’میر جعفر، میر صادق‘: پاکستان کے وہ سیاستدان جنھیں غداری کے القابات سے نوازا گیا

لگ بھگ دس سال پہلے کی بات ہے جب صوبہ بلوچستان کے علاقے ریکوڈک میں کانوں سے سونا اور تانبا نکالنے کے معاملے پر پاکستان کی سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت تھا۔

سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’حکومتِ بلوچستان نے معاہدہ کرتے وقت صوبے کے مفادات کا خیال نہیں رکھا تو اِس پر دوسروں کو کیوں قصوروار ٹھہرائیں؟ ہم غیروں سے نہیں اپنے ہی میر جعفر اور میر صادق (جیسے کرداروں) کے ہاتھوں مارے جاتے رہے ہیں۔‘

بعدازاں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت نے معدنیات کی تلاش کے لیے حکومتِ پاکستان اور ایک غیر ملکی کنسورشیم ٹیتھیان کمپنی کے درمیان سنہ 1993 کے ایک معاہدے کو منسوخ قرار دے دیا۔

مگر یہ تنازع جاری رہا اور بلآخر پچھلے ماہ (مارچ) میں پاکستانی حکومت اور ٹیتھیان کے درمیان عدالت سے باہر معاہدے کے نتیجے میں سنہ 2011 سے رُکے کانکنی کے اس منصوبے کو بحال کرنے پر اتفاق کی خبر ملی۔

یعنی ایک دہائی بعد سلسلہ وہیں سے شروع ہوگا جہاں پر رکا تھا، تو وہ ’میرجعفر‘ اور ’میرصادق‘ کے القابات کیا ہوئے؟

پاکستان کی تاریخ میں یہ القابات اور اس سے ملتے جلتے بہت سے اور، سیاست میں تو سیاسی مخالفین کے لیے عام طور پر استعمال ہوتے رہے تھے مگر شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مقدمے کے فریق کو ان القابات کا اہل سمجھا گیا۔

اہل سیاست کے اس چلن کی جانب آنے سے پہلے محقق ڈاکٹر صفدر محمود سے جان لیا جائے کہ میر جعفر اور میر صادق دھوکے اور غداری کا دوسرا نام کیوں قرار پائے۔

ڈاکٹرصفدر نے لکھا ہے کہ مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو کئی صوبے آزاد ہو گئے جن میں بنگال بھی شامل تھا۔

’نواب سراج الدولہ 1756 میں بنگال کی گدی پر بیٹھے۔ اس دور میں تجارت کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی تھی۔ کمپنی نے نواب کی منظوری کے بغیر اپنے تجارتی مراکز کے اردگرد حصار بنا لیے۔ وہ ان کے مخالفوں کی حمایت کر رہی تھی اور تجارتی مراعات سے ناجائز فائدے اٹھانا شروع کر دیے تھے۔ نواب نے کلکتہ پر قبضہ کر لیا، رابرٹ کلائیو نے حملہ کر کے یہ واپس لے لیا اور نواب سے معاہدہ بھی کر لیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کمپنی نے نواب سے نجات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔‘

سراج الدولہ
،تصویر کا کیپشنسراج الدولہ

’نواب سراج الدولہ کے سب سے قابل اعتماد میر جعفر تھے جو اُن کی فوج کے سربراہ بھی تھے۔ انگریزوں نے بنگال کی حکمرانی دینے کا وعدہ کر کے اُن سے خفیہ معاہدہ کر لیا۔ طے شدہ حکمت عملی کے تحت جنگ پلاسی (1757) ہوئی جس میں انگریزوں کی فوج تین ہزار جب کہ سراج الدولہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج تھی۔‘

’23 جون 1757 کو پلاسی کی اس جنگ میں میر جعفر فوج لے کر نواب سے علیحدہ ہو گئے۔ یوں نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ جان بچا کر بھاگ نکلے۔ میر جعفر کے بیٹے میراں نے تعاقب کر کے سراج الدولہ کو قتل کر دیا۔‘

’سراج الدولہ کی جگہ میر جعفر بنگال کے حاکم بن گئے لیکن عملی طور پر انھیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدے میں بُری طرح جکڑ دیا گیا۔ یہ وہی لارڈ کلائیو ہیں جو آگے چل کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ عملاً بنگال میں مسلمانوں کے عروج و اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔‘

رابرٹ کلائیو

دوسرے تاریخی کردار جو ایک ملامتی علامت بن چکے ہیں وہ ہیں میر صادق۔

ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’وہ ٹیپو سلطان کی مجلس کے صدرِ اعظم تھے۔ ٹیپو انگریزوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ مکمل جنگی تیاریوں اور سازشوں کا جال پھیلانے کے بعد انگریزوں نے جنرل ہیرس کی سربراہی میں مارچ 1799 میں میسور اور پھر بنگلور پر قبضہ کر لیا۔‘

’ٹیپو سلطان کو صلح کے لیے شرمناک شرائط پیش کی گئیں جو انھوں نے مسترد کر دیں۔ اپریل کے اواخر میں سرنگا پٹم کے قلعے کے باہر انگریزوں نے توپیں نصب کر دیں اور گولا باری شروع کر دی۔ تین مئی کو قلعے کی فصیل میں چھوٹا شگاف پڑ گیا۔‘

’میرصادق کے مشورے پر انگریزوں نے حملہ کیا اور میرصادق نے تنخواہیں دینے کے بہانے ان سپاہیوں کو بلا لیا جو فصیل کے اس شگاف کی حفاظت پر مامور تھے چنانچہ انگریز فوج قلعے میں داخل ہو گئی۔ جب ٹیپو سلطان کو خبر ملی تو وہ پیدل دوڑے اور منتشر فوج کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب سپاہی اپنی قوت کھو بیٹھے تو ٹیپو سلطان گھوڑے پر سوار ہو کر قلعے کے ایک دروازے کی طرف بڑھے۔‘

’میر صادق نے وہ دروازہ بند کروا دیا تھا تاکہ ٹیپو سلطان باہر نہ جا سکیں۔ ٹیپو سلطان کے وفاداروں نے میرصادق کی غداری کو بھانپتے ہوئے انھیں قتل کر دیا اور ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے جان سے گئے۔ میر صادق کے ساتھ اس سازش میں میر غلام علی، میر قمرالدین، میر قاسم علی اور وزیر مالیات پورنیا بھی شامل تھے۔‘

زائرین ٹیپو سلطان کے مزار کو ایک بزرگ کی درگاہ کی طرح سمجھتے ہیں۔ لیکن میر صادق کی قبر تباہ حال ہے۔ کچھ سیاح اپنے جذبات کی تسکین کو اس پر پتھر بھی پھینکتے ہیں۔

میر جعفر کے گھر ' نمک حرام ڈیوڑھی' کا داخلی دروازہ
،تصویر کا کیپشنمیر جعفر کے گھر ' نمک حرام ڈیوڑھی' کا داخلی دروازہ

میر جعفر نے سنہ 1757 میں ہندوستان میں برطانوی راج کی بنیاد رکھنے کی راہ ہموار کی تو 1799 کی میسور کی چوتھی جنگ میں میر صادق کی غداری نے بالآخر غیر ملکی حکمرانی کو مستحکم کیا۔

شاعر علامہ محمد اقبال کا فارسی زبان کا ایک شعر ہے

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگِ ملت، ننگِ دین، ننگِ وطن

(ترجمہ: بنگال کے میر جعفر اور دکن کے میر صادق، ملت، مذہب اور ملک کے لیے رسوائی کا باعث ہیں)

ایک اور جگہ پر وہ کہتے ہیں۔

الامان از روح جعفر، الامان

الحذر از جعفرانِ این زمان

(خدا کی پناہ، جعفر کی روح سے، خدا کی پناہ۔ اس زمانے کے جعفروں سے گریز کر)

جب سے اٹھارویں صدی کے آخری نصف میں چالیس، بیالیس سال کے فرق سے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں میر جعفر اور میر صادق برصغیر میں غدار قرار پائے، یہاں کی سیاست میں مخالفین کے لیے ان ناموں کا ان کے بقول غداری کے مترادف کے طور پر استعمال معمول رہا ہے۔ سیاسی مخالفین کو بُرے نام یا القابات دینا اس کے علاوہ ہے۔

صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تحریک آزادی ہی سے ایسی زبان استعمال ہوتی آئی ہے کہ سیاسی مخالفین کو کافر یا غدار قرار دیا گیا۔ کبھی بانی پاکستان محمد علی جناح اس کی زد میں آئے، کبھی ابوالکلام آزاد، کبھی حسین شہید سہروردی، کبھی غفارخان تو کبھی جی ایم سید۔

مولانا ابوالکلام آزاد اور گاندھی
،تصویر کا کیپشنمولانا ابوالکلام آزاد اور گاندھی

تاریخ کے استاد ڈاکٹر طاہر کامران کے مطابق ’نواز شریف بھی بے نظیر بھٹو کے لیے بُرے نام استعمال کرتے رہے۔ دیگرخواتین سیاست دانوں مثلاً شیریں مزاری، مریم اورنگ زیب اور مریم نواز کے لیے بھی توہین آمیز القابات تراشے گئے۔راجا پرویزاشرف کو ’راجا رینٹل‘ کہا گیا، مولانا فضل الرحمٰن کو ’ڈیزل‘ وغیرہ۔ ویسے خواجہ آصف ایسی اصطلاحیں گھڑنے میں ماہر ہیں۔‘

رعنا افضل نے پاکستان بننے کے پہلے سال کے اخبارات کا بلوچستان کے حوالے سے مطالعہ کیا ہے۔

قلات کے پاکستان سے الحاق کے ضمن میں ان کی چُنی ایک خبر یہ ہے ’صدر قلات سٹیٹ مسلم لیگ نوابزادہ میر عبدالقادر خان نے پریس کو بتایا کہ خان آف قلات اپنے عوام کی خواہشات کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ کچھ میر جعفر اور میر صادق دیوان عام کے نام پر قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ انھوں نے خان آف قلات سے مطالبہ کیا کہ وہ دیوانِ عام کے نام نہاد فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام کی خواہشات کے مطابق پاکستان سے الحاق کا اعلان دلیری سے کریں۔‘

ذوالفقار علی بھٹو نے ستمبر 1968 میں حیدر آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’ایک بار دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت کے نمائندے نے میرا بازو تھام کر کہا تھا ’بھٹو! اگر تم پاکستان میں ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ تو اس کے بدلے میں ہم تمہیں وہ سب کچھ دینے کو تیار ہیں جس کی تم خواہش کرو گے‘ میں نے غصے سے اپنا بازو چھڑا کر اس سامراجی کو جواب دیا تھا 'خبردار جو تم نے پھر کبھی ایسی جرات کی‘ اگر تم نے چند وطن فروشوں کو خرید لیا ہے تو یہ خیال مت کرو کہ پاکستان میں ہر شخص میر جعفر اور میر صادق ہے۔ میں شعیب (ایوب دور میں وزیر خزانہ) نہیں جس نے وطن دشمنی کے صلے میں واشنگٹن اورسوئٹزر لینڈ میں روپیہ جمع کر رکھا ہے۔‘

دو سال پہلے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما ایاز صادق کی جانب سے انڈین پائلٹ ابھینندن کی رہائی کے حوالے سے متنازع بیان دینے کے چند دن بعد لاہور کے کئی علاقوں میں انھیں 'غدار' قرار دیتے بینرز آویزاں کر دیے گئے۔ پوسٹرز میں ایاز صادق کو ’میر جعفر اور میر صادق‘ کہا گیا۔ ان کی تصویر انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور ونگ کمانڈر ابھینندن کے ساتھ لگائی گئی۔

ایاز صادق

پچھلے کچھ عرصے میں وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی شہباز گل بلوچستان کے رہنما محمود اچکزئی کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ وہ جدی پشتی پاکستان کے خلاف ہیں اور میر جعفر، میر صادق ہیں۔

اسی سال جنوری میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا تھا حکومت کی حلیف جماعتیں ایم کیوایم، ق لیگ اور جی ڈی اے ملک کے لیے سوچیں، اگر ان اتحادی جماعتوں نے بعض معاملات میں حکومت کا ساتھ دیا تو ان کا نام میر جعفر و صادق کے ساتھ لکھا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاست دانوں میں میر صادق اور میرجعفر بھی موجود ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے سٹیٹ بینک کو بہت کم قیمت پر ایک ارب ڈالر کے عوض آئی ایم ایف کو بیچ دیا اورگورنر بینک مالیاتی وائسرائے بنا دیا ہے، گورنر اب پارلیمان کو جوابدہ نہیں رہا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ پوری قوم کے گلے میں غلامی کاپٹہ ڈال دیاگیا ہے اور میر جعفر کا کردار ادا کیا گیا ہے۔

اور حالیہ دنوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ’عدم اعتماد ابھی نہیں ہوئی تھی اور انھیں پہلے سے پتا تھا کہ باہر ملک میر جعفر میر صادق جیسے سہولت کاروں کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔‘ یہ سازش آپ کو بیرونی طاقتوں کا غلام بنانے کی ہے۔ ایک میر جعفر کو ایک سازش کے ذریعے ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔‘

ایسا انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے سربراہ نے ہجوم کو سمجھایا کہ میر جعفر کون تھے۔

مگر ایسا پاکستان تک محدود نہیں۔

گذشتہ سال بھارت میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے وفاداری تبدیل کر کے بی جے پی میں شامل ہونے والے پارٹی رہنماؤں کو میر جعفر قرار دیا۔

مخالفین کو غدار کہنے یا انھیں بُرا نام دینے کا اثر کیا ہوتا ہے آخر؟ سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ ’اس سے لوگوں میں جوش پیدا ہوتا ہے، مخالفین کے لیے نفرت اور غصہ ظاہر ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر طاہر کامران بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔

لیکن سیاست کا چلن ایسا ہے کہ کل کے حریف آج کے حلیف بن سکتے ہیں اور کل کے ’غدار‘ آج کے ’محب وطن‘ یا اس سے اُلٹ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.