میری عینک، میرا ’ورلڈ ویو‘

میں نو عمری کے زمانےمیں ایک انگریزی اخبار میں کام کیا کرتا تھا، وہ اخبار اُس گروپ کا تھا جو دائیں بازو کا نظریاتی اردو اخبار نکالتا تھا سو ایک عمومی تاثر یہ تھا کہ انگریزی اخبار کی پالیسی بھی اردو اخبار جیسی ہوگی۔ تاہم حیرت انگیز طور پر یہ انگریزی اخبار اپنے اردو پیٹی بند بھائی سے بالکل مختلف تھا۔ یہ اخبار قدرے جدید رجحانات کو فروغ دیتا تھا، اس میں نسبتاً سیکولر سوچ کے حامل افراد کالم لکھتے تھے، ادارتی بورڈ میں زیادہ تر جدید وضع قطع کے انگریزی بولنے والے صحافی شامل تھے، فیشن ایبل داڑھیوں والے مدیر تھے جبکہ رپورٹنگ کا شعبہ بھی ایسے نوجوانوں پر مشتمل تھا جو اُس زمانے کے حساب سے ’ماڈ اسکاڈ ‘ کہلاتے تھے۔ میں جب اخبار کے رپورٹنگ سیکشن میں بھرتی ہواتوایک نئی دنیا مجھ پر آشکار ہوئی۔ یہ دنیا اُس سے بالکل مختلف تھی جو اُس وقت تک میرے تجربے میں آئی تھی۔میں اُس گھر سے آیا تھا جہاں سالہا سال سے وہی نظریاتی اردو اخبار پڑھا جاتا تھا، میرے والد صاحب اُس میں کالم لکھتے تھے، گھر میں بھی ہم خیال ادیبوں اور صحافیوں کا آنا جانا تھا، جو کچھ میں اِن بڑے بزرگوں کی محفل میں سنتا وہی سب میرے اسکول میں بھی پڑھایا جاتا تھا۔ یوں اوائل عمری میں ہی میرا ایک ’ورلڈ ویو‘ (مطمح نظر )بن گیااور دنیا کو دیکھنے کے لئے میں نے ایک عینک آنکھوں پر چڑھا لی جس کے پار مجھے صرف وہی بات درست نظر آتی تھی جو میرے ورلڈ ویو سے مطابقت رکھتی تھی، باقی تمام نظریات کو میں حقارت کی نظر سے دیکھتاتھا اور مخالفانہ نظریات رکھنے والوں کو پرلے درجے کا احمق سمجھتا تھا۔انگریزی اخبار کے برعکس اردو اخبار کی دنیا بالکل میرے ورلڈ ویو کے مطابق تھی، اُس کا دفتر بھی اسی عمارت میں چوتھی منزل پر تھا، انگریزی اخبار کاکوئی رپورٹر اردو اخبار والی منزل پر جانا پسند نہیں کرتا تھا لیکن میں اکثر اردو اخبار کے دفتر جا کر بیٹھ جاتا تھا، وہاں کے صحافی اور رپورٹر بالکل میری سوچ کے حامل تھے، وہاں مجھے اجنبیت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ قصہ مختصر،انگریزی اخبار والے میرے نظریاتی ورلڈ ویو کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، اپنے نظریات کی جو عینک مجھے گھر، اسکول اور کالج میںچڑھا ئی گئی تھی، وہ میری آنکھوں سے نہیں اتری۔

وقت گزرتا گیا۔ اخبار کی نوکری چھوڑ کر میں سرکار کی نوکری میں آ گیا۔وہاں مجھے ایک اور عینک لگ گئی، سرکاری نقطہ نظرکی عینک۔ہماری تربیت ہی کچھ ایسی ہوئی کہ ہم ہر چیز کو فقط سرکاری رپورٹوں کی روشنی میں دیکھنے کے عادی ہو گئے، ہمیں یہ ادراک ہی نہ ہو سکا کہ ایک نقطہ نظر عوامی بھی ہوتا ہے اور وہ بھی درست ہو سکتا ہے۔لیکن اس عینک سے جلد ہی چھٹکارا حاصل ہوگیا، شاید اس کی وجہ صحافتی پس منظر اور تحقیقاتی رپورٹنگ کی عادت تھی جس نے مجھے میز کی دوسری طرف بیٹھ کر چیزوں کو عوام کے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کا موقع دیا تھا۔ لیکن اِس دوران مجھے اور بہت سی عینکیں لگ چکی تھیں، ان میں سے ایک عینک قوم پرستی کی تھی، اِس عینک کے پار مجھے صرف یہ نظر آتا تھا کہ دنیا میں پاکستانی قوم سے زیادہ ذہین اور قابل دوسری کوئی قوم نہیں۔ ایک عینک فرقہ پرستی کی بھی تھی۔ اِس عینک کا کمال یہ تھا کہ مجھے صرف وہ ’حقائق‘ دکھاتی تھی جو میرے فرقے کے حق میں جاتے تھے، مجھے مخالف فرقے کے دلائل اور اُن کی کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں نظر ہی نہیں آتی تھیںاور یوں میں سمجھتا تھا کہ میرے فرقے کے تمام نظریات درست اور باقی تمام فرقوں کے غلط ہیں۔ایک عینک خالصتاً مردانہ تھی۔ اِس عینک کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ صرف مرد انہ نقطہ نظر دکھاتی تھی، اِس عینک کے پار مجھے عورت کی آزادی کا کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا تھا،مجھے لگتا تھا کہ ہمارے ہاں عورت کی آزادی کے نتیجے میں وہی کچھ ہوگا جو مغرب میں عورت کے ساتھ ہو رہا ہے جہاں عورت بسوں میں کھڑے ہو کرسفر کرتی ہے اور کوئی مرد اُس کے لئے جگہ نہیں چھوڑتا۔ایک چھوٹی سی عینک مجھے برادری کی بھی لگی ہوئی تھی، اِس عینک کے ذریعے مجھے دنیا میں صرف کشمیری برادری ہی اعلیٰ لگتی تھی، میرا خیال تھا کہ کشمیری نہ صرف خوش خوراک اور خوش شکل ہوتے ہیں بلکہ وہ جس شعبے میں بھی ہوں اپنا اونچا مقام بناتے ہیں۔ اِس کے علاوہ بھی میری آنکھوں پر کچھ عینکیں چڑھی ہوئی تھیں مگر اِن تمام عینکوں میں ایک بات مشترک تھی کہ انہیں لگا کر کبھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ میں نے کوئی عینک لگائی ہوئی ہے، الٹا میرے جیسا شخص یہ سمجھتا تھا کہ اُس کی نظر سکس بائی سکس ہے اور وہ بغیر کسی عینک کے ہر دور ونزدیک کی چیز باآسانی دیکھ سکتا ہے۔

اِن تمام عینکوں سے نجات پانے میں مجھے کئی برس لگے۔ تین چیزوں نے مجھے اِن عینکوں سے چھٹکارا پانے میں مدد دی۔ سفر، مطالعہ اور سوال کرنے کی عادت۔ سفر اور مطالعہ تو میرا اب بھی کچھ خاص نہیں البتہ کسی بھی بات کو تسلیم کرنے سے پہلے اُس کی پڑتال ضرور کرتا ہوں۔اِس کے باوجودمیرا خیال ہے کہ آج بھی مجھے کوئی نہ کوئی عینک ضرور لگی ہوگی جس کا مجھے علم نہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اب کوئی نظریہ اپنانے سے پہلے میں یہ جانچنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں کہ کہیں میں اِس بات کو کسی مخصوص نظر سے تو نہیں دیکھ رہا۔ اِس جانچ کا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود سے یہ سوال پوچھیں کہ جس نظریے پر آپ قائم ہیںاگر اسے غلط ثابت کرنا ہو تو وہ کون سا لٹمس ٹیسٹ ہوگا جس سے اسے گزارا جائے گااور پھر اس کے نتیجے میں یہ نظریہ غلط ثابت ہو جائے گا؟اگر یہ لٹمس ٹیسٹ مشکل لگے تو خود سے صرف ایک سوال پوچھ لیں کہ کیا آج بھی آپ کے نظریات وہی ہیں جو بچپن، لڑکپن اور نوجوانی میں تھے، کیامجموعی طور پر آپ کے خیالات میں گزشتہ دس بیس برسوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اگر کسی موقع پر آ پ کو اپنے نظریا ت کے حق میں دلائل کمزور محسوس ہوئے تو کیا آپ نے اِن نظریات کو خیرباد کہنے کی ہمت کی یا معاشرے کے دباؤ کے تحت انہی نظریات پر کاربند رہے ؟ اِن سوالات کا دیانتداری سے جواب تلاش کریں، امید ہے پتا چل جائے گا کہ آپ نے کتنی عینکیں لگا رکھی ہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *