'میں زندہ ہوں' چاچا کرکٹ کی اپنی موت کی افواہوں کی تردید

صوفی عبدالجلیل المعروف چاچا کرکٹ نے اپنی موت سے متعلق افواہوں کی تردید کردی اور کہا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔

گزشتہ روز چاچا کرکٹ کی موت سے متعلق افواہیں اس وقت گردش کرنا شروع ہوئیں جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے ہیڈ کیوریٹر حاجی بشیر کے انتقال کی خبر دی تھی۔

پی سی بی کی ٹوئٹ میں حاجی بشیر کی موت پر دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے ہیڈکیوریٹر کے انتقال پر غمزدہ ہے۔

ٹوئٹ میں ان کے اہلخانہ اور دوستوں سے بھی اظہارِ تعزیت کیا گیا تھا۔

تاہم پی سی بی اور کرکٹرز کی جانب سے حاجی بشیر کی تصاویر شیئر کرنے پر شائقین انہیں چاچا کرکٹ سمجھ بیٹھے اور ان کے انتقال کی خبریں وائرل ہوگئیں۔

بعدازاں چاچا کرکٹ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ چاچا کرکٹ بالکل ٹھیک ہیں اور صحت مند ہیں۔

ٹوئٹ میں کہا گیا کہ برائے مہربانی ایسی خبریں تصدیق کے بغیر شیئر کرنے سے گریز کریں۔

علاوہ ازیں اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر چاچا کرکٹ کا ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اس وقت صوفی عبدالجلیل چاچا کرکٹ دنیا بھر اور پاکستان میں اپنے شائقینِ کرکٹ سے مخاطب ہے۔

ویڈیو میں کہا گیا کہ فیس بک پر میری موت سے متعلق ایک جعلی خبر چل رہی ہے، انہوں نے کہا کہ موت برحق ہے اور سب کو ایک نہ ایک دن آنی ہے۔

چاچا کرکٹ نے کہا کہ جس نے بھی میری تصویر لگا کر فیس بک پر یہ خبر پھیلائی ہے اللہ اسے ہدایت دے۔

انہوں نے کہا کہ میں شائقین کرکٹ سے کہنا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں اور بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اور پاکستان کا جھنڈا لہراتا رہوں گا۔

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

خیال رہے کہ چاچا کرکٹ اپنے مخصوص لباس اور پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی میں خاص انداز کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی شائقین بلکہ بیرون ملک کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

عالمی مقابلوں میں بھی ٹی وی کیمرا کھیل کے دوران چاچا کرکٹ کے خوشی اور مایوسی پر مشتمل جذبات کی عکس بندی کرتا ہے۔

چاچا کرکٹ کو قومی ٹیم کی بے لوث حوصلہ افزائی کے اعزاز میں متعدد سرٹیفکیٹ اور تمغے مل چکے ہیں۔

وہ پہلی مرتبہ 1994 میں اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب وہ متحدہ عرب امارات میں منعقد آسٹریلیشیا کپ میں اپنے مخصوص لباس کے ساتھ قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پہنچے۔

چاچا کرکٹ نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ’بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میں 1996 تک متحدہ عرب امارات میں پرکشش ملازمت کررہا تھا‘۔

چاچا کرکٹ کا کہنا تھا کہ انہیں یو اے ای میں ملازمت چھوڑنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *