نئی سحر کی امید

مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔بے روزگاری ملکی تاریخ کی بلندترین سطح پرجاپہنچی ہے۔معاشی شرح نموگزشتہ ربع صدی کی پست ترین بتائی جارہی ہے۔ایسے عالم میں روشن صبح،نئے دن کی نویداوراچھے دنوں کی امیدرکھنے کی تلقین حقیقت پسندی سے زیادہ سیاسی نعرے بازی لگتی ہے۔موجودہ حکومت کی مستقل پالیسی یہ رہی ہے کہ ہر خرابی کی ذمہ داری گزشتہ حکومتوں پرڈال کرخودکوبری الذمہ ثابت کردیا جائے۔پہلے ایک،دوبرس تویہ بات کسی حدتک قبول بھی کرلی جاتی کہ نئے نئے آئے ہیں۔مگراب تو چوتھا برس بھی آدھاگزرنے والاہے۔اتنے ترجمان چشم فلک نے آج تک کسی حکومت کے نہیں دیکھے،جتنے موجودہ عہدمیں سامنے آئے ہیں۔ترجمانوں کی اس فوج ظفرموج کی بنیادی ذمہ داری اپوزیشن اور حکومتی مخالفین کوگالیاں دینے کے علاوہ عمران خان کے ذاتی اوصاف حمیدہ بیان کرنا محسوس ہوتی ہے،جو غالب کے الفاظ میں یوں ہے

تیرے جواہرِطرفِ کلاہ کو کیا دیکھیں
ہم اوجِ طالع لعل وگہرکودیکھتے ہیں

مسئلہ مگریہ ہے کہ حکومتی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔اس کابینہ کی کارکردگی کوناکارکردگی کہنے کو دل چاہتاہے۔
تعمیراتی منصوبے اس حکومت کی روزاول سے ترجیح نہیں تھے۔اس بابت ان کا خیال تھا کہ سڑکیں وغیرہ بنانے سے قومیں سربلند نہیں ہوسکتی ہیں،حیرت بھی نہیں ہوئی اگروعدہ کردہ پچاس لاکھ گھروں میں سے ابھی تک پانچ ہزاربھی تعمیر نہیں کئے گئے۔مہنگائی مگر اس قدرزیادہ ہوجائے گی یہ کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا۔مخالفین کاذکر ہی نہیں کرتے،جو اِس بندوبست کے حامی تھے ان کے گمان میں بھی یہ گرانی کا منظرنہیں تھا۔مہنگائی وہ موضوع اورعمل ہے جس سے ہر شہری متاثر ہوتاہے۔بجلی،پٹرول،گیس کسی خاص طبقے کے پاکستانی کی نہیں بلکہ ہرفردکی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں اضافے سے ہرگھرانہ متاثرہوتا ہے۔چینی،گھی،آٹابنیادی انسانی ضرورتیں ہیں،ان کی ارزانی سے اور گرانی سے بھی ہرگھرکو فرق پڑتاہے۔مجھے ایک سندھی ہندودوست کی دادی کا سنایاہوایہ سرائیکی مقولہ ہمیشہ یادرہتاہے،وہ خاندانی طورپرچونکہ ملتان سے ہیں۔

؎ پیٹ نہ پئیاں روٹیاں تے سبھےّ گلاں کھوٹیاں

یقین کیجئے حکومت کی مخالفت مقصو دنہیں،لوگوں کی حالت زاردیکھ کر آج کل ہراہل دل رنجیدہ ہے۔سفیدپوش طبقے کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔،محنت کشوں کے حالات ان سے بھی زیادہ مشکل اور تلخ ہیں۔معیشت کی مستقل گراوٹ سے لاکھوں لوگ بے روزگاری کا شکار ہو گئے ہیں،ایک کروڑنوکریاں دینے کا وعدہ اگرعمران خان پوراکرنا بھی چاہیں تو موجودہ معاشی حالات میں یہ اب ممکن بھی نہیں رہا۔آئی ایم ایف نے ہماری گرتی ہوئی معیشت کو سہارادینے کے لئے ایک ارب ڈالر قرضہ جاری کیا ہے۔ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ یہ انٹر نیشنل مونیٹری فنڈجب قرضہ دیتا ہے تواس کے ساتھ کڑی شرائط بھی عائد کرتا ہے۔اس عالمی معاشی ادارے کی شر ائط کا لازمی نتیجہ مزید مہنگائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔یہ ناگزیرعمل ہے۔اگر ملک میں کوئی چیز سستی آج مل بھی رہی ہے تو وہ آئندہ نہیں ملے گی۔مہنگی چیزیں مزیدمہنگی ہو جائیں گی۔نئے ٹیکس عوام پرلاگوکئے جائیں گے۔اگر کسی شعبے میں ٹیکس کی کوئی چھوٹ تھی بھی تو وہ ختم کردی جائے گی۔آنے والے دن مزید مشکل دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے عالم میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ غم دل کاسفینہ کہاں جا کررکے گا؟کب یہ مہنگائی کا طوفان تھمے گا؟سچی بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت سے اب کوئی امید نہیں ہے کہ یہ معیشت اورملک میں کوئی انقلابی تبدیلی لے کر آجائے۔اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان حکمرانوں کے جانے کے بعدہی کوئی مثبت سمت کی طرف معیشت کا سفر شروع ہوگا۔بہلول دانا کی وجہئ شہرت درویشی کے علاوہ شاہی خاندان سے تعلق بھی تھی۔خلیفہ ہارون الرشید نے ایک بار اسے دربار میں طلب کیا،خلیفہ بھی جانتا تھا کہ بہلول اللہ سے قرب رکھنے والا شخص ہے،اگرچہ رشتے میں اس کا کزن ہی ہے۔ہارون الرشید نے بہلول سے مخاطب ہوکر التجا کی کہ میرے حق میں دعاکرو۔بہلول دانانے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور کہا کہ اللہ کرے تو مرجائے۔اس پر ہارون الرشید نے کہا کہ اے بندہئ خدا،یہ تو نے میرے حق میں کیا دعا کی ہے؟یہ تو بددعاہے۔اس پر بہلول نے کہا کہ نہیں،خلیفہ میں نے تمہارے حق میں ہی دعا کی ہے۔تم جتنی زیادہ دیر زندہ رہوگے،تمہارے گناہ بھی اتنے ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔جتنی جلدی تم مرجاؤگے،تمہارے گناہ بھی اتنے ہی کم ہوں گے۔بات امید سے شروع ہوئی تھی۔کہ بہتری کی کیا امید ہے؟موجودہ ملکی حالات اور معاملات کو دیکھا جائے تواس میں بہتری کی واحد صورت یہ نظرآتی ہے کہ اس حکومت کا خاتمہ ہو جائے۔اب یہ خوش فہمی دورہوچکی ہے کہ موجودہ حکمرانوں میں کوئی اہلیت ہے، اچھی تبدیلی لانے کی۔وقت اور تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ان میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے جوپاکستان کوترقی دینے کے لئے درکار ہے۔نئی سحرکی امید یہی ہے کہ یہ حکمران ٹولہ اب رخصت ہوجائے۔

منحصرجس کی ہومرنے پہ امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہئیے

error: