’میرا جسم میری مرضی‘ یا مضبوط خاندان؟

'میراجسم، میری مرضی‘ کا نعرہ عورت کے حقوق کا ضامن ہے یا 'مضبوط خاندان‘ عورت کو محفوظ بناتا ہے؟
ہر سال، 8 مارچ کو یومِ خواتین کے موقع پر ہمارے ہاں یہ بحث زندہ ہو جاتی ہے۔ حسبِ روایت ہم دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ردِ عمل کی نفسیات ہمیں دو انتہائوں کی طرف لے جاتی ہے۔ مآل کار، گروہی مفاد غالب رہتا ہے اور ہم اس کے تحفظ کو مقصد بنا لیتے ہیں۔ تنظیم سازی ہوتی ہے کہ کیسے مخالفین کے مدِمقابل اپنے وجود کو محفوظ بنایا جائے۔ خواتین کے حقوق ایک کونے میں کھڑے ہمارے منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔
صرف حقوقِ نسواں نہیں، ہر معاملے میں ہمارا رویہ یہی ہے۔ کہنے کو ہم مذہب کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن اس ایک مقصد کے لیے بلامبالغہ ہزاروں تنظیمیں قائم ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ اگر مقصد میں وحدت ہے تواس کے علمبرداروں میں یہ تنظیمی تعدد اور اختلاف کیوں؟ اہلِ سیاست جمہوریت کو مقصد قرار دیتے ہیں اور عملاً دوسرے کے وجود کومٹانا چاہتے ہیں۔ سوال یہاں بھی وہی ہے کہ وحدت میں یہ کثرت کیسی؟
حقوقِ نسواں کے باب میں ایک وجہ توفکری ہے۔ یہ دونوں نعرے دو مختلف نظریات سے پھوٹے ہیں۔ 'میرا جسم، میری مرضی‘ نے لبرل ازم کی کوکھ سے جنم لیا ہے جو انسان کی مطلق آزادی کوایک قدر مانتا ہے۔ اس میں کسی مذہب، قانون اور رشتے کا یہ حق تسلیم نہیں کیا جاتاکہ وہ فرد کی آزادی پر کوئی قدغن لگائے۔ دوسرا نعرہ مذہب کی دین ہے۔ اس میں انسان خدا کا بندہ اور اس کے احکام کا تابع ہے، مطلق آزاد نہیں۔
پہلا نعرہ غیرفطری ہے۔ یہ ناممکنات میں سے ہے۔ انسان کو لازماً کسی نظم کا پابند رہنا ہے۔ اگر وہ پابندی کوقبول نہ کرے تو کوئی ریاست وجود میں آسکتی ہے نہ کوئی معاشرہ۔ انسان قانون کا پابند ہوکر ایک ریاست کا شہری بن سکتا ہے اور ایک نظامِ اقدار کو قبول کرکے ہی ایک سماج کا رکن بن سکتا ہے۔ مطلق آزادی انسان کوکبھی میسر رہی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے فطرت کاپیغام بھی یہی ہے۔ 'صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پا بہ گل بھی ہے‘۔ جس طرح انسان اپنی جائے پیدائش کے انتخاب کے لیے قوانینِ فطرت کا پابند ہے، اسی طرح جینے کے لیے بھی وہ سماجی و سیاسی ضوابط کا پابندہے۔
مذہب کا مقدمہ بھی بعض اوقات انتہا پسندانہ تعبیروں کا قیدی بن جاتا ہے۔ ہم انسانی آرا اور تفہیم کو خدا کا قانون بناکر پیش کرتے ہیں اور پھراس پر اصرار کرتے ہیں۔ اس سے ایک ردِ عمل پیدا ہوتا ہے۔ مذہبی تعبیرات میں بھی تعدد ہے۔ ہمیں ان پر غور کرنا چاہیے اور اس باب میں انسان کو آزاد چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ کیا تعبیر اختیار کرتا ہے تاہم اس باب میں جو بنیادی بات کہی جا رہی ہے وہ عورت کے تحفظ کے لیے خاندان کی مضبوطی کا لازم ہونا ہے۔ اس سے اختلاف محال ہے۔
ایک بات البتہ پیشِ نظر رکھنا ہوگی: کوئی فکروفلسفہ سماجی حالات اور حرکیات سے بے نیاز ہو کر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ ہر فلسفہ سماج کو مثالی صورت دینا چاہتا ہے لیکن سماج سے مخاطب ہوتے وقت وہ اس کی موجود کیفیت سے صرفِ نظر نہیں کرسکتا۔ یہ لبرل ازم ہو یا مذہب، اسے دیکھنا ہوگا کہ سماج کہاں کھڑا ہے؟ اس کے پیشِ نظر ایک صنعتی معاشرہ یا زرعی؟روایتی ہے یا جدید؟ اس کے ساتھ انسان کا ایک سماجی رویہ ہے جو صدیوں سے ایک روش پر چل رہا ہے۔ ان دونوں سے ایک طرف تہذیبی تسلسل جنم لیتا ہے اور دوسری طرف ارتقا کے ساتھ ہم آہنگی۔ ان کے امتزاج ہی سے معاشرہ مستحکم ہوتا ہے۔
ہم اس اصول کا خواتین کے حقوق پر اطلاق کرتے ہیں۔ عورت کی سماجی حیثیت وقت کے ساتھ تبدیل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ معاشرتی ارتقاہے۔ قبائلی معاشرت میں، مضبوط جسم اور اعضا، اگر مارکس کی اصطلاح مستعار لی جائے تو‘ ذرائع پیداوار میں شامل تھے۔ جس کے پاس زیادہ بازو ہیں، وہ وسائل پر قبضے کی زیادہ صلاحیت رکھتاتھا۔ گویا انسانی قوت کا مرکز جسم تھا۔ اس سے نرینہ اولاد کی برتری کے تصور نے جنم لیا اور لوگوں نے خواہش کی کہ ان کے بیٹے زیادہ ہوں۔
صنعتی معاشرے میں قوت کا مرکز جسم کے بجائے دماغ قرار پایا۔ خواتین کی دماغی صلاحیت مردوں سے کم نہیں تھی۔ یوں اولادِ نرینہ کا تصور پس منظر میں جانے لگا کیونکہ اب خاتون بھی اتنی ہی توانا شمار ہوتی تھی جتنا مرد۔ اس طرح خواتین کے بارے میں سماجی رویے بھی تبدیل ہو نے لگے اور جنسی مساوات کے تصور نے جنم لیا۔ یہ مذہب ہو یا کوئی دوسرا نظریہ، وہ اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ اس کا مخاطب صنعتی دور ہے یا قبل از صنعتی انقلاب کا عہد۔
بایں ہمہ، انسان کو ہمیشہ اپنی حفاظت کے لیے اپنے گرد ایک دفاعی حصار کی ضرورت رہی ہے۔ یہ اس لیے کہ کوئی طاقتور اس کے انسانی حقوق کو سلب نہ کرے۔ پھر یہ کہ وہ فطری طور پردوسروں کا محتاج بنایا گیا ہے۔ اسے اپنے مادی اور نفسیاتی وجودکی بقا کیلئے دوسرے انسانوں کی مدد چاہیے۔ اسی سے حقوق و فرائض کے تصور نے جنم لیا۔ جہاں حقوق و فرائض ہوں وہاں لازم ہے کہ آپ کچھ پابندیاں قبول کریں۔
تحفظ کی اسی ضرورت نے ریاست اور خاندان جیسے اداروں کو جنم دیا۔ ان دونوں اداروں کے استحکام کیلئے انسان نے مطلق آزادی کے حق سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ اس کے بغیر کوئی سیاسی یا سماجی ادارہ وجود میں نہ آسکتا۔ اب سیاسی آزادی پہ قدغن کو توبخوشی قبول کر لیا گیا لیکن سماجی معاملے میں مطلق آزادی کی بات کی گئی۔ لبرل طبقے کا یہ تضاد ہے جو میرا جسم، میری مرضی جیسے نعروں کا کھوکھلا پن واضح کر رہا ہے۔
مذہب کا مقدمہ واضح ہے۔ خواتین کے باب میں ہدایات دیتے وقت قرآن مجید نے سماجی حالات کو پیش نظر رکھا۔ اگر معاشرہ فساد کی طرف مائل ہے اور عدم استحکام کا شکار ہے تو خواتین کو باہر نکلتے وقت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ اس بات کو سورہ احزاب میں بیان کر دیا۔ اگر معاشرہ مستحکم ہے اور خواتین محفوظ ہیں تو اس کے احکام سورہ نور میں دے دیے۔ اب مذہب کی تعبیر کرنے والوں نے اس فرق کو ختم کردیا اور سورہ احزاب کے احکام کو ایک محفوظ اور مستحکم معاشرے سے متعلق قرار دے دیا۔ یوں خواتین کو ایک مشکل صورتحال سے دوچارکردیا جو شریعت کا منشانہیں تھا۔
یہ مرد ہو یا عورت، دونوں کو خود پر چند پابندیاں قبول کرنا پڑتی ہیں۔ اس کے بغیر کوئی سماج قائم رہ سکتا ہے نہ ریاست۔ اسی طرح دین کی کوئی ایسی تعبیر بھی نظرثانی کی محتاج ہے جو معاشرتی حالات سے متصادم ہے یا ان سے صرفِ نظر کرتی ہے۔ جس طرح ایک مضبوط ریاست ایک شہری کی حفاظت کر سکتی ہے، اسی طرح ایک مضبوط خاندان ہی ایک عورت کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ تحفظ کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ فرد کے شخصی ارتقا کو روک دیا جائے۔
مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو شہری کی شخصی آزادی اور ارتقا کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے اور اس پر وہی پابندیاں لگائے جو اس کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں۔ ریاست سائبان کی طرح ہوتی ہے، جانوروں کے باڑے کی طرح نہیں۔ سائبان گرمی سردی سے محفوظ رکھتا ہے، حرکت کو روکتا نہیں ہے۔ اسی طرح خاندان، مرد ہو یا عورت، اس کے فطری ارتقا کا ضامن ہے، کوئی قید خانہ نہیں۔
مرد ہو یا عورت اس کے شہری حقوق کے تحفظ کے لیے لازم ہے کہ ریاست جمہوری ہو۔ اسی طرح ایک فرد، مرد ہو عورت، اس کے نشوونما کیلئے لازم ہے کہ خاندان اور رشتے اس کے وجود کو تسلیم کریں اور اس کے ارتقا میں معاون ہوں۔ استبداد سیاسی ہو یا سماجی، فرد کیلئے زہرِ قاتل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *