح ایک اور جزوی، بلکہ پس ِ پردہ فوجی مداخلت ہوتے ہوتے رہ گئی۔
۳- نواز شریف کی پنجاب حکومت نے انتہا پسند گروہ لشکرِ طیبہ کو خفیہ اطلاح دے دی کہ۸۰۰۲ کے ممبئی حملوں کے بعد یو این او لشکر پر پابندی عائد کرنے والی ہے۔ یہ اطلاع پاتے ہی لشکر نے اپنے تمام بنک اکاؤنٹ خالی کر لیے اس سے پہلے کہ وفاقی حکومت کوئی کاروائی کرتی۔ اِ س بات کا سب کو علم ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف حکومت انتہا پسند گروہوں کے ساتھ نرم روی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ میڈیا میں کچھ رپورٹس گردش میں ہیں کہ شریف حکومت اور دہشت گرد گروہوں میں ’ جیو اور جینے دو ‘ کی ڈیل ہو چکی ہے۔ یہی و جہ ہے کہ پنجاب کی عدالتوں ، جن کی شریف حکومت کے ساتھ وابستگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، نے ان گروہوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ یہ بات حافظ سعید جو لشکرِ طیبہ کے امیر ہیں، کے کیس میں بالکل واضع ہے کہ عدالت نے اُن کو علل اعلان رہا کیا جبکہ سیکورٹی فورسز نے اُن کو گرفتار کیا تھا۔ اُن کی اسطرح رہائی پر بھارت اور بین القوامی برادری کو شدید دھچکا لگا ہے۔
۴- ڈاکٹر عافیہ جن کو حال ہی میں امریکہ میں دہشت گردی کے تحت سزا ہوئی کو کبھی افغانستان میں نیٹو کے فوجی بیس، بگرام میں قید نہیں کیا گیا۔ یہ اطلاع پاکستان میں یقین کی جانے والی خبر کے برعکس ہے۔ امریکی سفارت خانے کے کیبل انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کو ڈاکٹر عافیہ اور اُس کے تین گمشدہ بچّوں کے بارے میں کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں۔
۵- ممبئی حملوں کے بعد گیلانی صاحب نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کو انڈیا کے خوف و خدشات کم کرنے کیلیے وہاں بھجنے کا فیصلہ کیا مگر جنرل کیانی نے وہ فیصلہ رد کر دیا۔ یہاں جس چیز سے ہم لا علم تھے وہ برطانوی حکومت کا شدید ردِ عمل تھا جس کے مطابق بھارت پاکستان کے مشتبہ دھشت گردی کے ٹھکانوں پر حملہ کر سکتا ہے۔ وکی لکیس کے مطابق امریکی ردِ عمل بہت نرم تھا۔ برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور پاکستان میں برطانوی ھائی کمشنر رابرٹ برنکلے جنرل پاشا پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ بھارت جا کر اُن کے غم و غصے کو کم کریں مگر جنرل صاحب نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی۔ برطانوی خفیہ ادارے اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ بھارت بلوچستان میں خفیہ طور پر بلوچ شورش پسندی کی معاونت کر رہا ہے تا کہ پاکستان کی لشکرِ طیبہ کی حمایت کا حساب برابر کر سکے۔ یہ سب کچھ عام فہم باتیں ہیں۔
۶- افغانستان کے ساتھ پاکستان ملّا عمر کے بلوچ قوم پرست رہنما برہمداغ بگتی جو افغانستان میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں کے تبادلے کا سوچ رہا تھا مگر طرفین تبادلے کے قابلِ قبول معاہدہ نہ ہونے کی بنا پر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ گفت و شنید رحمان ملک اور اُن کے افغان ہم منصب اتمر حنیف کے درمیان ہوئی۔ کیبل لیکس یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی UNHCR کے تحت بگتی کو اس خطے سے باہر، غالباً آیرلینڈ میں پناہ دینے کا سوچ رہے تھے مگر جنرل پاشہ بگتی کو پناہ گزیں کی حیثت دینے پر متفق نہ ہوئے۔
اِسطرح کیبل انکشافات کا سلسہ جاری ہے۔ پاکستانی سولین حکومت اور پاکستانی فوج، امریکہ اور پاکستانی فوج، بھارتی اور پاکستانی فوج کے درمیان کشیدہ تعلقات اور اعتماد کے عدم فقدان کی خبروں سے بوجھل یہ لیکس عوام کو حقا ئق کی نئی جہت سے روشناس کرا رہے ہیں۔ کچھ پریشان کن نتائج کی تصدیق بھی ہوئی ہے کہ فوج بہر کیف صدر زرداری عدم اعتماد کرتی ہے، انڈیا کو دشمنِ اوّل سمجھتی ہے، اس خطے میں امریکہ کے کسی مشن جو بھارتی بالا دستی پر متنج ہو کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور لشکرِ طیبہ جس کے شمالیِ وزیرستان میں موجود طالبان کے ساتھ روابط ہیں کی بیخ کنی کے لیے تیار نہیں ہے۔
یہ تمام صورتِ حال پاکستان کے دگرگوں ہوتے ہوئے سیاسی منظر نامے کی غمازی کرتی ہے۔ امرِ واقع یہ ہے کہ پاکستان اندرونی اور بیرونی سیاسی خلفشار کا شکار ہے۔ پوچھے جانے پر پاکستان فوج کے ایک اعلٰی عہدیدار نے صحافیوں کو دی جانے والی بریفنگ میں اعتراف کیا کہ اگلے ایک سال کے دوران پاکستان اور امریکہ اور پاکستان اور بھارت میں دو طرفہ کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *