Site icon Dunya Pakistan

میں - اور راہداری میں نصب دیوقامت مجسمہ

چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد، بن مانس جیسے چوڑے شانے، لحیم شحیم، تربوز جتنا منڈا ہوا سَر، آنکھوں پہ سیاہ چشمہ، دونوں کانوں میں سفید رنگ ٹوٹیاں جن کے تار گہرے نیلے رنگ کے کَسے ہوئے سوٹ کے اندر کہیں گم ہوگئے تھے، دائیں ہاتھ میں ایک چرمی بریف کیس۔ تن وتوش سے ایک خونخوار باکسر دکھائی دینے والا امریکی گارڈ نیم روشن راہداری کے بیچوں بیچ، صدر مملکت کے دفتر کی طرف رُخ کئے، دیوقامت مجسمے کی طرح ساکت وصامت کھڑا تھا۔ اور میں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایوان صدر کی چوتھی منزل کی اُسی برآمدہ نما راہداری کے جنوبی گوشے میں، اپنے چھوٹے سے دفتر کے اندر ”لے سانس بھی آہستہ“ کی تصویر بنا سکڑا سمٹا، کمرے کی مغربی کھڑکی سے، مارچ کی ڈھلتی سہہ پہر کے دراز ہوتے سائے دیکھ رہا تھا۔ راہداری کی شمالی سمت، آخری کمرہ صدرمملکت کا دفتر تھا۔ دونوں دفاتر کے درمیان کوئی سو سوا سو قدم کا فاصلہ تھا۔

یہ ذکر ہے 25 مارچ 2000 کا۔ امریکی صدر، بھارت کے پانچ روزہ تفصیلی دورے کے بعد پاکستان تشریف لاچکے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کو جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اپنا تسلط جمائے پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چلا تھا۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے بل کلنٹن، ”اس جمہوریت کُشی“ کے سبب پاکستان آنے سے گریزاں تھے لیکن سی۔آئی۔اے اور پینٹاگان کا مشورہ تھا کہ پاکستان کے ساتھ ربط وضبط کا ایک آدھ دریچہ کھلا رکھنا چاہئے۔ سو طے پایا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کا دورہ مکمل کرنے کے بعد صدرِ امریکہ چند گھنٹوں کے لئے اسلام آباد آئیں گے۔ اسے ”دورہ“ نہیں، ”سٹاپ اوور“ یعنی مختصر پڑاو کا نام دیا جائے گا۔ یہ ”سٹاپ اوور“ بھی عشوہ طراز مشرقی دوشیزہ کے پیامِ وصل کی طرح درجنوں شرائط سے جڑا ہوا تھا۔ پس پردہ طے ہونے والی ایک بڑی شرط یہ تھی کہ صدر کلنٹن کو، ریڈیو اور ٹی وی پر، پاکستانی قوم سے خطاب کا موقع دیاجائے گا۔

امریکی سفارت خانہ پوری طرح متحرک ہوچکا تھا۔ ”یوم جمہوریہ پاکستان“، 23 مارچ کی دوپہر سے ہی امریکی سیکورٹی ایجنسیز کے ہراول دستوں کی آمد شروع ہوگئی۔ وقفے وقفے سے امریکی ہیلی کاپٹر، ایوان صدر کے ہیلی پیڈ پر اترنے لگے۔ ان ہیلی کاپٹرز کے بطن سے ہٹے کٹے کمانڈوز، بھانت بھانت کے تھیلے، بیگ، بڑے بڑے جستی صندوق اور جانے کیا کیا کچھ برآمد ہونے لگا۔ سرشام ایوان صدر محاصرے کی سی کیفیت میں تھا۔ اگلے دن صدارتی کالونی میں رہائش پزیر افراد کی آمدورفت محدود کردی گئی۔ ایوان صدر میں کام کرنے والے عملے کی فہرستیں پہلے ہی تیار کرلی گئی تھیں۔ اَسّی (80) فی صد سے زائد کو غیرضروری قرار دیتے ہوئے حکم جاری ہوا کہ وہ 25 مارچ کو دفتر نہ آئیں۔ اجازت کی سعادت حاصل کرنے والے تمام اہلکاروں کو خصوصی کارڈ جاری کئے گئے۔ کارڈ پر اُسکی تصویر نقش تھی اور تمام ضروری کوائف کا اندراج تھا، یہ کارڈ نیلے رنگ کے ایک ربن سے بندھا تھا۔ تاکید کی گئی کہ تمام لوگ، اپنے عہدہ ومنصب سے قطع نظر، یہ کارڈ ہمہ وقت اپنے گلے میں لٹکائے رکھیں۔ یہ ہدایت بھی جاری ہوئی کہ سب اپنے اپنے کمروں تک محدود رہیں اور غیرضروری نقل وحرکت سے گریز کریں۔

مہمان عزیز کی آمد سے ایک دن قبل، 24 مارچ کو صدر کلنٹن کی میڈیاٹیم کے تین اہلکار، میرے کمرے میں آگئے۔ بطور پریس سیکریٹری، انہوں نے مجھے اُن شرائط سے آگاہ کیا جو باہمی سفارتی رابطوں میں طے پاچکی تھیں۔ میری برانچ کا ایک سینئر افسر نوٹس لینے لگا۔ کہا گیا۔
٭ یہ سرکاری، غیرسرکاری، رسمی یا غیررسمی کسی بھی طرح کا دورہ (visit) نہیں ہے۔ اسے محض سٹاپ اوور (stop over) کہا جائے۔
٭ ہوائی اڈے پر کوئی رسمی استقبالیہ تقریب نہیں ہوگی۔
٭ دفتر خارجہ کے دو تین متعلقہ عہدیداروں کے سوا کوئی ہوائی اڈے پر نہیں آئے گا۔
٭ ایوان صدر کے احاطے میں بھی کوئی استقبالیہ تقریب نہیں ہوگی۔
٭ یہاں صدر رفیق تارڑ، صدر کلنٹن کا استقبال کریں گے۔ پرویز مشرف یا دیگر اعلی فوجی عہدیدار نہیں آئیں گے۔
٭ سرکاری ریڈیو اور ٹی۔وی کے سوا پرائیویٹ میڈیا کو اجازت نہیں ہوگی۔
٭ ظہرانے میں جنرل مشرف شریک ہوں گے لیکن نہ تو صدر کلنٹن کو مشرف سے ہاتھ ملاتے دکھایا جائے اور نہ ہی دونوں کی ایک ساتھ کوئی تصویر بنے۔
٭ صدر کلنٹن قوم سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے ضروری انتظامات کرلئے جائیں۔

چائے کے دوران میں نے ٹیم کی قیادت کرنے والی خاتون سے پوچھا۔ ”کیا پہلے بھی کسی امریکی صدر نے دوسرے ملک جاکر قوم سے خطاب کیا ہے؟“ اس سوال کے تیکھے پن پر اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ دائیں بائیں بیٹھے اپنے رفقا کی طرف دیکھا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ ”مجھے تو یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ایسا ہوا ہو۔ مجھے وائٹ ہاوس میں دس بارہ سال تو ہوہی گئے ہیں۔ کیوں۔۔۔۔؟“ اس نے اپنے ایک ساتھی کا نام لے کر پوچھا۔ وہ بولا۔ ”ہاں۔ مجھے بھی یاد نہیں پڑتا لیکن شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پارلیمنٹ ختم کردی گئی ہے۔ ورنہ صدر یقینا پارلیمنٹ ہی سے خطاب کرتے، جیسا کہ انہوں نے انڈیا میں کیا ہے __ یا جیسے کہ روایت ہے! “ مجھے لگا کہ میرا سوال، میری ہی پردہ دری کی طرف پلٹ آیا ہے تو موضوع بدل دیا۔

صدر کلنٹن کی آمد سے گھنٹوں قبل، ایوان صدر کا جلال وجمال ، اور پاکستان کے دستوری سربراہ کے دفتر کا وقار وافتخار، سفید فام امریکیوں کے سامنے سرنگوں ہوچکے تھے۔ قصر صدارت کا چپہ چپہ ان کی فرمانروائی میں تھا۔ ہم سب ان کی رعایا تھے۔ اسلام آباد کا چونچال پن بھی آداب غلامی میں ڈھل چکا تھا۔ چار سو ایک سناٹا طاری تھا۔ آوازیں، دَم سادھے پڑی تھیں۔ کسی آسیب کا سایہ شہر پر سیاہ رنگ تنبو کی طرح تنا تھا۔ ہوائی اڈے کو ایوان صدر سے ملانے والی دو رویہ شاہراہ پر ہول طاری تھا۔ صدر کے موٹر کیڈ کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ کون سی لین پسند کرتا ہے۔ عملًا دونوں لینز پر گاڑیاں فراٹے بھرنے لگیں۔ گردوپیش کی ساری بستیاں سِیل کردی گئی تھیں۔ چپے چپے پر چوکس محافظ کھڑے تھے۔ مارگلہ کی پہاڑی چوٹیوں پر بھی مورچے بن گئے تھے۔ ان تمام حفاظتی انتظامات کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی اونچی مچانوں میں بیٹھے امریکی خود کررہے تھے۔ آن واحد میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر وزیراعظم کو اٹک قلعہ کی کوٹھڑی میں پھینک دینے والے مقتدر آمر اور جری کمانڈو کے پاس اپنے وطن کی بے توقیری وسبک سری کا کوئی مداوا نہ تھا۔ اُس کے لئے تو شاید یہ بات بھی باعث ندامت نہ تھی کہ سات سمندر پار کا ایک سفید فام حکمران، اُس سے ہاتھ نہ ملانے کی شرط منوا کر یہاں آرہا ہے۔

ہوائی اڈے پر صدر کلنٹن کے نزول، ایوان صدر آمد، صدر تارڑ سے ملاقات، چھٹی منزل کے ظہرانے، پرویز مشرف کی شرکت، چیف جسٹس ارشاد حسن کے صدر امریکہ سے ”مذاکرات“ اور کلنٹن کے پاکستانی قوم سے خطاب کا احوال کسی اور کالم کے لئے چھوڑتے ہوئے میں اس چھوٹے سے ”وقوعہ“ کی طرف آتا ہوں، جو میرے حافظے کی سیلن زدہ کوٹھڑی میں میل خوردہ، بوسیدہ یاد دل کی گٹھڑی میں بندھا پڑا ہے۔

ظہرانہ تمام ہوچکا تھا۔ مہمان رخصت ہوگئے تھے۔ صدر کلنٹن، قوم سے خطاب کی نوک پلک سنوار رہے تھے۔ میں ’فرمان امروز‘ کی نزاکتوں کو نہ جانے کیوں بھول گیا۔ صدر تارڑ سے ایک ضروری مشورہ کرنے اپنے دفتر سے نکلا۔ اچانک میری نظر راہداری کے بیچوں بیچ ایستادہ تنومند امریکی کمانڈو پر پڑی۔ ایک جھرجھری سی آئی لیکن میں رکا نہیں۔ کمرے کا دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز اور میرے قدموں کی آہٹ سن کر دیوقامت مجسمے میں حرکت ہوئی۔ اُس نے فوراً پلٹ کر میری طرف دیکھا۔ اُس کا بایاں ہاتھ غالباً غیرشعوری طورپر کوٹ کی اندرونی جیب کی طرف بڑھا جو کافی ابھری ہوئی تھی۔ قریب پہنچا تو اُس نے اشارے سے مجھے روکا۔ کوئی بات کئے بغیر اُس نے روبوٹ کی طرح میرے گلے میں لٹکے کارڈ کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ میرے چہرے پر نگاہ ڈالی۔ پھر پتھرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
”کہاں جانا ہے؟“
اُس کا تن وتوش اور اس کا سرزنش نما تفتیشی لہجہ اپنی جگہ، میرے اعصاب میں ارتعاش سا پیدا کردینے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ امریکی تھا۔ انڈونیشیا، یونان، لاطینی امریکا اور دنیا بھرکے مختلف حصوں میں امریکی چیرہ دستیوں کے مناظر میرے ذہن کی تختی پر ابھرنے لگے۔ سہمے ہوئے انداز میں بولا۔ "صدر سے ملنا ہے" اس نے براہ راست ایک پتھر دے مارا۔
ابوغریب، گوانٹا نامو، بگرام جیسے عقوبت خانے میرے ذہن کی تختی پر ابھرنے لگے۔ سہمے ہوئے انداز میں بولا۔ ”صدر سے ملنا ہے“ اُس نے براہ راست ایک پتھر دے مارا۔
”کیوں؟“
میں نے بصدمشکل اپنے حواس مجتمع رکھتے ہوئے کہا۔ ”ایک بات کرنی ہے اُن سے“
اُس نے ایک بار پھر کالا چشمہ اتار کر میرے گلے میں لٹکے ”طوق“ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور بولا۔
”کتنی دیر رُکناہے؟“
”یہی کوئی چار پانچ منٹ“ میں نے ہکلاہٹ پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔
اُس نے اُسی پتھرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ ”بہت ضروری بات ہے کیا؟ فون پر نہیں ہوسکتی؟“
میری ہمت اب جواب دے چکی تھی۔ غلامانہ فدویت سے بولا۔ ”جی ہوسکتی ہے فون پر بھی۔“ اور اپنے دفتر کو پلٹ آیا۔
اپنی زخم خوردہ عزّتِ سادات کو سہلاتے ہوئے میں سوچنے لگا۔ ”ہم امریکہ جائیں تو ائیر پورٹس پر ہمیں برہنہ کردیا جاتا ہے۔ یہاں مملکت خداد پاکستان کی سب سے عالی مرتبت بارگاہ میں بھی یہ لوگ ہمیں کھڑے کھڑے بے لباس کردیتے ہیں“۔

اکیس (21) برس پہلے کی یادیں سنولا سی گئی ہیں۔ کلنٹن کے دورے کی تفصیلات بھی پرانی ڈائری میں پڑے پڑے باسی ہوچلی ہیں۔ لیکن ایوان صدر کی چوتھی منزل کی نیم روشن، نیم تاریک راہداری کے بیچوں بیچ نصب ایک دیوقامت مجسمے کے نقوش آج بھی میرے حافظے کی لوح پر کندہ ہیں۔ اکثر اشتباہ سا ہوتا ہے کہ وہ اب بھی، بارگاہ اقتدار کی ہر راہداری میں اُسی شاہانہ طمطراق سے کھڑا ہے اور ہم سب نیلے ربن والے کارڈ گلوں میں ڈالے، خارش زدہ چوہوں کی طرح اپنے بلوں میں پڑے کسمسا رہے ہیں۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version