نائیجیریا: جب میڈیکل کالج میں اپنے ہی دوست کی لاش سامنے آ گئی

نائجیریا میں میڈیکل کے ایک طالب علم اپنی کلاس کے دوران ایک لاش کو دیکھ کر اتنے پریشان ہوئے کہ وہ کلاس چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔

26 سال کے اینیا ایگبے کو اب بھی واضح طور پر یاد ہے کہ سات سال پہلے جمعرات کی اس دوپہر نائیجیریا کی کالابار یونیورسٹی میں وہ اپنے ساتھی طالب علموں کے ساتھ تین میزوں کے گرد جمع ہوئے، اور ہر میز پر ایک لاش تھی۔

کچھ ہی منٹ بعد وہ چیخنے لگے اور وہاں سے بھاگ گئے کیونکہ ان کا گروپ جس لاش کی چیر پھاڑ کرنے والا تھا وہ ان کے دوست ڈیوائن کی تھی۔

انھوں نے بتایا ’ہم ساتھ کلب جایا کرتے تھے۔ ان کے سینے کی دائیں جانب گولیوں کے دو سوراخ تھے۔‘

اویفو اینا ان کئی طالب علموں میں شامل تھیں جو ایگبے کے پیچھے بھاگے اور کلاس سے باہر انھیں روتا پایا۔

اینا نے ہمیں بتایا ’ہم جو لاشیں سکول میں استعمال کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کو گولیاں لگی ہوتی ہیں۔ مجھے یہ احساس ہونے کے بعد بہت برا لگا کہ کچھ لوگ اصل میں مجرم نہیں بھی ہو سکتے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ صبح سویرے انھوں نے اپنے میڈیکل سکول میں خون آلود لاشوں سے لدی ایک پولیس وین کو دیکھا تھا۔

ایگبے نے اپنے دوست ڈیوائن کی فیملی کو جب پیغام بھیجا تو پتہ چلا کہ وہ ڈیوائن اور ان کے تین ساتھیوں کی سکیورٹی ایجنٹس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ان کی تلاش میں مختلف پولیس سٹیشنز کے چکر لگا رہے ہیں۔

آخر کار ڈیوائن کا خاندان ان کی لاش بازیاب کرانے میں کامیاب ہو گیا۔

A protester holds up a scarf with the same colours as the Nigerian national flag during a live concert at the Lekki toll gate in Lagos, on October 15, 2020, during a demonstration to protest against police brutality and scrapping of Special Anti-Robbery Squad (SARS).
،تصویر کا کیپشننائیجیریا میں پولیس مظالم کے خلاف مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

ایگبے کی اس چونکا دینے والی دریافت نے نائیجیریا میں طبی طالب علموں کے لیے دستیاب لاشوں کی کمی اور پولیس تشدد کے متاثرین کے مسئلے کو نمایاں کیا ہے۔

سولہویں اور انسیویں صدی کے درمیان برطانیہ میں مختلف قوانین کے تحت پھانسی پانے والے مجرموں کی لاشیں میڈیکل سکولوں کو دینے کی اجازت دی تھی۔ ایک ایسی سزا جو سائنس کے مقاصد کے کام بھی آئی۔

نائیجریا کے موجودہ قانون کے مطابق ’لاوارث لاشوں‘ کو سرکاری مردہ خانوں سے میڈیکل سکولوں کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ریاست سزائے موت پانے والے مجرموں کی لاشیں بھی دے سکتی ہے تاہم نائجیریا میں آخری پھانسی سنہ 2007 میں ہوئی تھی۔

طبی جریدے کلینیکل اناٹومی میں سنہ 2011 کی ایک تحقیق کے مطابق نائیجیریا کے میڈیکل سکولوں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد سے زیادہ لاشیں ’ان مجرموں کی ہیں جو فائرنگ میں مارے گئے۔‘

لیکن حقیقت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے مشتبہ افراد تھے جنھیں سکیورٹی فورسز نے گولی مار کر ہلاک کیا۔ ان کی عمریں اندازاً 20 سے 40 برس کے دوران تھیں، ان میں سے 95 فیصد مرد تھے اور مرنے والے ہر چار میں سے تین کم آمدن والے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

یونیورسٹی آف نائیجیریا میں اناٹومی کی پروفیسر ایمیکا انیانو کہتی ہیں کہ ’دس برس بعد بھی کچھ نہیں بدلا۔‘

’ایمبولینس ڈیوٹی‘

گذشتہ برس نائیجیریا کی حکومت نے مختلف ریاستوں میں پولیس کی بربریت کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے عدالتی پینل قائم کیے۔

ایسا #EndSars احتجاج کے ردعمل میں ہوا تھا۔ یہ احتجاج جنوبی ریاست ڈیلٹا میں ڈکیٹی کی وارداتوں سے نمٹنے کے لیے قائم پولیس کے سپیشل اینٹی روبری سکواڈ ( SARS) کے ہاتھوں ایک نوجوان کی مبینہ طور پر فائرنگ سے ہلاکت کی وائرل ویڈیو کے بعد ہوئے۔

نائیجیریا کی حکومت کے ان عدالتی پینلز کے سامنے بہت سے ایسے لوگوں نے گواہی دی جن کے رشتہ داروں کو سکیورٹی ایجنٹس نے گرفتار کیا اور اس کے بعد وہ کبھی نہیں ملے۔

