مینا کماری جو اپنی زندگی کی الجھنوں اور غموں سے لڑتی رہیں: ’آپا میں مرنا نہیں چاہتی‘

پروڈیوسر اور ہدایتکار کیدار شرما کی ایک خاص بات تھی کہ جب بھی وہ کسی فنکار کے کام سے خوش ہوتے تھے تو وہ اسے انعام کے طور پر ایک آنہ یا دو آنے بطور انعام دیا کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے یہ انعامی رقم بڑھا کر چونی (25 پیسے) کر دی تھی۔

فلم ’چترلیکھا‘ کی شوٹنگ کے دوران مینا کماری نے کیدار شرما سے کہا کہ شرما جی میرے پاس آپ کی چونی اور دو آنوں کا امبار اکٹھا ہو گیا ہے، اب آپ اپنا ریٹ بڑھا دیں۔ اور پھر ایک دن فلم کے ایک سین میں مینا کماری کی اداکاری سے خوش ہو کر کیدار شرما نے انعام میں مینا کماری کو ایک سو روپے کا نوٹ دیا۔

ٹریجڈی کوئین مینا کماری

مینا کماری کی پوری زندگی ’انڈین عورتوں کی دکھ بھری زندگی‘ کو سکرین کے پردے پر اتارتے ہوئے گزری۔

یہ اور بات ہے کہ انھیں اپنی ذاتی زندگی کی ٹریجڈیز کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ لیکن یہ کہنا کہ مینا کماری کی اداکاری میں ’المیہ‘ اور غموں کے شیڈ کے علاوہ کوئی دوسرا ’شیڈ‘ نہیں تھا ان کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔

فلم ’پرنیتا‘ کی پُرسکون بنگالی الہڑ لڑکی ہو یا فلم ’بیِجو باورا‘ کی شوق اور حسین لڑکی ’صاحبِ بی بی اور غلام‘ کی جاگیردارانہ مظالم جھیلنے والی بہو ہو یا ’پاکیزہ‘ کی ’صاحب جان‘ ان تمام کرداروں نے شائقین کے دل پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

یکم اگست 1932 کو پیدا ہونے والی مینا کماری بطور اداکارہ 32 سال تک انڈین سینما پر چھائی رہیں۔ انتہائی جذباتی اور دوسروں کی مدد کے لے ہمہ وقت تیار مینا کماری کی زندگی خوشی بانٹنے اور دوسروں کے دکھوں کو دور کرنے میں گزری۔

مینا کماری
،تصویر کا کیپشنمینا کماری نے ہر طرح کے کردار نبھائے

کمال امروہی کے بیٹے تاجدار امروہی کا کہنا ہے کہ ’مینا کماری کو لوگوں نے کبھی بھی خوبصورت چہرے کے طور پر نہیں دیکھا جیسا کہ مدھوبالا یا نرگس کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے۔‘

مینا کو ’ٹریجڈی کوئین‘ کا خطاب ملا اور انھوں نے ’ٹریجڈی‘ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ وہ فلموں میں جو کردار کر رہی ہے، وہ حقیقی زندگی میں بھی وہی کردار ادا کر رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ لوگوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے خود بھی ایسا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔‘

کمال امروہی سے محبت کا آغاز مسمی کے جوس سے ہوا

سنہ 1949 میں جب مینا کماری کمال امروہی سے پہلی بار ملی تھیں، اس وقت وہ شادی شدہ تھے۔ ان کی ایک فلم ’محل‘ بہت ہٹ ہو چکی تھی۔ کمال مینا کو فلم ’انارکلی‘ میں کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ اسی سلسلے میں ان کے گھر آنا جانا شروع ہوا اور ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔

اسی دوران پونا سے آتے ہوئے مینا کماری کی کار حادثہ کا شکار ہو گئی۔ مشہور رسالے ’آؤٹ لُک‘ کے سابق ایڈیٹر ونود مہتا نے مینا کماری کی سوانح حیات بعنوان ’مینا کماری اے کلاسیکل بائیو گرافی‘ لکھی ہے۔

ونود مہتا لکھتے ہیں ان دونوں کا عشق مسمی کے جوس سے شروع ہوا تھا۔ جب کمال امروہی مینا کماری سے ملنے پونا کے ہسپتال پہنچے تو مینا کی چھوٹی بہن نے ان سے شکایت کی کہ آپا جوس نہیں پی رہی ہیں۔ کمال نے جوس کا گلاس کو اپنے ہاتھوں میں لیا، بستر سے مینا کا سر اٹھایا اور گلاس ان کے منھ سے لگا دیا، مینا نے ایک ہی سانس میں تمام جوس ختم کر لیا۔

مینا کماری
،تصویر کا کیپشنفلم صاحب بی بی اور غلام میں ان کی اداکاری کو بہت سراہا گیا

کمال ہر ہفتے پونا گاڑی چلا کر مینا سے ملنے آتے۔ پھر انھیں لگا کہ ہفتے میں ایک دن کافی نہیں ہے۔ جس دن ان کا ملنا نہیں ہوتا تھا اس دن وہ ایک دوسرے کو خط لکھتے تھے، ہر روز ایک خط۔ لیکن ان حظوط پر کوئی ٹکٹ نہیں لگایا جاتا کیونکہ یہ خط وہ خود وہ ایک دوسرے کو اپنے ہاتھوں سے دیتے تھے۔

منجو اور چندن

اس کے بعد ہسپتال میں ہی ان کی بہت سی ملاقاتیں ہوئیں۔ کمال امروہی نے ان کا نام ’منجو‘ رکھا اور وہ کمال امروہی کو ’چندن‘ کے نام سے پکارنے لگیں۔

ونود مہتا مزید لکھتے ہیں کہ ’پھر دونوں نے ٹیلیفون پر لمبی باتیں کرنا شروع کیں۔ امروہی رات 11:30 بجے مینا کماری کو فون کیا کرتے تھے اور دونوں صبح 5:30 بجے فون بند کرتے تھے۔ شاید رات میں اتنی دیر باتیں کرنے کی وجہ سے مینا کماری اور کمال امروہی دونوں کو رات میں نیند نہ آنے کی بیماری ہو گئی۔

چھوٹی امی

24 مئی 1952 کو مینا کماری نے کمال امروہی سے شادی کی۔ اس وقت کمال امروہی کی پہلی بیوی امروہہ میں رہتی تھیں۔ جب گرمیاں ختم ہوئیں تو انھوں نے اپنے بیٹے تاجدار کو اپنی دوسری ماں یعنی مینا کماری سے ملنے ممبئی بلایا۔

جب وہ وہاں پہنچے تو کمال امروہی بیمار تھے۔ انھیں بخار تھا۔ تاجدار امروہی یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’چھوٹی امی سفید ساڑھی پہنے ہوئے بابا کے سرہانے بیٹھی ان کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہی تھیں اور ایک خادمہ بابا کے پیروں کی مالش کر رہی تھی۔‘

کمال امروہی
،تصویر کا کیپشنشادی کے بعد کمال امروہی نے مینا کماری کے لیے تین شرطیں مقرر کی تھیں

میں حیران پریشان کھڑا تھا کہ میں کہاں جاؤں کیا کروں لیکن چھوٹی امی نے میری پریشانی بھانپ لی۔ بابا بھی مسکرا دیے لیکن بولے کچھ نہیں۔ مینا کماری نے مجھے قریب بلایا اور جب میں ان کے قریب گیا تو انھوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا اورکہا آج سے میں آپ کی چھوٹی امی ہوں۔

کمال امروہی کی تین شرائط

لیکن کچھ دن بعد مینا کماری اور کمال امروہی کی شادی شدہ زندگی میں مشکلات پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ کمال امروہی نے مینا کماری کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت دی لیکن ان پر تین شرائط عائد کر دیں۔

ونود مہتا لکھتے ہیں ’پہلی شرط یہ تھی کہ مینا کماری شام ساڑھے 6 بجے تک گھر لوٹ آئیں۔ دوسری شرط یہ تھی کہ مینا کماری کے میک اپ روم میں ان کے میک اپ مین کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں بیٹھے گا اور اس کی آخری شرط یہ تھی کہ مینا کماری ہمیشہ اپنی ہی گاڑی میں جائیں گی جو انھیں سٹوڈیو میں لے جاتی اور پھر گھر واپس لاتی۔

راج کپور کی پارٹی

لیکن جس دن مینا کماری نے ان شرائط پر دستخط کیے اسی دن سے ہی انھوں نے ان کو توڑنا بھی شروع کر دیا۔ پہلا واقعہ اس وقت ہوا جب راج کپور نے ’شاردہ‘ فلم کی شوٹنگ کے دوران مینا کماری کو پارٹی میں مدعو کیا۔

ونود مہتا لکھتے ہیں ’ہوا یوں کہ ایک روسی فلمی وفد ممبئی آیا تھا۔ راج کپور ان کے اعزاز میں استقبالیہ دے رہے تھے۔ مینا کماری نے ان کی دعوت قبول کی اور اپنے شوہر کو فون کیا اور کہا کہ وہ دیر سے گھر واپس آئیں گی۔ انھوں نے راج کپور کی پارٹی کا ذکر نہیں کیا یہ کہا کہ ان کی شوٹنگ دیر تک جاری چلے گی۔

اگلے ہی دن کمال امروہی کی ملاقات اتفاق سے ان مہمانوں سے ہوئی جو راج کپور کی پارٹی میں موجود تھے۔ ان سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کی بیگم شوٹنگ میں مصروف نہیں تھیں بلکہ پارٹی میں شامل ہوئی تھیں۔ جب وہ گھر واپس آئیں تو انھوں نے کمال کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ بعد میں جب کمال نے ان سے ’بے ضرر‘ دھوکہ دہی کا ذکر کیا تو مینا کماری نے کہا کہ وہ ان کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھیں۔

راج کپور
،تصویر کا کیپشنمینا کماری کمال امروہی سے جھوٹ بول کر راج کپور کی پارٹی میں گئیں

کمال امروہی مینا کو راضی نہیں کرپائے

معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ایک دن کمال امروہی کے سیکریٹری باقر نے مینا کماری کو اداکار پردیپ کمار کی گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھ لیا۔ بعد میں کچھ دوسرے واقعات پیش آئے اور مینا کماری نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کبھی کمال امروہی کے گھر واپس نہیں جائیں گی۔

تاجدار امروہی کا کہنا ہے ’مینا کماری کمال کے گھر سے نکلنے کے لیے کسی بہانے کی تلاش میں تھیں تاکہ وہ آزاد پرندوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں۔ جب چھوٹی امی گھر سے چلی گئیں، بابا نے بطور شوہر اپنا فرض نبھایا۔‘

’وہ محمود صاحب کے یہاں چلی گئی تھیں۔ وہ وہاں گئے تو چھوٹی امی نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا۔ بابا دروازہ پیٹتے رہے اور کہا منجو باہر آؤ، مجھ سے بات کرو۔ آپ کو کیا شکایت ہے؟ مجھے بتاؤ۔ لیکن وہ باہر نہیں آئیں۔‘

محمود نے کہا کہ ’وہ ابھی نہیں مانے گی تھوڑی دیر میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائِے گا آپ بعد میں آ جانا۔ بابا نے دروازے پر تین چار بار آواز لگائی اور پھر کہا منجو تم اندر ہو اور میری بات سن رہی ہو۔ اب میں جا رہا ہوں میں اب واپس نہیں آؤں گا۔ میں نے آپ کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن آپ نہیں سمجھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے۔ ہمارے گھر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہتے ہیں اور کھلے رہیں گے۔ جب چاہو آ جانا۔‘

کمال امروہی
،تصویر کا کیپشنکمال امروہی اپنے بیٹے تاجدار کے ساتھ

کمال امروہی کا واک آؤٹ

اس دوران کچھ اور ایسے واقعات ہوئے ہیں جنھوں نے کمال امروہی اور مینا کماری کے درمیان فاصلے کم کرنے کے بجائے انھیں بڑھا دیا۔ ونود مہتا لکھتے ہیں ’سہراب مودی نے مینا کماری اور کمال امروہی دونوں کو ایروز سنیما میں فلمی پریمیئر کے لیے مدعو کیا۔‘

سہراب نے مینا کماری کو مہاراشٹر کے گورنر سے متعارف کرایا اور کہا یہ مشہور اداکارہ مینا کماری ہیں۔۔۔ اور وہ ان کے شوہر کمال امروہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہیلو کہتے کمال امروہی نے کہا ’نہیں، میں کمال امروہی ہوں اور یہ میری اہلیہ ہیں۔۔۔ مشہور فلمی اداکارہ مینا کماری۔‘ یہ کہنے کے بعد وہ سنیما ہال سے باہر چلے گئے اور مینا کماری کو تنہا بیٹھ کر وہ فلم دیکھنا پڑی۔

صاحب بی بی اور غلام میں مینا کماری کی غضب اداکاری

ذاتی زندگی کے اس خلل نے فلموں میں ان کی اداکاری کو بالکل بھی متاثر نہیں کیا۔ انھوں نے ایک سے بڑھ کر ایک فلموں میں اداکاری کی اور فلمی نقادوں کی ستائش حاصل کی۔

ساون کمار جو مینا کماری کو قریب سے جانتے ہیں کہتے ہیں ’مینا کماری کی بہت سی فلمیں ہیں، ہر فلم کے مختلف رنگ ہیں۔ مثال کے طور پر ’دل ایک مندر‘ ان کی آخری فلم ’پاکیزہ‘ دیکھیں یا ’پرنیتا‘ انھوں نے ہر ایک کردار کو مختلف انداز میں بخوبی نبھایا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا اتنے دن لوگوں کے دلوں پر راج کرنا کوئی مذاق نہیں ہے۔ ’صاحب بی بی اورغلام‘ ان کی حیرت انگیز فلم تھی۔ مجھے فلم کا ایک منظر پسند ہے جہاں رحمان صاحب اپنی گرل فرینڈ کے پاس جا رہے ہیں اور مینا یہ گانا گا کر انھیں روکتی ہیں۔ ’نہ جاؤ سیاں چھڑا کے بئیاں‘ ایسی اداکاری اور کوئی ہیروئن یہ کام نہیں کر سکتی۔

پاکیزہ نے مینا کماری کو امر کردیا

کمال امروہی اور مینا کماری شوہر اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے بھلے ہی الگ ہو گئے ہوں لیکن ایک اداکارہ کی حیثیت سے وہ ہمیشہ کمال امروہی کی فلموں میں کام کرنے کے لیے تیار رہتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ سال ان سے الگ ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی فلم ’پاکیزہ‘ کی شوٹنگ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا۔

پاکیزہ
،تصویر کا کیپشنمینا کماری نے کمال سے علیحدہ ہونے کے پانچ سال بعد ان کی فلم مکمل کرنے کا فیصلہ کیا

تاجدار امروہی کا کہنا ہے ’جس طرح شاہ جہاں نے ممتاز محل کے لیے تاج محل بنا کر ہمیشہ کے لے امر کر دیا اسی طرح کمال امروہی نے ’پاکیزہ‘ بنا کر مینا کماری کے لیے تاج محل تعمیر کیا اور ان کو امر کر دیا۔‘

’جب بھی انڈین فلموں کی تاریخ لکھی جائے گی پاکیزہ کا ذکر کیا جائے گا۔ اور یہ تین نام ہمیشہ زندہ رہیں گے مینا کماری، کمال امروہی اور پاکیزہ۔‘

ڈاکو امرت لال سے ملاقات

اس فلم کی شوٹنگ کے دوران کمال امروہی اور مینا کماری کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ونود مہتا لکھتے ہیں ’آؤٹ ڈور شوٹنگ پر کمال امروہی اکثر دو کاروں پر جاتے تھے۔ ایک بار دہلی جاتے ہوئے مدھیہ پردیش کے شیو پوری علاقے میں ان کی کار میں پٹرول ختم ہو گیا۔ امروہی نے کہا کہ ہم سڑک پر ہی کار میں رات گزاریں گے۔‘

’انھیں نہیں معلوم تھا کہ یہ ڈاکوؤں کا علاقہ ہے۔ آدھی رات کے بعد ایک درجن کے قریب ڈاکوؤں نے ان کی کاروں کو گھیر لیا۔ انھوں نے گاڑیوں میں بیٹھے لوگوں کو نیچے اترنے کے لیے کہا۔ کمال امروہی نے کار سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو شخص مجھ سے ملنا چاہتا ہے وہ میری گاڑی کے پاس آئے۔‘

تھوڑی دیر بعد ریشمی پاجامہ کرتا پہنے ایک شخص ان کے پاس آیا۔ اس نے پوچھا تم کون ہو؟ امروہی نے جواب دیا، 'میں کمال ہوں اور اس علاقے میں شوٹنگ کر رہا ہوں۔ ہماری کار کا پیٹرول ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکو کو لگا کہ وہ رائفل سے شوٹنگ کی بات کر رہے ہیں۔

مینا کماری
،تصویر کا کیپشنشراب نوشی کے سبب ان کی صحت دن بدن خراب ہوتی گئی

’لیکن جب انھیں بتایا گیا کہ یہ فلم کی شوٹنگ ہے اور مینا کماری بھی دوسری کار میں بیٹھی ہیں تو اس کے تیور بدل گئے۔ اس نے فوراُ ہی موسیقی، رقص اور کھانے کا انتظام کیا۔ انھیں سونے کے لیے جگہ دی اور صبح ہی ان کی گاڑی کے لیے پیٹرول بھی منگوایا۔ چلتے ہوئے اس نے مینا کماری سے کہا کہ وہ نوکیلے چاقو سے اس کے ہاتھ پر اپنا آٹوگراف دیں۔ جیسے تیسے مینا کماری نے آٹوگراف دیے۔ دوسرے شہر جانے کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے مدھیہ پردیش میں اس وقت کے مشہور ڈاکو امرت لال کے ساتھ رات گزاری ہے۔‘

بیماری میں کام جاری رکھا

شراب اور تمباکو کھانے کی علت نے مینا کماری کی صحت کو اتنا زیادہ خراب کر دیا کہ وہ اس سے کبھی صحت یاب نہیں ہو سکیں۔ ساون کمار کہتے ہیں کہ ان کی فلم ’گومتی کے کنارے‘ کے دوران وہ چھ دن تک بہت اچھی رہیں اس کے بعد وہ بیمار ہو گئیں۔ انھوں نے ہمیشہ اصرار کیا کہ کسی بھی حالت میں فلم کی شوٹنگ بند نہیں کی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا ایسا جذباتی رشتہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔وہ اتنی کمزور ہو چکی تھیں کہ شاٹ دیتے ہوئے گر سکتی تھیں۔ لوگ نہیں جانتے کہ جب وہ اداکاری کرتی تھی تو میں انھیں پیچھے سے پکڑ کر رہتا تھا اور شوٹ کے بعد وہ کرسی پر بیٹھ جاتی تھیں۔‘

میں مرنا نہیں چاہتی

آخری دنوں میں مینا کماری کو ’سینٹ الزبتھ نرسنگ ہوم‘ میں داخل کیا گیا تھا۔ نرسنگ ہوم کے کمرے نمبر 26 میں ان کے آخری الفاظ تھے ’آپا ، آپا، میں مرنا نہیں چاہتی۔‘

جیسے ہی ان کی بڑی بہن خورشید نے انھیں سہارا دیا وہ کوما میں چلی گئیں اور پھر کبھی اس سے باہر نہیں آ سکیں۔ ساون کمار کہتے ہیں ’جس دن ان کی موت ہوئی میں وہاں تھا۔ انھیں بائیکالہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ہر کوئی ان کی قبر پر مٹی ڈال کر جا چکا تھا میں اکیلا وہاں رہ گیا تھا۔‘

’میری آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی نہیں نکلا تھا۔ میں جیسے پتھر کا ہو گیا تھا۔ لیکن جیسے ہی میں نے ان پر ایک مٹھی مٹی ڈال دی میری آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے میں خود کو روک نہیں پا رہا تھا۔ واپسی کے وقت، میرے ذہن میں ایک شعر آیا۔

چاندنی مر گئی، روشنی مر گئی

ساری شمعیں بجھا کر چلے آئےِ لوگ

چادرِ گل سے چھلتا تھا جس کا بدن

اسے مٹی اوڑھا کر چلے آئے لوگ