نئے سال کی حکومتی ڈائری کیسی ہو!

کرنل فریدی ’’جاسوسی دنیا‘‘ کا کردار تھا، یہ کردار ابنِ صفی نے تخلیق کیا تھا۔ کرنل فریدی کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ دنیا کا ہر ہنر جانتا تھا۔ جرائم کی تفتیش تو خیر اُس کا بنیادی کام تھا مگر اِس کے علاوہ وہ لڑائی بھڑائی کا بھی ماہر تھا، تنہا آٹھ دس آدمیوں سے بھِڑ جانا اُس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہ آدھ گھنٹے تک سانس روک کر پانی کی تہہ میں رہ سکتا تھا، بیک وقت دو آدمیوں کی فائرنگ سے خود کو بچا سکتا تھا اور طاقت ور اِس قدر تھا کہ ایک دیو قامت آدمی کو اپنی پیٹھ پر لاد کر دوڑ لگا سکتا تھا اور اِس دوران اُس کا سانس بھی نہیں پھولتا تھا۔ دنیا کے بیشتر سانپوں کی اقسام سے واقف تھا، گھر میں اُس نے خوفناک قسم کے زہریلے سانپ اور خونخوار کتے پال رکھے تھے اور اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود وہ اِن سانپوں کو خود دودھ پلاتا تھا۔ فریدی دنیا کے بیشتر ممالک کی سیر کر چکا تھا، تمام بڑی زبانیں روانی کے ساتھ بلکہ اہلِ زبان کے لہجے میں بول سکتا تھا، ہر قسم کے جغرافیے سے واقف تھا، افریقی قبائل کے رسم و رواج پر بھی اُس نے تحقیق کی ہوئی تھی، اُن کی بیشتر بولیاں بھی سمجھ لیتا تھا اور افریقہ میں پائی جانے والی نادر و نایاب جڑی بوٹیوں کے خواص کا بھی اسے اچھی طرح علم تھا۔ وہ ہیلی کاپٹر اور جہاز اڑانا بھی جانتا تھا، اُس کی ایک ذاتی ’بلیک فورس‘ تھی جو اُس کے اشارے پر ہر قسم کا آپریشن سر انجام دیتی تھی۔ اور یہ بتانے کی ضرورت تو بالکل نہیں کہ وہ میک اپ کا بھی ماہر تھا اور وقت پڑنے پر کوئی بھی روپ دھار سکتا تھا۔ یہ تمام خوبیاں اکیلے کرنل فریدی میں تھیں اور وہ کوئی بوڑھا شخص بھی نہیں تھا، تیس پینتیس سال کی عمر میں ہی اُس نے یہ سب کام سیکھ لیے تھے۔ ویسے تو اِس قسم کے دیومالائی کردار کے لیے کسی اداکار کا انتخاب کرنا خاصا مشکل کام ہے مگر ابنِ صفی نے کسی جگہ لکھا ہے کہ ہالی وڈ اداکار ریمنڈ بر کرنل فریدی کے کردار کے لیے سب سے موزوں تھا۔ میں ابنِ صفی کی اِس رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرے خیال میں راک ہڈسن یا ڈِرک بوگارڈ کرنل فریدی کے کردار کے لیے بہترین تھے۔

معافی چاہتا ہوں میں کہیں دور نکل گیا، واپس آتا ہوں۔ موضوع فریدی نہیں اور نہ ہی جاسوسی ناول ہیں۔ موضوع ہے کہ ایک انسان میں بیک وقت کتنی صلاحیتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک لڑکی اٹھارہ سال کی عمر میں ٹینس کی بہترین کھلاڑی بن سکتی ہے، ایک عورت سو سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر سکتی ہے، کوئی جوگی بغیر کھائے پیے کئی کئی دن قبر میں گزار سکتا ہے، ایک شخص دو بندوں کو بغل میں داب کر قلعے کی فصیل پر دوڑ لگا سکتا ہے، کوئی آدمی ٹھٹھرتے سمندر میں ڈولفن کی طرح غوطہ لگا سکتا ہے اور کوئی بچہ چھوٹی سی عمر میں دنیا کی مختلف زبانیں بھی سیکھ سکتا ہے۔ یہ تمام باتیں ممکن ہیں مگر یہ ممکن نہیں کہ کوئی کوانٹم فزکس کا ماہر بھی ہو اور ساتھ میں ومبلڈن کا چیمپئن، پانی میں سانس روکنے کا مظاہرہ کرنے والا فنکار، تنے ہوئے رسے پر چلنے والا بازی گر، دنیا کی ساٹھ زبانیں اور بولیاں سمجھنے والا جینئس اور قبر میں چالیس دن گزارنے والا سادھو بھی ہو۔ ایسی باتیں صرف ناولوں اور افسانوں میں ہی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ایک انسان کی زندگی بہرحال محدود ہوتی ہے اور اُس کے جسم کے اعضا بھی ایک حد تک ہی کوئی کام کر سکتے ہیں، اِس لیے سمجھدار لوگ اپنی زندگیوں کو مختلف خانوں یا حصوں میں تقسیم کرکے بہت سے کام کر سکتے ہیں۔ مگر یہ ایک بہت ہی مثالی قسم کی منصوبہ بندی ہوگی جو ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے زندگی میں کامیابی کے لیے زیادہ تر لوگ ایک کام میں مہارت حاصل کرتے ہیں اور پھر اُسی کے بل بوتے پر زندگی کی باقی آسائشیں حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ کلیہ آسان ہے، آزمودہ اور کارگر ہے۔

انسانوں کی طرح پسماندہ قومیں بھی اسی کلیے پر عمل کرکے ترقی کر سکتی ہیں۔ غریب ممالک کے پاس چونکہ وسائل کی کمی ہوتی ہے، ریاست کی عملداری بھی کمزور ہوتی ہے اور ملک کے قابل اور ہنر مند افراد بھی دوسرے ممالک میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، اِس لیے ایسے ملکوں کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور مقابلہ سخت۔ اِن ممالک میں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے، چاہے وہ حکومت جمہوری ہو یا غیرجمہوری، وہ اپنے لیے ایسے اہداف مقرر کر لیتی ہے جنہیں پانچ سال میں حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اُن کا حال ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی شخص نئے سال کے آغاز پر یکم جنوری کو ڈائری میں لکھتا ہے کہ وہ اِس برس سو کتابیں پڑھے گا، چار کتابیں خود بھی لکھے گا، بیس کلو وزن کم کرے گا، جہاز اڑانا سیکھے گا، دس ملکوں کی سیر کرے گا، ٹینس کی چمپئن شپ جیتے گا، جیمز بانڈ کو لے کر ایک فلم بھی بنائے گا اور اپنے بیوی بچوں کو ’کوالٹی ٹائم‘ بھی دے گا۔ ظاہر ہے کہ اِن میں سے ایک کام بھی نہیں ہو پاتا۔ غریب ملکوں میں نئی حکومت کی ڈائری بھی اسی قسم کی ہوتی ہے اور جب اُس کی مدت ختم ہوتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہو سکا۔ ایسے ممالک کے پاس بہترین آپشن یہ ہے کہ وہ اپنے لیے کسی ایک میدان کا انتخاب کر لیں اور پھر اُس میں اپنی مہارت کے جھنڈے گاڑیں۔ تھائی لینڈ نے سیاحت کو ہدف بنایا اور پھر اسی کے بل بوتے پر ترقی کی حالانکہ اِس ملک میں مارشل لا بھی لگتا رہا اور باقی قباحتیں بھی موجود رہیں۔ بنگلہ دیش نے بھی دو تین ہدف سامنے رکھے اور صرف انہی پر فوکس کیا، معیشت درست کی، آبادی کم کی اور عورتوں کو کام کے مواقع دیے۔ دوسری طرف شمالی کوریا کی مثال ہے، اس ریاست نے فیصلہ کیا کہ وہ عوامی فلاحی ریاست بننے کی بجائے ایک فوجی قوت بنے گی اور وہ بن گئی مگر اپنے عوام کی خوشحالی قربان کر کے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم ایٹم بن بنائیں گے اور ہم نے بنا لیا حالانکہ پوری دنیا ہمارے اس ہدف کی مخالف تھی۔ لیکن پھر صرف ایٹم بم ہی بن سکا،معاشی بم ہم نہیں بنا سکے۔

اب یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ بطور عام انسان اور بطور پسماندہ قوم ہم نے اپنے لیے کس قسم کے اہداف مقرر کرنے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنی زندگی میں کرنل فریدی جیسا نہیں بن سکتا تو پھر ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ بطور قوم بھی ہم کرنل فریدی نہیں بن سکتے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ ہم کسی ایک ہدف پر فوکس کریں جو عوامی فلاح سے متعلق ہو اور پھر اُس کے حصول میں جُت جائیں۔ اگر ہم ایٹم بم بنانے کے لیے ایسا کر سکتے ہیں تو معاشی بم بنانے کے لیے کیوں نہیں کر سکتے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.