پولیس نے زیادہ تر ایسے مقدمات میں یہ کہہ کر اپنا دفاع کیا کہ لاپتہ افراد دراصل مسلح ڈاکو تھے جو فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

جبکہ پولیس کے ترجمان فرینک ایم بی اے نے مجھے بتایا کہ وہ کسی ایسے معاملے سے واقف نہیں جہاں پولیس نے لاشوں کو لیبارٹریوں یا مردہ خانوں میں پھینکا۔

A protester gestures as he holds a placard at a live concert at the Lekki toll gate in Lagos, on October 15, 2020, during a demonstration to protest against police brutality and scrapping of Special Anti-Robbery Squad (SARS

36 برس کے تاجر چیتا نمنانی نے اینگو ریاست میں جوڈیشل پینل کے سامنے پیش کی گئی اپنی تحریری گواہی میں کہا کہ انھوں نے سنہ 2009 میں پولیس کے سپیشل اینٹی روبری سکواڈ ( SARS) کے تشدد سے مرنے والے افراد کی لاشیں ٹھکانے لگانے میں سیکورٹی ایجنٹس کی مدد کی تھی.

انھوں نے کہا کہ ایک رات ان سے کہا گیا کہ وہ تین لاشوں کو ایک وین میں لادیں اور اس کام کو پولیس کی زبان میں ’ایمبولینس ڈیوٹی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کے بعد پولیس نے انھیں زنجیروں سے باندھا اور قریب ہی یونیورسٹی آف نائیجیریا ٹیچنگ ہسپتال (یو این ٹی ایچ) لے گئے جہاں چیتا نمنانی نے لاشوں کو وین سے اتارا اور مردہ خانے کا ایک ملازم انھیں لے گیا۔

چیتا نمنانی نے مجھے بتایا کہ بعد میں انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

جنوب مشرقی شہر اووری میں واقع ایک نجی ہسپتال الادینما کے مردہ خانے نے مبینہ مجرموں کی لاشیں لینا بند کر دیں ہیں کیونکہ پولیس ان لاشوں کی معلومات کبھی کبھار ہی دیتی یا مرنے والے کے ورثا کو اس حوالے سے کوئی اطلاع دی جاتی ہے۔

مردہ خانے کے منتظم یوگونا امامسی کے مطابق ’بعض اوقات پولیس ہمیں لاشیں قبول کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے لیکن ہم اصرار کرتے ہیں کہ وہ انھیں سرکاری ہسپتال لے جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’پرائیویٹ مردہ خانوں کو میڈیکل سکولوں کو لاشیں عطیہ کرنے کی اجازت نہیں لیکن سرکاری مردہ خانے ایسا کر سکتے ہیں۔‘

رشتہ داروں کو اندھرے میں چھوڑ دیا گیا

ایک سینئیر وکیل فریڈ اونوبیا کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر سزائے موت پانے والے مجرموں کی لاشوں پر ان کے رشتہ داروں کا حق ہے۔

انھوں نے کہا ’اگر ایک خاص وقت تک کوئی ان لاشوں کے لیے نہیں آتا تو پھر انھیں ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھیجا دیا جاتا ہے۔‘

’لیکن ماورائے عدالت ہلاکتوں کے ساتھ صورتحال بدتر ہے کیونکہ رشتہ داروں کو موت کے بارے میں کبھی پتہ ہی نہیں چلتا یا وہ لاشوں کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔‘

یہ محض اتفاق تھا کہ ایگبے کے دوست ڈیوائن کا خاندان ان کی مناسب تدفین کرنے میں کامیاب رہا۔

نائیجیریا کی ایسوسی ایشن آف اناٹومی اب اس قانون میں تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مردہ خانے سکولوں کو عطیہ کرنے والی لاشوں کا مکمل تاریخی ریکارڈ اور خاندان کی رضامندی حاصل کریں۔

یہ قانون لوگوں کو موت کے بعد اپنے جسم میڈیکل سائنس کے لیے عطیہ کرنے کے طریقے بھی طے کرے گا۔

ایسوسی ایشن کے سربراہ اولگبینگا آیانوگا کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں بہت سی تعلیم اور دلائل موجود ہوں گے تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ اگر وہ اپنا جسم عطیہ کرتے ہیں تو یہ معاشرے کی بھلائی کے لیے ہو گا۔‘

جہاں تک ایگبے کی بات ہے تو انھیں اپنے دوست کی لاش کو دیکھ کر اتنا صدمہ پہنچا کہ انھوں نے ہفتوں تک اپنی پڑھائی چھوڑ دی، ہر بار جب وہ اناٹومی روم میں داخل ہونے کی کوشش کرتے تو انھیں ڈیوائن کا خیال آتا۔

انھوں نے اپنے ہم جماعتوں کے ایک سال بعد گریجویشن مکمل کی اور اب وہ ریاست ڈیلٹا میں ایک ہسپتال کی لیبارٹری میں کام کرتے ہیں۔

ڈیوائن کا خاندان ان کے قتل میں ملوث کچھ افسران کو برطرف کرانے میں کامیاب رہا لیکن ایسے بہت سے متاثرین موجود ہیں جن کے پیارے پولیس تشدد کا نشانہ بن کر مارے گئے اور ان کی لاشیں ملک بھر کے میڈیکل سکولوں میں بھیج دی گئیں۔