میاں بیوی کے ’اندھے قتل‘ کی واردات جس نے لاہور پولیس کو چکرا رکھا ہے

کیا حال ہے؟

’میں ٹھیک ہوں بیٹا، آپ سُناؤ۔۔۔ تم سب ٹھیک ہو اور بچے ٹھیک ہیں؟‘

’جی ابو ہم سب بھی ٹھیک ہیں، سُنائیں رمضان کیسا چل رہا ہے؟‘

’بیٹا شکر ہے ﷲ کا، روزے اچھے گزر رہے ہیں۔‘

یہ مکالمہ رواں برس نو مئی کی شام لگ بھگ چار بجے لاہور کے علاقے سبزہ زار کے رہائشی سید انیس الدین اور برطانیہ میں رہائش پذیر اُن کی بہو سائرہ (فرضی نام) کے درمیان بذریعہ ٹیلیفون ہوا تھا۔

جب سائرہ اپنے 70 سالہ بوڑھے سسر انیس الدین سے بات کر رہی تھیں تو عین اُسی وقت انھیں فون پر دستک کی آواز آئی۔ دستک کی اس آواز کے بعد انیس الدین نے یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہ شاید اُن سے ملنے مہمان آئے ہیں، اس لیے وہ بعد میں بات کریں گے۔

سائرہ انیس الدین کے بیٹے سید علی جنید کی اہلیہ ہیں۔

فون منقطع ہونے کے بعد انیس الدین کا دوبارہ فون نہیں آیا۔ اگلے روز علی جنید کو اُن کے ایک خالہ زاد بھائی کی کال موصول ہوئی جنھوں نے آگاہ کیا کہ گذشتہ روز اُن کے والد انیس الدین اور اُن کی سوتیلی والدہ (انیس کی دوسری اہلیہ) 60 سالہ ناصرہ بی بی کو کسی نامعلوم شخص نے تیز دھار آلے سے گلے کاٹ کر بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔

سید انیس الدین ماضی میں اسٹیٹ لائف انشورنس اور دواخانہ حکیم اجمل کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ انیس الدین کی پہلی اہلیہ سنہ 2008 میں فوت ہو چکی تھیں اور اُن سے اُن کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

پہلی بیوی کی وفات کے بعد انیس نے سنہ 2010 میں ناصرہ بی بی سے شادی کر لی تھی۔

قتل

ناصرہ بی بی کی بھی یہ دوسری شادی تھی کیونکہ انھیں کچھ عرصہ قبل اپنے پہلے خاوند سے طلاق ہو چکی تھی۔

انیس الدین کے دونوں بیٹے گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے برطانیہ میں مستقل رہائش پزیر ہیں جبکہ بڑی بیٹی شادی کے بعد لاہور ہی میں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہے۔

انیس نیو ٹاؤن میں واقع اپنے تین منزلہ گھر میں اکیلے اپنی دوسری اہلیہ کے ساتھ رہ رہے تھے جبکہ اوپر والی دو منزلوں پر چار مختلف کرائے دار خاندان گذشتہ کئی برسوں سے رہائش پذیر ہیں لیکن حیران کن طور پر کسی ایک بھی شخص نے دونوں میاں بیوی کے قتل کے دوران چیخنے، چلانے کی آواز نہیں سنی اور نہ ہی اس روز کسی مشکوک شخص کو گھر آتے جاتے یا اس کے آس پاس دیکھا گیا۔

قتل کا علم کیسے ہوا؟

دس مئی کو گھر کی ملازمہ نے حسب معمول صبح 10 بجے کے قریب گھر کے مرکزی دروازے پر دستک دی لیکن کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ عین اسی وقت انیس الدین کی سالی جن کا گھر انیس قریب ہی تھا وہاں سے گزر رہی تھیں، انھوں نے ملازمہ سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔

ملازمہ کے بتانے پر انیس الدین کی سالی گھبرا گئی اور اس نے فوراً اپنے بیٹے کو بلایا جس نے کرائے داروں سے مرکزی دروازے کی چابی لی۔

انیس الدین کے تمام کرائے دار اوپر والی منزلوں پر جانے کے لیے علیحدہ علیحدہ دروازے استعمال کرتے تھے جبکہ عمارت کا مرکزی دروازہ ایک ہی تھا۔

جب مرکزی دروازہ کھول کر یہ سب لوگ اندر داخل ہوئے تو گھر کے ڈرائنگ روم، جہاں سے گزر کر بیڈ رومز تک جایا جاتا ہے، کا دروازہ بھی کھلا ہوا پایا گیا جبکہ بیڈ روم میں انیس الدین خون میں لت پت اوندھے منھ پڑے تھے۔ کمرے میں ہر طرف خون ہی خون تھا۔ ان کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف بندھے ہوئے تھے اور قاتلوں نے ان کے منھ میں کوئی ڈوپٹہ دیا ہوا تھا تاکہ وہ کوئی آواز نہ نکال سکیں۔

انیس الدین
،تصویر کا کیپشنناصرہ بی بی کے کمرے میں سارا سامان بکھرا ہوا تھا

اسی طرح ساتھ والے کمرے میں اُن کی اہلیہ ناصرہ بی بی کی بھی خون میں لت پت لاش پڑی ہوئی تھی۔

دونوں کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹے گئے تھے جبکہ اس کے علاوہ بھی ان کے جسموں پر چھریوں کے وار کے مختلف نشانات موجود تھے۔

ناصرہ بی بی کے کمرے میں موجود تمام الماریاں ایسے کھلی ہوئی تھیں جیسے ان کی تلاشی لی گئی ہو اور پورے کمرے میں چیزیں بکھری ہوئی پڑی تھیں۔ ناصرہ بی بی کے کمرے میں جیولری کے خالی ڈبے بھی بیڈ پر پڑے تھے اور پرانے موٹرولا موبائل فون سمیت ان کے دونوں فونز بھی غائب تھے۔

لیکن اس کے برعکس انیس الدین کے کمرے میں منظر یہ نہیں تھا حتیٰ کہ ان کے بیڈ کے دراز میں موجود 11 لاکھ روپے کی نقدی کو چھیڑا تک نہیں گیا تھا اور نہ ہی مقتول کے دو فون جن میں ایک آئی فون بھی تھا قاتل اپنے ساتھ لے کر گئے تھے۔

گھر والوں نے یہ منظر دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی اور اس طرح کچھ دیر میں پولیس اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔

فرانزک کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے کل 10 کے قریب مختلف نمونے اکھٹے کیے جن میں کچن میں استعمال ہونے والی چھری جسے آلہ قتل تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ ملزمان اسے دھو کر تو گئے تھے لیکن تھوڑا خون اس پر رہ گیا تھا۔

قتل

اس کے علاوہ دستانے، خون کے نمونے، دو عدد گلاس جو ڈرائنگ روم میں جگ کے ساتھ میز پر پڑے ہوئے تھے اور جن میں تھوڑا تھوڑا شربت بھی تھا، ایک عدد جگ اور دیگر اشیا بھی ملیں جنھیں مزید جانچ کے لیے فرانزک سائنس ایجنسی کی لیبارٹری بھجوا دیا گیا۔

دوسری طرف پولیس نے ملازمہ اور کرائے داروں سمیت مقتول انیس الدین کے قریبی رشتہ داروں اور ہمسائیوں کے بیانات بھی قلمبند کیے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھجوا دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول انیس الدین کو قتل کے روز آخری بار ان کے کرائے داروں نے پودوں کو پانی دیتے دیکھا تھا۔

کرائے داروں میں سے ایک کاشف نامی شخص نے پولیس کو بتایا اس نے گذشتہ روز گیٹ کے اندر سرخ رنگ کی ایک ہنڈا 125 کھڑی دیکھی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ اور چونکا دینے والے انکشافات

بی بی سی کو موصول ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول انیس الدین کے جسم پر گلے کے علاوہ، سینے، بازووں اور انگلیوں پر تیز دھار آلے سے کل چار وار کیے گئے تھے جبکہ ناصرہ بی بی کے جسم پر گلے کے علاوہ، سر کے پچھلے حصے، چھاتی، سینے اور پیٹ پر کل نو وار کیے گئے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دنوں مقتول میاں بیوی خالی پیٹ تھے جس سے بظاہر لگتا ہے کہ وہ دونوں روزے کی حالت میں تھے اور انھیں افطاری سے قبل ہی قتل کر دیا گیا تھا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایک حیران کن پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ مقتول انیس الدین کے عضو تناسل کو کاٹا گیا تھا اور صرف دو سینٹی میٹر حصہ ہی جسم کے ساتھ رہ گیا تھا، مگر یہ زخم تازہ نہیں بلکہ پرانا تھا۔

ان کے بیٹے علی جنید سمیت خاندان کے کسی فرد کو نہیں پتا تھا کہ ان کے مقتول والد نے خود کسی بیماری کی وجہ سے عضو تناسل کا آپریشن کروایا تھا یا ان کے ساتھ کوئی اور حادثہ پیش آیا تھا۔

علی جنید کے مطابق اگر ان کے مقتول والد کو کوئی بیماری ہوتی جس کی وجہ سے انھیں اس طرح کی کوئی سرجری کروانے کی ضرورت پیش آتی تو وہ کسی نہ کسی کو ضرور بتاتے۔

پرفیکٹ کرائم یا پولیس تفتیش میں کوتاہیاں؟

پولیس اہلکار

لاہور کے تھانہ سبزہ زار میں پیش آئے دوہرے قتل کی تفتیش کو لے کر لاہور پولیس اگر حیران نہیں بھی ہے تو چکرا ضرور گئی ہے کیونکہ قتل کی اس واردات کو گزرے تین ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن تفتیش کاروں کے ہاتھ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی ایک سراغ بھی ایسا نہیں لگا جس سے وہ قاتلوں تک پہنچ سکیں۔

تو کیا یہ ایک پرفیکٹ کرائم ہے؟ کیا یہ ایک ایسی واردات ہے جس میں ملزمان نے جائے وقوعہ پر کوئی ایک سراغ بھی ایسا نہیں چھوڑا جس سے وہ کبھی پکڑے بھی جا سکیں گے یا پھر پولیس تفتیش میں ہی کوئی کمی رہ گئی ہے؟

ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور شارق جمال خان کے مطابق کسی بھی جرم کو ہم کبھی بھی ’پرفیکٹ کرائم‘ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ملزمان جرم انجام دیتے ہوئے کوئی نہ کوئی ثبوت ضرور چھوڑتے ہیں جس سے تفتیش آگے بڑھتی ہے اور اس کیس میں بھی ہم بہت سے پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر تفتیش کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

پولیس نے دونوں میاں بیوی کے قتل کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 302 (قتل) کے تحت درج کیا ہے جبکہ حیران کن طور پر پولیس نے اس مقدمے میں چوری یا ڈکیتی کی کوئی دفعات شامل نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب مقتول انیس الدین کے صاحبزادے علی جنید جو کہ خود برطانیہ میں ایک نجی سکیورٹی کمپنی چلاتے ہیں پولیس تفتیش سے کچھ نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ علی جنید کہتے ہیں کہ پولیس تفتیش میں سست روی سے کام لے رہی ہے کیونکہ ابھی تک وہ کسی ایک مشکوک بندے تک بھی نہیں پہنچ پائی۔

علی جنید کے مطابق قتل کی اطلاع ملتے ہی انھوں نے فلائٹ لی اور اگلی صبح پاکستان پہنچ کر انھوں نے گھر کے آس پاس اور ملتان روڈ سے ایک مشکوک شخص اور ایک سرخ رنگ کی مشکوک کرولا کار کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکال کر پولیس کو دی تھی لیکن پولیس تاحال اس مشکوک شخص اور نہ ہی اس مشکوک گاڑی کو ٹریس کر پائی ہے۔

علی جنید نے مزید بتایا کہ قتل کے بعد سے ہی وہ انصاف کے لیے پولیس کے مختلف دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ان سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔

علی جنید نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی سست روی کی وجہ سے انھوں نے کیس کی تفتیش سی آئی اے منتقل کروانے کے لیے 24 مئی کو اعلیٰ پولیس حکام کو درخواست بھی دی تھی لیکن تاحال ا س پہ عمل درآمد نہیں ہوا، بس انھوں نے تفتیشی افسر تبدیل کر دیا ہے۔

علی جنید کے مطابق ان کی سوتیلی والدہ ناصرہ بی بی کا ایک فون قتل کے تین روز بعد یعنی 12 مئی کو آن ہوا تھا کیونکہ انھوں نے اس نمبر کے واٹس ایپ کی لاسٹ سین لوکیشن نوٹ کی تھی لیکن کچھ ہی روز بعد اس نمبر سے واٹس ایپ اپلیکیشن ہی ڈیلیٹ کر دی گئی۔

علی جنید کے مطابق انھوں نے یہ بات بھی پولیس کو بتائی تھی تاکہ وہ اس لوکیشن کو نکلوا سکیں جہاں وہ نمبر ایکٹیو ہوا تھا جس سے قاتلوں کا کوئی سراغ ملتا لیکن پولیس ابھی تک وہ لوکیشن بھی ڈھونڈ نہیں پائی۔

علی جنید کے دعوے کے مطابق قتل سے لگ بھگ ایک ہفتہ قبل یعنی 28 اپریل کو ایک شخص اُن کے والد کو ملنے کے گھر پر آیا تھا جسے ان کی ملازمہ نے بھی دیکھا تھا لیکن اس کا خاکہ بھی ابھی تک نہیں بن سکا۔

انیس الدین
،تصویر کا کیپشنانیس الدین کی قتل سے چند روز قبل اہلیہ کے ہمراہ لی گئی تصویر

لاہور میں سوا لاکھ سے زائد کیسیز اور صرف 800 تفتیشی افسران؟

ڈی آئی جی شارق جمال خان کہتے ہیں کہ لاہور ایک بڑا شہر ہے جہاں اس نوعیت کے کیسز کی تعداد زیادہ ہے لیکن ان کے تفتیش کار اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اس کیس کے ملزمان کو جلد از جلد پکڑیں۔

’بعض اوقات تفتیش میں فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کی وجہ سے بھی دیر ہو جاتی ہے۔‘

شارق جمال خان نے بتایا کہ جنوری 2020 سے دسمبر 2020 تک صرف لاہور شہر میں ایک لاکھ 35 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ان کے پاس ان کیسیز کی تفتیش کے لیے صرف 800 پولیس اہلکار دستیاب ہیں جس سے کارکردگی پر یقیناً اثر پڑتا ہے۔

ابتدائی طور پر اس کیس سے منسلک تفتیشی افسر انچارج انویسٹیگیشن سبزہ زار سب انسپکٹر منصب خان کہتے ہیں کہ سی ڈی آر اور جیو فینسنگ کی رپورٹس آ گئی ہیں لیکن بد قسمتی سے اس کیس میں ابھی تک کوئی لیڈ نہیں مل سکی۔

’ہم ہر زاویے سے اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے بھی تفتیش آگے بڑھا رہے ہیں۔‘

سب انسپکٹر منصب خان کے مطابق کھاڑک نالے کی طرف میٹرو ٹرین کی وجہ سے کیمرے خراب ہیں جن کی ابھی تک مرمت نہیں ہوئی جس سے سرخ رنگ کی مشکوک کرولا کار کو ٹریس کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اُن کے مطابق انھوں نے ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ لاہور کو واٹس ایپ ایکٹیو ہونے کی آخری لوکیشن کا پتا لگانے کے لیے لکھ دیا ہے اور رپورٹ کے انتظار میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پولیس تفتیش میں کسی بھی طرح کی سست روی سے کام لے رہی ہے۔ ’ایسے اندھے قتل کو ٹریس کرنے پر اعلیٰ حکام سے ہمیں انعام بھی ملتا ہے تو بھلا ہم کیوں سستی سے کام لیں گے۔ ہم خود چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد ملزموں تک پہنچیں۔‘

تفتیش سے منسلک ایک اعلیٰ پولیس ذریعے کے مطابق دوران تفتیش انیس الدین کے گھر سے ناصرہ بی بی کی ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک ڈائری بھی ملی ہے جس کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ اس کے ساتھ مقتول کے گھر سے 14 لاکھ روپے کے زیورات کی پرانی رسیدیں بھی ملی ہیں لیکن زیور موجود نہیں ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں میاں بیوی کے تعلقات کافی کشیدہ تھے کیونکہ دونوں اکثر جھگڑتے رہتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *