مینٹل ہسپتال داخل کروائی جانے والی لڑکی کامیاب ماڈل کیسے بنی؟

’ایک وقت تو مجھے ایسا لگا کہ میری زندگی اب ختم ہو چکی ہے۔ میں بہت مایوس تھی لیکن میں نے اسے کسی طرح بدل ڈالا۔ میں بہت بدقست تھی لیکن خوش قسمت بھی کہ میں نے صبر کیا۔‘

سنہ 2016 میں لوسی یونیورسٹی آف لیسسٹر، انگلینڈ میں کریمنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے کے آخری سال میں تھیں جب وہ بیمار ہو گئیں اور ان کی شخصیت سرے سے بدل گئی۔

لوسی جن کی عمر اب 25 برس ہے، کہتی ہیں ’صرف ایک ہفتے میں میرا رویہ مکمل طور پر بدل گیا۔ میں بہت ملنسار، ہمیشہ خوش رہنے والی اور حوصلہ افزا انسان سے ہر وقت مایوس رہنے اور رونے والی بن گئی۔‘

وہ دن جب لوسی نے چیخنا شروع کر دیا

ایک دن لوسی کی روم میٹس کی آنکھ ان کی چیخوں سے کھلی۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کو بتایا گیا کہ وہ ذہنی تناؤ کی وجہ سے اس صورتحال کا شکار ہیں۔ انھیں سانس کی کچھ ورزشیں بتائی گئیں اور گھر بھیج دیا گیا لیکن اگلی ہی صبح وہ پھر چیخنے لگیں۔

لوسی یاد کرتی ہیں ’میں آگے پیچھے ہل رہی تھی، میرا کمرہ الٹ پلٹ تھا۔ میری اس بارے میں یاد انتہائی دھندلی ہے۔‘

’میرے والدین آئے اور جب انھوں نے مجھے دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو گئے۔ انھوں نے میری روم میٹس سے پوچھا کہ کیا ہم نے منشیات لی ہیں۔‘

لوسی کے والدین نے انھیں گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال لے گئے۔ اس دوران لوسی کا رویہ اتنا غیر متوقع تھا کہ انھوں نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانے کی بھی کوشش کی۔

ہسپتال پہنچنے پر لوسی کے والدین کو بتایا گیا کہ ان کا ’مینٹل بریک ڈاؤن‘ ہوا ہے اور مینٹل ہیلتھ ایکٹ کے تحت انھیں ہسپتال میں داخل کیا جائے گا۔ انھیں نفیساتی امراض کے وارڈ میں منتقل کیا گیا جہاں انھوں نے تین ماہ کا عرضہ گزارا۔

لوسی

لوسی کو نفیساتی امراض میں مؤثر ادویات دی گئیں لیکن ان کی حالت جلد ہی بگڑ گئی۔

’میں بہت بیمار تھی اور مجھے وہم کے دورے پڑتے تھے اور پھر میرے جسم اور دماغ کے کچھ حصے بند ہونا شروع ہو جاتے۔‘

ڈاکٹر لوسی کی بگڑتی طبیعت سے سخت پریشان تھے۔ ہسپتال میں داخلے کے ایک ماہ بعد، لوسی کی اکیسویں سالگرہ کے موقع پر ڈاکٹروں نے ان کے والدین کو بتایا کہ لوسی کو بچانے کے لیے اب ان کا علاج بجلی کے جھٹکوں کی مدد سے کیا جائے گا۔

لوسی کو اس علاج کے تین راؤنڈ سے گزرنا پڑا جہاں ان کے دماغ کو بجلی سے کرنٹ لگایا جاتا۔

ذہنی صحت کے خیراتی ادارے مائنڈ MIND کے مطابق بجلی کے جھٹکوں سے علاج شدید ڈپریشن یا ایسی صورتحال جس میں مریض کی زنگی کو شدید خطرہ لاحق ہو، پر تجویز کیا جاتا ہے۔

لوسی کے کیس میں اس علاج نے ان میں بیماری میں تیزی کو روک دیا لیکن یہ یہاں ہی ختم نہیں ہوا۔ لوسی کہتی ہیں کہ بجلی کے جھٹکوں کے بعد مجھے میرے کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔

غلط تشخیص اور سنگین حادثہ

لوسی اپنے بستر پر تھیں اور انھیں ابھی بھی دورے پڑ رہے تھے۔ نومبر ک اس رات انھیں جھٹکے لگنے شروع ہوئے اور وہ اپنے بستر سے گر کر ریڈی ایٹر ٹیوب پر گر گئیں جو شدید گرم تھی۔

میں کیٹاٹونک تھی تو مجھے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ میں اس کے اوپر گری رہی جب تک کسی نے مجھے دیکھ نہیں لیا۔

لوسی کے والدین کو بتایا گیا کہ وہ ’ہلکا سا گر گئی تھیں‘ لیکن اس جلنے سے ہونے والے نقصان کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہو سکا جب بعد میں لوسی نے چلنا اور بولنا شروع کیا۔

لوسی

’یہ بنیادی طور پر تھرڈ ڈگری کا جلنا تھا جو میرے کولہے کے بائیں طرف پر ہوا۔‘

سنہ 2016 میں کرسمس سے صرف چند دن پہلے ہی لوسی کو ذہنی امراض کے یونٹ سے ڈسچارج کر دیا گیا اور آخر کار جنوری میں ان کے والدین کو ان کی بیماری کے صحیح تشخیص کے بارے میں علم ہوا۔

لوسی کا مینٹل بریک ڈاؤن نہیں ہوا تھا بلکہ دراصل انھیں انسیفلائٹس تھا، دماغ کی ایک انتہائی نایاب اور سنجیدہ سوزش، جس کا اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے۔

یہ بعض اوقات وائرل انفیکشن یا مدافعتی نظام کے دماغ پر غلطی سے حملہ آور ہونے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

اس کی تشخیص بہت مشکل ہوتی ہے کیونکہ علامات سامنے میں کئی گھنٹے، دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ اس میں انسان کا رویہ بدل جاتا ہے، اس کے بولنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور وہ اکثر اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتا۔

انسیفلائٹس اعصابی حلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے یا تباہ کر سکتا ہے اور اس سے ہونے والے نقصان کی درجہ بندی دماغی چوٹ کے طور پر کی جاتی ہے۔ اس سے متاثرہ افراد اکثر بالکل مختلف نتائج کا سامنا کرتے ہیں۔

لنکن شائر پارٹنرشپ این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں ہماری توقع کے معیار سے کم نگہداشت اور اس کے لوسی اور اس کے اہلخانہ پر اثرات پر مخلصانہ طور پر افسوس ہے۔‘

’ہم اعلیٰ کوالٹی اور مریضوں کو محفوظ دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے پاس مستقبل کے لیے سبق سیکھنے کے لیے اندرونی تحقیق کا ایک مضبوط عمل موجود ہے۔‘

بجلی کے جھٹکے
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

ایک نئی شروعات

جب لوسی واپس گھر آئیں تو وہ ایک دن میں 23 گھنٹے سو رہی تھیں۔

’مجھے سب کچھ دوبارہ سے سیکھنا پڑا: بولنا، چلنا، میں لکھ پڑھ بھی نہیں سکتی تھی اور میں مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھیں۔‘

خوش قسمتی سے لوسی کے نانا نے، جو ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں، ان کی صحتیابی کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ کہتی ہیں ’میرے پسندیدہ سنگر ایلوس پریسلے ہیں تو میرے نانا نے ایلوس کے گانوں کے تمام سکرپٹ انٹرنیٹ سے حاصل کیے اور انھیں کی بورڈ پر پلے کرنا شروع کر دیا اور ایسے میں نے گانے گا کر دوبارہ بولنا سیکھنا شروع کیا۔‘

لیکن ابھی بھی وہ دوبارہ چلنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے فیس بک پر اپنے تمام دوستوں کو گریجویٹ ہوتے دیکھا اور سوچا کہ میری زندگی تو ختم ہو گئی ہے۔‘

’میں اتنی مایوس تھی کہ میں نے اپنے والدین سے کہا کہ کاش مجھے کبھی ہوش ہی نہ آتا۔‘

معذوری

ہسپتال سے فارغ ہونے کے ایک برس بعد لوسی کو پتا چلا کہ انھیں چلنے میں اب تک دشواری کیوں پیش آ رہی تھی۔ ریڈی ایٹر نے ان کی ٹانگ کے نچلے حصے میں اعصاب کو متاثر کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ کا نچلا حصہ مفلوج ہو گیا تھا۔

اگرچہ یہ ایک تباہ کن انکشاف تھا لیکن لوسی اور ان کے خاندان نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ گانا گانے، روزانہ لفظوں پر مشتمل گیم اور والکر کے ذریعے تھورا بہت چلنے کے بعد لوسی اس قدر صحت مند ہو گئیں کہ انھوں نے کالج واپس جا کر اپنی ڈگری مکمل کی۔

گریجویشن کے بعد لوسی نے، جو اب اپنی ٹانگ کو سہارا دینے کے لیے پلاسٹر پہنتی ہیں اور چھڑی کی مدد سے چلتی ہیں، ایک ماڈلنگ ایجنسی کے لیے آڈیشن دیا اور انھیں منتخب کر لیا گیا۔

لوسی

اپنے ماڈلنگ کیریئر میں لوسی اپنی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی رنگ برنگی چیزوں کے ساتھ ماڈلنگ کرتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ ایسا کرنے سے میڈیا پر معذور افراد کی نمائندگی میں اضافہ ہو گا۔

وہ اب تک این سمرز، لوو ہنی اور مس گائیڈڈ جیسے برانڈز کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے زیر جامہ میں پوز کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی لیکن ایسا بہت ہی کم ہے کہ آپ معذور افراد کو فیشن کی مہمات میں دیکھیں تو یہ کچھ ایسا ہے جس کے لیے ہمیں کام جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

لوسی معذور افراد کو زیادہ سے زیادہ سامنے لانے اور انسیفلائٹس کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے اپنا کام جاری رکھنے کی امید کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’کس کو علم ہے کہ مستقبل میں کیا ہے؟ اگر میرے تجربے نے مجھے کچھ سکھایا ہے تو وہ یہ کہ آپ اپنی زندگی میں کسی چیز کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *