میانمار میں فوجی بغاوت: سڑکوں پر بکتر بند گاڑیاں کا گشت، انٹرنیٹ سروس معطل اور حزب مخالف رہنماؤں کی گرفتاریاں

میانمار کے کئی بڑے شہروں کی سڑکوں پر فوجی بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی دکھائی دے رہی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یکم فروری کو ملک میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی قوتوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ روز مقامی وقت کے مطابق ملک بھر میں رات ایک بجے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی۔

شمالی ریاست کاچن میں گذشتہ روز سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولیاں برسائیں تھیں۔ ملک بھر میں یہ مارشل لا مخالف مظاہروں کا مسلسل نواں روز تھا۔

اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے میانمار کی فوج پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے میانمار ٹام اینڈریوس نے کہا ہے کہ ایسے سخت اقدامات سے جرنیلوں میں ’بے چینی کی جھلک‘ نظر آرہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ ان جرنیلوں کا ’احتساب کیا جائے گا۔‘

میانمار کے نئے فوجی حکمران جنرل من آنگ ہلینگ
،تصویر کا کیپشنمیانمار کے نئے فوجی حکمران جنرل من آنگ ہلینگ

ملک میں قائم مغربی ممالک کے سفارتخانوں نے فوج سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین، امریکہ اور برطانیہ کے دستخط شدہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سکیورٹی فورسز سے اپیل کرتے ہیں کہ مظاہرین پر تشدد سے گریز کریں۔ یہ لوگ اپنی منتخب حکومت کا تخت الٹائے جانے پر سراپا احتجاج ہیں۔‘

میانمار میں فوجی بغاوت سے آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت گِرا دی گئی تھی۔ ان کی جماعت نومبر کے انتخابات میں بڑی اکثریت کے ساتھ فاتح بن کر سامنے آئی تھی لیکن فوج نے انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بغاوت کا اعلان کر دیا تھا۔

آنگ سان سوچی فی الحال اپنے گھر میں زیر حراست ہیں۔ سینکڑوں سماجی کارکنان اور اپوزیشن رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن

ملک بھر میں لگاتار نویں روز بھی ہزاروں شہری فوج کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں۔

ریاست کاچن کے مٹکینا شہر میں فوجی بغاوت کی مخالفت کرنے والے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں استعمال کی جا رہی ہیں یا اصل گولیاں۔

میانمار میں فوجی بغاوت سے آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت گِرا دی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنمیانمار میں فوجی بغاوت سے آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت گِرا دی گئی تھی

گرفتار کیے گئے افراد میں پانچ صحافی بھی شامل ہیں۔

رنگون میں فوجی بغاوت کے بعد سے پہلی بار بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی دیکھی گئی ہیں۔ یہاں ریلیاں بھی نکالی گئیں جبکہ دارالحکومت نیپیداو میں موٹر سائیکل پر سوار افراد کو قافلے کی شکل میں دیکھا گیا۔

برما میں ٹیلی کام آپریٹرز نے کہا ہے کہ اتوار سے پیر تک (مقامی وقت رات ایک بجے تا صبح نو بجے تک) انٹرنیٹ سروس معطل رکھیں۔

نگراں گروہ نیٹ بلاک کے مطابق میانمار میں انٹرنیٹ ٹریفک معمول کی سطح کی نسبت 14 فیصد کم ہے۔

دارالحکومت میں ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مار رہی ہیں۔

اس ڈاکٹر کی حفاظت کے لیے ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’رات کے کرفیو کے وقت پولیس اور فوجیوں کو موقع ملتا ہے کہ لوگوں کو گرفتار کر سکیں۔‘

’اس سے پچھلے دن وہ گھروں میں گھس گئے تھے اور لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر رہے تھے۔ میں اس لیے اتنا پریشان ہوں۔‘

رنگون میں امریکی سفارتخانے نے امریکی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ کرفیو کے اوقات میں گھروں تک محدود رہیں۔

سنیچر کو فوج نے کہا کہ اپوزیشن کے سات اہم رہنماؤں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ انھوں نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتاری سے بھاگنے والے رہنماؤں کی مدد نہ کریں۔

ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس فوجی بغاوت کو نامنظور کر رہے ہیں اور رات کے چھاپوں کے دوران اپنے برتن بجا کر سکیورٹی فورسز کے اقدام پر احتجاج کر رہے ہیں۔

فوج نے اس قانون کو بھی معطل کر دیا ہے جس میں 24 گھنٹوں سے زیادہ عرصے تک کسی شخص کو عدالت کی اجازت کے بغیر زیر حراست نہیں رکھا جا سکتا۔ انھوں نے ایسا لوگوں کے گھروں کی چھان بین اور تفتیش کی غرض سے کیا گیا ہے۔

اقتدار پر قبضہ

ملک میں گذشتہ سال نومبر میں ہونے والے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی لیکن فوجی کی حمایت یافتہ جماعت یو ایس ڈی پی نے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یو ایس ڈی پی نے انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا۔ ملک کے الیکشن کمیشن نے یکم فروری کو نئی پارلیمان کے اجلاس سے قبل، جس میں نو منتخب حکومت کی توثیق ہونا تھی، دھاندلی کے تمام الزامات کو رد کر دیا۔

میانمار

فوج اور حکومت کے درمیان تعطل پیدا ہو گیا اور فوجی بغاوت کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جانے لگیں۔

من آنگ ہلینگ نے جنوری کی 27 تاریخ کو دھمکی دی کہ اگر ملکی آئین کی پاسداری نہیں کی گئی تو اسے معطل کر دیا جائے گا جیسا کہ اس سے قبل سنہ 1962 اور سنہ 1988 کی فوجی بغاوتوں میں کیا گیا تھا۔

30 جنوری کو ان کے دفتر نے اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے وضاحت جاری کی کہ آئین کو معطل کیے جانے کے فوجی افسران کے بیان کی ذرائع ابلاغ نے غلط تشریح کی ہے۔

لیکن یکم فروری کو فوج نے سٹیٹ کونسلر آنگ سان سوچی، ملک کے صدر ون مینت اور چند دیگر سرکردہ سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔

من آنگ ہلینگ نے فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ہنگامی مدت کے دوران تمام سرکاری اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کی چھان بین کرنے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔

فوج کے سربراہ کے تحت منعقد ہونے والے نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا گیا کہ انتخاب میں دھاندلی کے الزمات کی تحقیقات کرائی جائیں گی اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ اس اعلان سے عملاً گذشتہ انتخابات میں این ایل ڈی کی کامیابی کو رد کر دیا گیا ہے۔

من آنگ ہلینگ اس سال جولائی میں 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے تھے لیکن انھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر کے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر لی ہے۔

میانمار کو اس اقدام سے ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے لیکن من آنگ ہلینگ نے اقتدار پر قبضہ کر کے اپنی پوزیشن کو مستحکم کر لیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: