ناانصافی کی خاموشی اور حافظے کی مزاحمت

دسمبر 1976کی ایک سرد رات ذوالفقار علی بھٹو نے مری میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ایک تاریخی ملاقات کی۔ اُن کے دائیں ہاتھ جنرل ضیاء الحق اور بائیں ہاتھ میجر جنرل اختر عبدالرحمٰن بیٹھے تھے۔ وزیراعظم حصار میں تھے۔ وزیراعظم بھٹو نے ایک مختصر جملے سے گفتگو کا آغاز کیا۔ ’’ہم ایک دوراہے پر ہیں‘‘ بھٹو صاحب ایسے سیاسی رہنما تھے جو لان میں اگتی گھاس کی آواز سن سکتے تھے۔ دسمبر 1976کے اس دوراہے پر ہم نے بحیثیت قوم اس راستے کا انتخاب کیا جس پر 4اپریل 1979اور پھر 17اگست 1988کے خونی سنگ میل نصب تھے۔ بنیادی وجہ یہ کہ بھٹو صاحب نے حزبِ اختلاف کو دیوار سے لگا دیا تھا، صحافی کی آواز اپنی کھنک کھو چکی تھی اور اہم ترین فیصلے افسر شاہی کی رپورٹوں کی روشنی میں ہو رہے تھے۔ ہمارا پہلا جمہوری تجربہ ناکامی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ آج کا پاکستان ایک بار پھر سے دوراہے پر ہے۔ ایسے فیصلہ کن موڑ بار بار نہیں آتے۔ ہمیں ایک موقع 1971میں ملا تھا۔ ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ نومبر 1988میں سوویت افواج افغانستان سے مراجعت کر رہی تھیں اور ہمارے انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ تب ایک بنیادی فیصلے کا امکان موجود تھا لیکن ہم کچھ اور ہوائوں میں تھے۔ ایک موقع ستمبر 2001میں بھی ملا لیکن ہم کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بنانے میں مصروف تھے۔ ہم 2008میں جمہوری تجربے کو سانس لینے کا موقع دے سکتے تھے لیکن اختیار کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف شفاف جمہوریت کا مطالبہ ہے اور دوسری طرف دس سالہ ڈاکٹرائن کی تکمیل کا ولولہ ہے۔ معیشت کی حالت خراب ہے۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں ہماری خارجہ پالیسی بری طرح بے سمت ہے۔ یہاں سے دو راستے نکلتے ہیں لیکن درست فیصلے کے لئے منزل کا تعین کون کرے گا؟

مچھ میں گیارہ غریب کان کنوں کے بہیمانہ قتل سے بہت سے سوال برآمد ہوئے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ داعش نے اس درندگی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ نام سے کیا فرق پڑتا ہے، طالبان، لشکر ،جیش یا داعش۔ احسان اللہ احسان نے ٹیلی وژن پر بھارت سے گٹھ جوڑ کا اقرار کیا تھا، اب یہ کون پوچھے کہ اس کے فرار میں کس بیرونی قوت کا ہاتھ ہے؟ یہ طے ہے کہ ہم حزبِ اختلاف کو این آر او نہیں دیں گے، علی وزیر، عالم محسود اور محسن داوڑ کے خلاف ہائبرڈ وار میں یکسو ہیں، سول سوسائٹی کو ملیامیٹ کر دیں گے، لفافہ خور میڈیا سے مقابلے کے لئے ترجمانوں کی صف بندی مکمل ہے نیز تیل کی قیمت میں اضافے سے معیشت کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ایک سوال البتہ کھٹک رہا ہے، گزشتہ چار دہائیوں میں ہم پر دو بڑے سانحے گزرے۔ دہشت گردی میں ہمارے قریب ستر ہزار ہم وطن کھیت رہے۔ دوسری طرف ہم نے کراچی کی سیاسی چائنا کٹنگ میں اپنا بہترین شہر برباد کر دیا، ہزاروں گھرانے بے چراغ ہوئے۔ ملک کے کسی چوک میں حکیم سعید کا مجسمہ آپ نے دیکھا؟ پکا قلعہ یا قصبہ کالونی میں کہیں کوئی نشان ان خاک نشینوں کا نصب کیا گیا جنہیں نامعلوم افراد کی اندھی گولیاں چاٹ گئیں؟ پشاور کے ان بچوں کی کوئی یادگار تعمیر کی جو گھر سے کتاب اور قلم کی جستجو میں نکلے تھے؟ ٹانک کے شہید اسکول پرنسپل اور ہنگو کے 16 سالہ اعتزاز حسن کے نام کسی کو یاد ہیں؟ درگئی کے کیڈٹ بچے، کراچی کے مقتول پولیس اہل کار، مناواں پولیس اکیڈمی کے گبھرو، کوئٹہ کے مظلوم ہزارہ اور کارساز کے شہید۔ پولیو کے قطرے پلانے والی بہنیں ماری گئیں، بچیوں کے سینکڑوں اسکول پھونک ڈالے گئے، کسی سیمینار میں اس قومی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ کہیں نہیں ہے، کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ۔ ہم بے خبر سہی لیکن ہمیں یہ علم ضرور ہے کہ کہیں کوئی ہے جو قوم کے حافظے میں ہل چلانا چاہتا ہے۔ کسی قوم کے ساتھ فریب مسلسل کی ایک سائنس ہے۔ دو اشارے دیکھیے۔

چیکوسلاواکیہ کی شہریت سے محروم ہونے کے بعد میلان کنڈیرا نے 1978میں ’’خندہ اور فراموشی کی کتاب‘‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھا۔ ’’اقتدار کے خلاف ایک فرد کی مزاحمت نسیان (فراموشی) کے خلاف حافظے کی جدوجہد ہے۔ کسی قوم کو بے دست و پا کرنے کا مستند نسخہ یہ ہے کہ اس کا حافظہ کھرچ دیا جائے، کتابیں غائب کر دی جائیں، تاریخ مسخ کر دی جائے، ثقافت بے چہرہ کر دی جائے، ایک اجنبی شناخت کے حصار میں اپنے ماضی سے نابلد قوم آسانی سے محکومی قبول کر لیتی ہے‘‘۔ اسی ناول میں ایک جگہ دانشور کی اصطلاح پر بھی تبصرہ ملتا ہے۔ برسراقتدار ٹولہ ’’دانشور‘‘ کو ایک گالی کے طور پر برتتا ہے۔ دانشور یعنی ایسا شہری جو اجتماعی زندگی کی بدصورتی سے سمجھوتہ کرنے سے انکار کرے۔ اسے عام لوگوں سے کٹا ہوا قرار دے کر بیرونی ایجنڈے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ گویا داخلی طور پر تباہی کا نسخہ حب الوطنی کی سند ہے۔ دوسری طرف اولگا ایونسکایا کہتی ہیں کہ منحرف (دانشور) وہ شہری ہے جو ہجوم کی بے سوچی سمجھی نعرے بازی سے ہٹ کر اپنے طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شیخ ایاز اور حبیب جالب کو مئی 1971میں گرفتار کیا گیا لیکن دسمبر آتے آتے انحراف اور کجروی کا فرق واضح ہو گیا۔ ژاں پال سارتر نے فرانس پر نازی قبضے کا سارا عرصہ پیرس میں رہتے ہوئے مزاحمت میں گزارا تھا۔ آزادی کے بعد دی اٹلانٹک کے دسمبر 1944کے شمارے میں سارتر کا ایک مضمون شائع ہوا۔ لکھا، ’’ہم کبھی اتنے آزاد نہیں تھے جتنا جرمنی کے قبضے سے آزاد رہے۔ ہم نے اپنے تمام حقوق کھو دیے تھے، ہم سے بولنے کا حق چھینا گیا۔ ہماری توہین کی گئی، ہمیں بے گھر ہونا پڑا لیکن ہم آزاد تھے کیونکہ ہم نے سوچنے کی آزادی برقرار رکھی‘‘۔ ارے! ہم فقیروں کو پی ڈی ایم کے استعفوں اور لانگ مارچ سے کیا لینا دینا، ’’اک خواب ضروری تھا، سو وہ دیکھ لیا ہے‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *