مینار پاکستان پر لڑکی کو ہراساں کرنے کے معاملے میں کم از کم 20 مشتبہ افراد پولیس کی حراست میں

لاہور میں مینار پاکستان پر ایک لڑکی کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعے میں پولیس ذرائع کے مطابق اب تک کم از کم 20 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق آئی جی پنجاب نے گرفتاریوں کے حوالے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بریفنگ دی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے یوم آزادی یعنی 14 اگست کے روز لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کی وائرل ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے تین سے چار سو افراد پر مشتمل ایک ہجوم لڑکی پر حملہ آور ہوتا ہے اور انھیں ہراساں کرتا ہے۔

متاثرہ لڑکی کو مدد کے لیے چیخ و پکار کرتے بھی دیکھا اور سُنا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے کہ آیا ملک کے بڑے شہروں میں بھی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

لاہور پولیس نے مقدمے کے اندراج اور اس میں ’سخت دفعات‘ کا اضافہ کر کے تحقیقات شروع کی تھیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اس کیس میں ویڈیو کلپس کے سہارے ملزمان تک پہنچیں گے۔

اس بارے میں بدھ کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی شارک جمال کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی سوشل میڈیا پر اور دیگر فوٹیجز جمع کر لی گئی ہیں اور ’ہم ایک ایک شخص کی شناخت کر کے ان کی تصویریں نکال کر ان کو بہتر کر رہے ہیں۔ جس کے بعد ان تصویروں کو نادرا کو آج رات تک بھجوا دیا جائے گا۔‘

ان کے مطابق ’ہم نے نادرا سے بھی درخواست کی ہے کہ اس کام کو اولین بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس واقعے میں ملوث ہر شخص کی عمر تقریباً 30 سال سے کم ہے۔ اس لیے جو لڑکے 18 سال سے کم عمر کے ہوں گے ان کے بے فارم یا خاندانی نمبر سے انھیں تلاش کیا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’یہی نہیں ہم نے لڑکی کے موبائل فون کے پاس موجود تمام تر نمبرز کی بھی جیو فینسنگ کر لی ہے جو ہمیں ملزمان تک پہنچنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمارے اپنے لوگ بھی ملزم کی تلاش میں ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی ایسا کرائم ہوتا ہے، جس میں ہجوم شامل ہو تو اس میں لوگوں کی شناخت مشکل ضرور ہوتی ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ اس واقعے میں ہم زیادہ تر ملزمان کو پکڑ لیں گے‘۔

ترجمان پنجاب حکومت فیاض الحسن چوہان نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملزمان کی کچھ تصاویر شیئر کیں تھیں اور لکھا تھا کہ گریٹر اقبال پارک واقعے میں ملوث ان کرداروں کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دے دی گئی ہے۔ پولیس حکام نادرا اور پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی مدد سے سائنٹفک طریقے سے ان سمیت تمام افراد کو ٹریس کر رہے ہیں۔‘

‏انھوں نے کہا ’گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی کا واقعہ انتہائی شرمناک اور بہیمانہ فعل ہے، اسلامی اقدار کے حامل ہمارے مشرقی معاشرے میں خواتین عزت و احترام کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ چند سو افراد کے قبیح فعل نے پورے معاشرے کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

‏’واقعے کی ایف آئی آر کاٹی جا چکی ہے، اور ویڈیو کی مدد سے ملوث ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر ملزمان کو سخت سزا دی جائے گی۔ حکومت ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔‘

وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا اظہر مشوانی نے کہا ہے کہ عاشورہ پر ڈیوٹی کے باوجود پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔ ’ایف آئی آر میں سخت اور ناقابل ضمانت جرائم کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دن دہاڑے یہ واقعہ مزید خوف کا باعث بنا ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب پاکستان میں لوگ پہلے ہی ’نور مقدم اور قرت العین جیسے واقعات کے صدمے میں ہیں۔‘ ایک بیان میں اس نے حکام سے فوری طور پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مینار پاکستان واقعے پر ایف آئی آر میں متاثرین نے کیا بتایا؟

یہ ویڈیوز سامنے آنے کے بعد لاہور پولیس نے متاثرہ لڑکی کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

منگل کے روز متاثرہ لڑکی نے لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں درخواست دی تھی کہ وہ 14 اگست کو شام ساڑھے چھ بجے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ اچانک وہاں پر موجود تین، چار سو سے زیادہ افراد کے ہجوم نے اُن پر حملہ کر دیا۔

درخواست کے مطابق لڑکی اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران وہ گارڈ کی جانب سے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ لوگ جنگلے کو پھلانگ کر ان کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی۔

مینار پاکستان

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہجوم میں موجود لوگ اُن کو اٹھا کر ہوا میں اچھالتے رہے اور ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔

متاثرہ لڑکی نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ان پر تشدد کیا گیا اور ان کا موبائل فون، نقدی اور سونے کے ٹاپس بھی چھین لیے گئے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گریٹر اقبال پارک لاہور میں واقع مینار پاکستان کے احاطے میں میں خاتون کے ساتھ پیش آنے والے ’شرمناک واقعے‘ پر کارروائی کے حوالے سے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

عثمان بزدار نے کہا کہ ’ویڈیو فوٹیجز کے ذریعے اس واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کر کے فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔‘

وزیر اعلیٰ کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے کہا ہے کہ ’لاہور پولیس کے مطابق گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاک سٹار اور ساتھیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر ویڈیوز کی مدد سے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ واقعے کی 15 کال پر (لڑکی کو) فوری طور پر ریسکیو کیا گیا تھا۔‘

مگر اس واقعے نے کئی شعبوں سے وابستہ افراد کو مایوس کیا ہے۔ سیاسی رہنما ہوں یا شوبز کے ستارے، سبھی اس پر معاشرے میں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے ایسے انگنت واقعات پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مینار پاکستان، لاہور واقعہ

اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’مینار پاکستان پر مجمعے کا نوجوان لڑکی سے دست درازی اور زد و کوب کرنا ہر پاکستانی کے لیے باعثِ شرم ہے اور ہمارے سماج کی پستی کو بیان کرتا ہے۔ ذمہ داروں سے انصاف ہونا چاہیے، پاکستانی خواتین خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہی ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے تحفظ اور مساوی حقوق کو یقینی بنائیں۔‘

مسلم لیگ نواز کی ثانیہ عاشق کہتی ہیں کہ جو واقعہ متاثرہ خاتون کے ساتھ مینار پاکستان میں پیش آیا اس کا سامنا ’ہر پاکستانی خاتون نے کبھی نہ کبھی کیا ہے۔ شاید شدت کم ہوتی ہے لیکن ہر کسی نے زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا کیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ایسا ہونے سے روکیں۔‘

ماہرہ خان

اداکارہ ماہرہ خان نے طنزیہ کہا کہ ’میں معافی چاہتی ہوں۔ میں بھول گئی تھی۔ یہ تو اُن کی اپنی غلطی ہے۔ بیچارے 400 آدمی۔ خود کو روک نہ سکے۔‘

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے لکھا کہ ’مینار پاکستان پر دماغی مردہ زوبمیز کا حملہ خوفناک ہے۔ اس حکومت کی جانب سے ہر خوفناک واقعے کو چھپانے کی کوشش سے تنگ آچکی ہوں۔ اس حکومت میں کوئی نیا قانون تبدیلی نہیں لائے یا، اور نہ کسی کی حفاظت کرے گا۔‘

'400 مرد مگر شرم کسی ایک میں نہ تھی'

اس وقت پاکستان کے ٹوئٹر پر ’مینار پاکستان‘، ’400 آدمی‘ اور ’لاہور واقعہ‘ سمیت مختلف ٹرینڈز چل رہے ہیں اور صارفین کی بڑی تعداد بالخصوص خواتین اس واقعے پر شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔

صارف ندا فاطمہ زیدی نے لکھا: ’مینار پاکستان میں جو کچھ ہوا، اسے دیکھنے کے بعد میری ایک عورت کی حیثیت سے اس ملک میں محفوظ محسوس کرنے کی کیا وجہ ہے؟ میرے یہ یقین کرنے کی کیا وجہ ہے کہ میں جس بھی عورت کو جانتی ہوں وہ اس ملک میں محفوظ ہو گی۔‘

ٹویٹ

انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا: ’عمران خان نوٹس لیں۔ پاکستان کی خواتین کو آپ کی یقین دہانی چاہیے۔‘

طلحہ بن اعجاز نے لکھا: ’400 مرد، آٹھ سو آنکھیں۔ کسی آنکھ نے شرم محسوس نہیں کی۔ آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی روح نہیں کانپی، کسی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا۔ سب کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا فائدہ اٹھایا۔‘

انوشے اشرف نے لکھا: ’ایک وقت تھا جب میں محسوس کرتی تھی کہ کہ میرے ملک میں اگر کوئی ایک مرد مجھے کسی عوامی مقام پر ہراسانی کرے گا تو مجھے بچانے کے لیے دس مرد آگے آئیں گے لیکن مینار پاکستان میں ایک عورت کو 400 مردوں کے ہاتھوں ہراساں ہوتا دیکھ کر میں انتہائی برا محسوس کر رہی ہوں۔‘

ٹویٹ

ایک اور صارف نے لکھا : ’موٹروے واقعے سے 14 اگست کے واقعے تک، میں پوچھنا چاہتی ہوں یہ کیسی آزاد ریاست ہے۔‘

وقار یونس نے لکھا: ’اس عورت نے چار سو مردوں کو جانور بنتے دیکھا۔‘ جبکہ آمنہ نامی صارف نے خاتون کے ساتھ اس بدسلوکی کے چار مراحل وضع کیا۔

’یہ سوچنا کہ ایک خاتون سے بدسلوکی ہوسکتی ہے، اعتماد کے ساتھ یہ کرنا کیونکہ کوئی احتساب نہیں ہوگا، آنکھوں کے سامنے کوئی جرم ہوتا دیکھنا اور پھر بھی کچھ نہ کرنا، (آخر میں) متاثرہ فرد کو قصوروار ٹھہرانا۔‘

error: