میری ٹوئٹ کے بعد علی ظفر کو سرکاری ایوارڈز ملے، شہرت ملی، میشا شفیع

گلوکارہ میشا شفیع نے ’ہتک عزت کیس‘ میں جرح کے دوران کہا کہ ان کی ٹوئٹ کے بعد علی ظفر کو نہ صرف حکومت پاکستان کی جانب سے ایوارڈز دیے گئے بلکہ انہیں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا گولڈن ویزا بھی ملا اور انٹرنیشنل برانڈز نے ان کے ساتھ معاہدے بھی کیے۔

میشا شفیع کے مطابق علی ظفر کے اتنے ایوارڈز اور شہرت ملنے کے بعد انہیں نہیں لگتا کہ ان کی ٹوئٹ سے گلوکار کو کوئی مالی نقصان پہنچا ہوگا۔

گلوکارہ تین جنوری کو علی ظفر کی جانب سے دائرہ کردہ ہتک عزت کے کیس میں سیشن کورٹ میں جرح کے لیے پیش ہوئیں، جہاں ان سے 5 گھنٹے تک جرح کی گئی۔

میشا شفیع مزید جرح کے لیے 4 جنوری کو بھی عدالت میں پیش ہوں گی اور علی ظفر کے وکلا حشام احمد خان اور طارق گل ان سے جرح کریں گے۔

میشا شفیع نے مذکورہ کیس میں اپنا بیان دسمبر 2019 میں ریکارڈ کروایا تھا اور اب دو سال بعد ان سے جرح کی جا رہی ہے۔

جرح کے دوران میشا شفیع نے بتایا کہ وہ کینیڈا کی مستقل رہائشی ہیں مگر ان کے پاس وہاں کی شہریت نہیں ہے اور وہ اب نومبر 2021 سے پاکستان میں ہیں۔

گلوکارہ نے بتایا کہ ان کی 2020 کی کمائی بھی 2021 جتنی ہی تھی اور وہ نہ صرف کینیڈا بلکہ پاکستان میں بھی ٹیکس ادا کرتی ہیں۔

جرح کے دوران میشا شفیع نے بتایا کہ سال 2019 میں ان کی کمائی ایک کروڑ روپے تک جب کہ 2021 میں 35 لاکھ روپے تک تھی۔

علی ظفر کے وکلا نے گلوکارہ سے پوچھا کہ 2019 میں نجی مشروب کمپنی کے ساتھ بطور جج کام کرنے سے انہیں کتنی رقم ملی؟ جس پر گلوکارہ نے بتایا کہ انہیں ایک کروڑ روپے تک معاوضہ ملا۔

گلوکار نے وکلا نے میشا شفیع سے پوچھا کہ کیا مشروب کمپنی سے ان کی رضامندی کے تحت معاہدہ ہوا تھا؟ جس پر گلوکارہ نے بتایا کہ ’ہر سال معاہدہ کیا جاتا ہے اور وہ 2017 اور 2018 میں بھی مذکورہ کمپنی کے ساتھ کام کر چکی تھیں۔

جرح کے دوران وکلا نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس بات کو مانتی ہیں کہ ان کے کیس کی باعث علی ظفر کو مالی نقصان پہنچا؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ انہیں معلوم ہے کہ ایسا ہوا ہے۔

وکلا نے ان سے دریافت کیا کہ علی ظفر کو کیا نقصانات ہوئے؟ جس پر میشا شفیع نے کہا کہ نام خراب ہو سکتا ہے اور کمائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

ساتھ ہی میشا شفیع نے جرح کے دوران مزید کہا کہ لیکن اس کے باوجود علی ظفر کی فلم ’طیفا ان ٹربل‘ نے ریکارڈ کمائی کی۔

گلوکارہ نے کہا کہ ان کی ٹوئٹ کے باوجود علی ظفر کو عالمی برانڈز اور شوبز انڈسٹری کے ایوارڈز دیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ علی ظفر کو صدارتی ایوارڈ دیا گیا جبکہ انہیں گورنر پنجاب کے ’ایمبیسیڈر آف پیس‘ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

میشا شفیع نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران نے بھی علی ظفر کو اپنی ’یونیورسٹی نمل‘ کا ایمبیسیڈر منتخب کیا۔

گلوکارہ نے بتایا کہ علی ظفر کو 2018 میں ’شان پاکستان ایوارڈ‘ سے بھی نواز گیا جو کہ ان کی ٹوئٹ کے بعد انہیں دیا گیا۔

ساتھ ہی گلوکارہ نے کہا کہ علی ظفر کو یو اے ای کا ’گولڈن ویزا‘ بھی ملا اور شاید وہ ملک کے پہلے آدمی ہیں جس کو ایسے ویزا سے نوازا گیا۔

گلوکارہ نے جرح کے دوران بتایا کہ علی ظفر نے بہت سارے انٹرنیشنل موبائل برانڈز کے کے ساتھ معاہدے کیے اور ان کے ساتھ کام کیا اور یہ سب کچھ ان کی ٹوئٹ کے بعد ہوا جو کہ علی ظفر کے پچھلے سالوں سے بہت بہتر ہے۔

میشا شفیع نے کہا کہ اتنے سارے ایوارڈز اور شہرت کے بعد انہیں نہیں لگتا کہ علی ظفرکو کوئی مالی نقصان پہنچا ہوگا یا ان کی شہرت خراب ہوئی ہوگی۔

دوران سماعت پانچ گھنٹے تک میشا شفیع سے جرح کرنے کے بعد سماعت کو 4 جنوری تک ملتوی کیا گیا۔

میشا شفیع سے قبل ان کی والدہ صبا حمید بھی مذکورہ کیس میں جرح مکمل کر چکی ہیں جب کہ ان سے قبل علی ظفر اور ان کے تمام گواہان بھی 2019 میں ہی جرح مکمل کر چکے تھے۔

اسی کیس میں میشا شفیع نے اگست 2019 میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر نے انہیں متعدد مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا اور پہلی مرتبہ گلوکار نے انہیں اپنے سسرالیوں میں ہونے والی پارٹی کے دوران نامناسب انداز میں چھوا تھا۔

اسی طرح ان کے شوہر محمد محمود نے جنوری 2020 میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا اور اب تینوں افراد سمیت میشا شفیع کے دیگر گواہوں سے بھی علی ظفر کے وکلا جرح کریں گے۔

میشا شفیع کے بعد ان کے شوہر اور ان کے دیگر گواہوں کی جرح مکمل ہوگی، جس کے بعد ممکنہ طور پر عدالت مذکورہ کیس کا فیصلہ سنائے گی۔

علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا کیس اس وقت دائر کیا تھا جب کہ اپریل 2018 میں گلوکارہ نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، جنہیں انہوں نے مسترد کردیا تھا۔

بعد ازاں علی ظفر نے جھوٹا الزام لگانے پر میشا شفیع کے خلاف سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس پر گزشتہ ساڑھے تین سال سے سماعتیں جاری ہیں۔