میری دنیا کے غریبوں کو کون جگائے گا؟

امریکہ میں مقیم آفاق خیالی میرے محترم دوست ہیں، وہ نیویارک سے اردو اخبار بھی نکالتے رہے ہیں جو نارتھ امریکہ کا واحد اردو اخبار تھا جو ایک مستند صحافی کی زیر ادارت شائع ہوتا تھا، پاکستان میں آفاق خیالی کا سارا کیریئر صحافت کا تھا، وہ اس وقت ایک منجھے ہوئے صحافی تھے، جب پاکستان سے امریکہ جا کر آباد ہوئے۔ گزشتہ روز شائع ہونے والے میرے کالم ’’جب تاج اچھالے جائیں گے‘‘ کے حوالے سے فون پر گفتگو کے دوران انہوں نے ایک کمال کی بات کہی اور وہ یہ کہ ہم لوگ غریبوں کو باعزت زندگی اور ان کے حقوق جو سلب کر لئے گئے ہیں، کے حوالے سے چاہے جتنا مرضی لکھیں، ہمارا لکھنا اُس وقت تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا جب تک یہ پسا ہوا طبقہ خود اپنے لئے آواز نہیں اٹھاتا۔ آفاق خیالی نے بہت کمال کی بات کہی اور وہ یہ کہ ہم لوگ مذہبی تہوار منانے کے لئے جوق در جوق سڑکوں پر آتے ہیں، لاکھوں لوگ بیماری غربت اور بےروزگاری کے مداوا کے لئے بزرگانِ دین کے مزاروں پر حاضری دیتے ہیں، یومِ آزادی پر سارا ملک گھر سے باہر سڑکوں پر نظر آتا ہے مگر اپنے حقوق کے حصول کے لئے باہر نکلنے کی بجائے اپنے تاریک گھروندوں میں روتے اور بھوک سے بلکتے ہوئے گزارتے ہیں۔ اگر یہی لاکھوں لوگ صرف چند دنوں کے لئے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کی سڑکوں پر دھرنا دینے کا اراہ کر لیں تو بغیر خون خرابہ کئے ایک ایسے معاشی نظام کی راہ ہموار ہو جائے گی جس کے نتیجے میں کوئی غریب سسک کر اپنی زندگی نہیں گزارے گا اور کوئی امیر غلاظت کی حد تک اتنا امیر نہیں ہو سکے گا کہ وہ غریبوں کو پائوں تلے روندتا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے۔ شاہ ولی اللہؒ کے مطابق کھیت صرف کاشتکاروں کے ہوں گے، جاگیرداری نظام ختم ہو جائے گا اور شاہ ولی اللہؒ کی یہ خواہش پوری ہو جائے گی کہ زمیندار کے پاس صرف اتنی زمین ہو گی جتنی وہ خود کاشت کر سکتا ہو۔ اسی طرح عوامی یلغار کے نتیجے میں تنخواہوں کا تناسب ایک سے سو نہیں بلکہ ایک سے پانچ یا زیادہ سے زیادہ دس ہوگا اور یوں قائداعظمؒ اور اقبالؒ کی وہ فلاحی مملکت وجود میں آئے گی جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا اور قوم کو یہ خواب دکھایا تھا۔

آپ یہ دیکھیں کہ پاکستان کے طبقات آہستہ آہستہ اور علیحدہ علیحدہ ایک جھنڈے تلے جمع ہوتے جا رہے ہیں، ڈاکٹر ایک جھنڈے تلے جمع ہیں، وکیل ایک جھنڈے تلے نظر آتے ہیں، اسی طرح بیورو کریسی، عدلیہ، سرمایہ دار، کاروباری حضرات، ان میں سے بیشتر اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر آتے ہیں، کچھ کو اس کی ضروری بھی نہیں پڑتی اور یوں ان کے مفادات کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ بس ایک غریب ہے جو 74برس سے رات کو سوتے میں سہانے خواب دیکھتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ اس کے بچے پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے ہیں، اگر وہ بیمار ہیں تو ان کا علاج اسی پیمانے پر ہو رہا ہے جس پیمانے پر امرا کا علاج ہوتا ہے، اس کی بیٹی کی شادی بھی باعزت طریقے سے ہو رہی ہے اور اس کے علاوہ اسے زندگی کی وہ ساری سہولتیں اور راحتیں میسر ہیں، جو دوسرے طبقات کو حاصل ہیں مگر جب ان کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ داستانوی ابو الحسن کی طرح اپنی کٹیا میں پڑا ہوتا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں بائیں بازو کی تحریکیں قدرے فعال تھیں، ان کے دانشور بھی جیلوں میں جاتے تھے، میں ان لوگوں کے تمام افکار سے کبھی متفق نہیں رہا اور مجھے ان کا مذہب کا تمسخر اُڑاتااور اخلاقیات کی اپنی تشریح کا انداز بھی کبھی پسند نہ آیا بلکہ یہ چیزیں انقلاب کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنیں مگر اب تو کچھ بھی نہیں ہے، اسلامی جماعتیں تجریدی اسلام کی پیروکار اور مبلغ ہیں، بائیں بازو کے دانشور بس ایک دوسرے کو ’’کامریڈ‘‘ کہہ کر بلاتے اور خوش ہوتے ہیں۔ ان کے بڑے دانشور ترکِ وطن کر کے برطانیہ جا چکے ہیں تاہم اپنے نظریات پر قائم ہیں اور پاکستان کے مکروہ معاشی نظام کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ مگر جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا جب تک عوام لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر دھرنا نہیں دیں گے اور پاکستان کو قائدؒ اور اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر بنانے کے لئے جدوجہد نہیں کریں گے اس وقت تک کچھ نہیں ہو گا۔ اب مسئلہ ان کی قیادت کا ہے تو جب اس طرح کی تحریکیں وجود میں آتی ہیں تو ایک تو ان کا محرک کوئی دردِ دل رکھنے والا انسان ہوتا ہے اور پھر ان تحریکوں کی قیادت بھی عوام میں سے ہی اُبھرتی چلی جاتی ہے۔ بائیں بازو کے دانشوروں سے میری گزارش ہے کہ وہ عوام کو مارکس اور لینن کی ایسی تھیوریاں نہ پڑھائیں جو ان کی سمجھ سے بالا ہیں بلکہ ان کے لیول پر آ کر انہیں ان کے مسائل کا حل بتائیں۔ مجھے یقین ہے بلکہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ دائیں بازو میں بھی ایسے دانشور موجود ہیں جو ان کے کاندھے کے ساتھ کاندھا ملا کر چلنے کے لئے تیار ہیں۔ اور یوں ایک مشترکہ جدوجہد زیادہ بار آور ہو سکتی ہے۔

آخر میں اقبالؒ کے چند اشعار جو ریڈیو ٹی وی پر بین ہیں؎

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو

گرماؤ غلاموں کا لہو ذوقِ یقیں سے

کنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

میں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سے

میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *