مکھوٹے، موکھے اور محافظ کی سیاست

سند باد جہازی جولائی 2018کے بعد سے احباب کو خبر کیے بغیر ایک نامعلوم سفر پر نکل گیا تھا۔ آپ سے کیا پردہ، گیا کہیں نہیں تھا، یہیں گھر کے عقبی دالان میں در و دیوار لپیٹے پڑا تھا۔ کالم لکھنے کا دن آتا تو آنکھ پر مصلحت کی پٹی باندھ کر دست لرزیدہ سے کلک شکستہ تھام کر ایران توران کی کہانیاں لکھ دیتا تھا۔ کبھی نئے پرانے ادب کی وادیوں میں نکل لیا تو کبھی کسی غیر معروف فلم کی حکایت بیان کر دی۔ کبھی رفتگاں سے مفارقت کا دکھ لکھا تو کبھی آنے والوں کے نام پیام بری کی مشق لاحاصل۔ آنے والی نسلیں ہمارا مرقومہ پڑھنے سے پہلے یہ بھی تو دریافت کریں گی کہ مصلحین خود بیں نے اپنے عرصہ حیات میں کیا معرکے سر کیے تھے۔ یہ تو یقینی ہے کہ ’زبردست کا ٹھینگا سر پر‘ کا محاورہ ٹکسال باہر ہو چکا ہو گا۔ پرکھوں کی روایت یہی رہی کہ غنیم کی یلغار شہر پناہ تک پہنچتی تو حکمران، اہل دربار اور اہل زر اردگرد کی ولایتوں میں جلاوطن ہو جاتے تھے۔ شہر اور دیہات کے عامی اجلاف حملہ آوروں کے عتاب کا عذاب سہتے تھے۔ ایک تیسری مخلوق کا المیہ الگ تھا کہ قلم و قرطاس کو وسیلہ رزق کیے ہوئے تھی۔ ’طپیدن دل مرغان رشتہ در پا را‘ کا مضمون تھا۔ کچھ نئے حکمرانوں کا قصیدہ لکھتے تو کچھ جنگلوں گپھائوں کی راہ لیتے۔ غالب نے یہی دکھ لکھا تھا، کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ اہل بزم / ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں۔ ایک خاکی صاحب بہادر نے خدا معلوم کس جھونک میں حکم صادر کیا تھا کہ ’چھ ماہ تک مثبت باتیں لکھنا اور بتانا، زنہار اس حکم سے سرتابی نہ ہو‘۔ صاحب تو انہی دنوں کسی اگلی مہم پر راوی دریا کے پار قلعہ دار ہو گئے۔ اس دوران قلم عصائے شیخ ہو چکا۔ لفظ معنی سے جدا ہو چکا۔ ردائے بانو میلی ہو گئی، قبائے خواجہ چاک ہو گئی۔ معیشت دھجی دھجی ہو گئی۔ دنیا میں وطن کی ساکھ زمین بوس ہو گئی۔ لکھنے والے حکم ثانی کے انتظار میں سر نیہوڑائے بیٹھے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک لشکر بے اماں دارالحکومت کی طرف بڑھا تھا۔ اب اس سے ایک معاہدہ مرموز طے پایا ہے۔ اہل اختیار اس معاہدے کی تفصیل بیان کرنے کے مکلف نہیں ہیں۔ تاہم پھر سے حکم ہوا ہے کہ معاہدہ مذکور کے نکات کی کرید نہ کی جائے۔ امن عامہ کے مفاد میں تلنگوں کی اڑائی ہوئی گرد بیٹھنے کا انتظار کیا جائے۔ لکھنے والا اپنے منصب کے تقاضوں سے مجبور رہے۔ صحافی حلف نہیں اٹھاتا، ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ سوال سے روگردانی نہیں کر سکتا۔ پہلا سوال تو یہی ہے کہ اگر معاہدے کی تفصیل معلوم نہیں تو کسی ممکنہ انحراف کی صورت میں کس کی جواب دہی ہو گی؟ ایک علانیہ معاہدہ 30 ستمبر 1938کو ہٹلر اور چیمبرلین میں طے پایا۔ چیمبرلین نے اسے ’امن کی ضمانت قرار دیا تھا‘۔ یہ معاہدہ ٹھیک گیارہ ماہ بعد یکم ستمبر 1939کو پولینڈ کی سرحد پر منہدم ہو گیا۔ ایک خفیہ معاہدہ 23 اگست 1939 کو جرمن وزیر خارجہ ربن ٹروپ اور سوویت وزیر خارجہ مولوٹوف میں طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ 22 جون 1941کو اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ آپ کی اجازت سے دہشت گرد عناصر اور ریاست پاکستان کے درمیان درجنوں معاہدوں میں سے کچھ کی باز خوانی کر لیں۔ اپریل 2004کو شکئی کے مقام پر نیک محمد وزیر سے معاہدہ کیا گیا۔ فروری 2005میں جنوبی وزیرستان کے مقام سرروغہ پر بیت اللہ محسود سے معاہدہ کیا گیا۔ ستمبر 2006 میں شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر سے غیرعلانیہ معاہدہ کیا گیا۔ 21مئی 2008کو معاہدہ سوات پر دستخط کیے گئے۔ جون 2008میں خیبر ایجنسی میں لشکر اسلام سے غیر تحریری معاہدہ کیا گیا۔ اگست 2008میں باجوڑ ایجنسی کے ملا فقیر محمد سے خفیہ معاہدہ کیا گیا۔ 15فروری 2009کو سوات میں صوفی محمد سے معاہدہ کیا گیا ۔ ایسے درجنوں معاہدوں میں سے کوئی معاہدہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بالآخر جون 2014کو ریاست پاکستان کو ٹی ٹی پی کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا پڑی۔

اس سے دو سبق برآمد ہوتے ہیں۔ معاہدہ علانیہ ہو یا خفیہ، وہی کامیاب ہوتا ہے جو مفاہمت کے کسی اصولی فریم ورک اور اقداری ہم آہنگی کی بنیاد پر طے پائے۔ دوسرے یہ کہ اگر قانونی طور پر جائز فریق اپنے غیرقانونی اور درپردہ عزائم کے حامل حریف سے معاہدہ کرے تو اس سے فتنہ پرور گروہ کو تقویت ملتی ہے اور وہ مہلت سے فائدہ اٹھا کر پھر سے حملہ آور ہوتا ہے۔ حالیہ معاہدے میں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ معاہدہ دراصل کن فریقین کے درمیان ہوا ہے۔ منظر عام پر آنے والی تصویریں تو کچھ اور ہی کہانی سناتی ہیں۔ تحریک لبیک کی حالیہ مہم جوئی کو ملک کے مجموعی سیاسی منظر نامے سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان کے مبہم بیانات سے حکومت کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ مبصرین تو یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا تحریک لبیک کی مدد سے آئندہ انتخابی منظر کی صورت گری کی جا رہی ہے۔ ان سوالات کا حتمی جواب فی الحال ممکن نہیں اس لئے مکھوٹے اور موکھے کا کچھ بیان ہو جائے۔ پرانے زمانے میں نقب زن کسی گھر میں سیندھ لگاتے تھے تو دیوار میں نمودار ہونے والے موکھے سے ایک چوبی مکھوٹا اندر داخل کرتے تھے۔ مستطیل لکڑی کے ایک سرے پر انسانی سر نما چوبی چہرہ نقب زنوں کی اصطلاح میں مکھوٹا کہلاتا تھا۔ اگر دیوار کے پار سے اس مکھوٹے پر ضرب لگتی تو معلوم ہو جاتا کہ اہل خانہ بیدار اور مستعد ہیں اور نقب زن بھاگ لیتے تھے۔ 2016 کے بعد سے یہ تو معلوم گیا کہ لبیک تحریک سیاسی نظام کے موکھے میں مکھوٹے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ بتانا بوجوہ ممکن نہیں کہ مکھوٹے کے دوسرے سرے پر کس کا دست اعجاز کارفرما ہے۔

دیکھ اے دست عطا تیری غلط بخشی کو

یہ الگ بات کہ ہم چپ ہیں مگر جانتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: