میں بھی ایک کھلونا ہوں

میں بھی ایک کھلونا ہوں
کبھی معصوم ہاتھوں پر تھاما جاتا ہوں
تو کبھی بے رحمی سے پٹکا جاتا ہوں
کوئی مجھے سینے سے لگاتا ہے
تو کوئی مجھے اپنا ساتھی بناتا ہے
کسی کو عمر بھر مری یاد تڑپاتی ہے
تو کوئی مجھ سے بچھڑنے کا غم مناتا ہے
کبھی دکانوں میں سجایا جاتا ہوں
تو کبھی میلے میں دکھایا جاتا ہوں
کبھی پانے کی چاہت میں جھگڑتے ہیں
کبھی دولت سے لوگ خریدتے ہیں
سجایا جاتا ہوں ہر گھر میں
کہیں محلوں میں تو کہیں جھونپڑیوں میں
کبھی بستر پر لٹایا جاتا ہوں
کبھی گودی کھلایا جاتا ہوں
مگر پھر بھی کھلونے کو یہ
ڈر لگا رہتا ہے
کہ کہیں ٹوٹ نہ جائے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: