نادر شاہ: لکڑہارے سے دنیا کی ایک طاقتور فوج کھڑی کرنے تک، اگر نادر شاہ نہ ہوتا تو شاید آج ایران بھی نہ ہوتا

یہ اٹھارہویں صدی کے تقریباً وسط کی بات ہے جب کوہ قاف کی چوٹیوں کے سائے میں دنیا کی اس وقت کی ایک ’طاقتور ترین فوج‘ سلطنت عثمانیہ پر حملے کے لیے تیار کھڑی تھی۔

مؤرخین جب اسے اپنے وقت کی سب بڑی فوج کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسے صرف ایشیا یا مشرق وسطیٰ کی بڑی فوج کہہ رہے ہیں بلکہ وہ اس کا موازنہ اس زمانے کی یورپ کی بڑی فوجوں سے بھی کرتے ہیں۔

ایک مختصر عرصے میں مغرب میں سلطنت عثمانیہ میں شامل عراق اور شام کے علاقوں سے لے کر مشرق میں دلی تک بڑی جنگی مہمات میں کامیابی حاصل کرنے والی یہ فوج اپنے کمانڈر نادر شاہ کی پوری زندگی کی حکمت عملی اور دن رات محنت کا نتیجہ تھی۔

نادر شاہ اور ان کی فوج کی اس وقت یعنی سن 1743 تک کی کارروائیوں کی جھلک مؤرخ مائیکل ایکسوردی کی ان چند سطروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ’نادر شاہ نے ایران کو افغانوں کے قبضے سے نکالا، عثمانی ترکوں کو ایرانی سرزمین سے بے دخل کیا، منصوبہ بندی سے روسیوں سے اپنے علاقے خالی کروائے، عثمانی سلطنت کے علاقوں پر حملہ کیا اور انھیں شکست دی، اپنے آپ کو ایران کا بادشاہ بنایا، افغانوں پر ان کے علاقوں میں گھس کر حملہ کیا اور وہ علاقے دوبارہ فتح کیے، پھر انڈیا پر حملہ کر کے دلی فتح کی، وسطی ایشیا میں داخل ہو کر ترکمان اور ازبکوں کو قابو میں لا کر دوبارہ مغرب کا رخ کیا اور پھر سے عثمانیوں کے خلاف کامیاب جنگ کی۔‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ ‘نادر شاہ کی فوج کے عسکری معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے دو کپتانوں نے آگے چل کر خود دو الگ الگ ریاستوں افغانستان اور جارجیا کی بنیاد رکھی۔

کہا جاتا ہے کہ اگر نادر شاہ نہ ہوتے تو شاید ایران بھی نہ ہوتا اور وہ ’افغانوں، روسیوں اور عثمانیوں میں تقسیم ہو جاتا۔‘ جب نادر شاہ نے ایرانی سلطنت کا اقتدار سنبھالا تو یہ تقسیم کافی حد تک ہو چکی تھی۔

نادر شاہ کے دلی پر حملے نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو بھی مغلیہ سلطنت کی کمزوری کے بارے میں الرٹ کر دیا اور ایکسوردی کا تو خیال ہے کہ ’اگر نادر شاہ نہ ہوتا تو برطانوی دور دیر سے اور مختلف انداز میں شروع ہوتا اور یا شاید کبھی نہ بھی ہوتا۔‘

نادر شاہ کسی شاہی یا نوابی خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ ایرانی سلطنت کے دارالحکومت سے دور سرحدی علاقے میں پیدا ہونے والے اس جنگجو کو جو تھوڑی بہت مراعات اپنے والد کی وجہ سے مل سکتی تھیں اس کا بھی امکان ان کی جلد وفات کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا۔

اس کے باوجود گزر بسر کے لیے جنگل سے لکڑیاں اکٹھی کر کے بیچنے سے زندگی شروع کرنے کے تقریباً تیس برس میں وہ خود اپنی کھڑی کی ہوئی دنیا کی ایک طاقتور فوج کے کمانڈر بن چکے تھے۔

لیکن اس جنگجو کی کہانی میں بھی اکثر کہانیوں کی طرح عروج کے بعد انتہائی زوال آ جاتا ہے۔ نادر شاہ اپنے بیٹوں کے لیے ایک مضبوط ریاست اور اپنی فوج نہ چھوڑ کر جا سکے۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا تو ان کا طاقتور خاندان نہ صرف ایران کی سرحدوں کو مستحکم کرتا بلکہ ایسی تبدیلیاں لے کر آتا جیسی یورپ کی ریاستوں میں ایک دوسرے سے مقابلے کی فضا اور جدید فوج رکھنے کے تقاضوں نے اسی دور میں ممکن بنائی تھیں۔

احمد شاہ درانی
،تصویر کا کیپشنجدید افغان ریاست کے بانی سمجھے جانے والے احمد شاہ ابدالی: ’نادر شاہ کی فوج کے عسکری معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے دو افسروں نے آگے چل کر خود دو الگ الگ ریاستوں افغانستان اور جارجیا کی بنیاد رکھی‘

مؤرخین کے خیال میں ’یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ افغانوں کے ہاتھوں شکست کے بعد دوبارہ اٹھتا ہوا ایران نسبتاً کمزور مغل اور عثمانی سلطنتوں سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرتا۔ اور ایک ایسے خاندان کی قیادت میں، جو شعیہ سنی کے فرق کو مٹانا چاہتا تھا، یورپ سے مقابلے میں اسلامی دنیا کے زوال کو روک سکتا تھا۔‘

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ نادر شاہ کی کہانی کا انجام اس کو ایک ’ٹریجڈی‘ بنا دیتا ہے، جسے آج جنگی کامیابیوں سے زیادہ نادر شاہ کے ظلم اور سفاکی اور آخری دنوں کے ذہنی انشتار کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔

خطرناک سرحدی علاقے میں پیدائش

مائیکل ایکسوردی نے اپنی کتابوں Iran: Empire of the Mind اور The Sword of Persiaمیں نادر شاہ کی زندگی کے نشیب و فراز پر تفصیل سے نظر ڈالی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نادر شاہ کی تاریخ پیدائش اور ابتدائی زندگی کی تفصیلات واضح نہیں ہیں اور ان پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

نادر شاہ ایران سلطنت کے مشرقی صوبے خراسان کے شمالی حصے میں ایک خطرناک علاقے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف آرا ہیں لیکن ایکسوردی کے مطابق یہ تاریخ چھ اگست 1698 تھی اور جائے پیدائش درہ غاز کے خطے میں اللہ اکبر پہاڑ پر دستگرد نامی گاؤں تھا۔ ان کی مادری زبان ترکی تھی لیکن جلد ہی انھوں نے فارسی بھی سیکھ لی ہو گی۔ یہ علاقہ خراسان کے دارالحکومت مشہد سے شمال میں تھا۔

ان کے والد ترکمانوں کے افشر قبیلے میں چرواہے تھے جن کا تعلق نچلے لیکن عزت سے دیکھے جانے والے طبقے سے تھا۔ شاید وہ گاؤں کے سربراہ بھی تھے۔

تلوار ابن تلوار ابن تلوار

نادر شاہ نے اس ماضی کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا اور بادشاہ بننے کے بعد بھی کبھی اپنے بچپن کے بارے میں کوئی شاندار کہانی گھڑنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے شاہی مؤرخ کے کام کو دیکھیں تو اس طرح کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ ’تلوار کی اپنی طاقت ہوتی ہے اس کا تعلق اس بات سے نہیں کہ جس لوہے سے وہ بنی ہو وہ کس کان سے لیا گیا۔‘

نادر شاہ کی کہانی میں آگے بڑھنے سے قبل تلوار کے بارے میں ہی ایک دلچسپ واقعے کا ذکر۔

جس وقت نادر شاہ کی فوج دلی میں انڈیا والوں سے دولت اکٹھی کر رہی تھی نادر شاہ نے اپنے بیٹے نصراللہ کی شادی شہنشاہ اورنگزیب کی پڑپوتی اور محمد شاہ کی بھتیجی سے کر دی۔ دونوں خاندانوں نے نوبیاہتا جوڑے کو بیش قیمت تحفے دیے اور جمنا کے کنارے خوب آتش بازی ہوئی۔

روایت کے مطابق مغل اہلکار دولہے کی سات پشتوں کا پتہ کرواتے تھے۔ جب نادر شاہ کے بیٹے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ’ان سے کہہ دو وہ نادر شاہ کا بیٹا ہے جو تلوار ابن تلوار ابن تلوار ہے اور ستر پشتوں تک ایسے ہی ہے۔‘

پیدائش پر ان کا نام نادر قلی یعنی ’شان والے کا غلام‘ رکھا گیا تھا۔ برسوں بعد چرواہے سردار امام قلی کا بیٹا جب بادشاہ بنا تو اس کا نام نادر شاہ ہو گیا۔

اٹھارہویں صدی کے آغاز میں خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش چرواہے ایرانی سلطنت کی آبادی کا ایک تہائی تھے جو کہ تقریباً تیس لاکھ بنتی ہے۔

ثقافتی طور پر وہ فارسی ثقافت اپنا چکے تھے لیکن ان کی شناخت امیر تیمور اور چنگیز خان سے وابستہ ترک منگول روایات تھیں۔ ’وہ اپنے آپ کو آباد علاقوں کے لوگوں سے بہتر سمجھتے تھے جنہیں ان کے گھڑ سوار آباؤ اجداد نے زیر کیا تھا۔‘

چنگیز خان
،تصویر کا کیپشنچنگیز خان: ثقافتی طور پر نادر شاہ فارسی ثقافت اپنا چکے تھے لیکن ان کی شناخت امیر تیمور اور چنگیز خان سے وابستہ ترک منگول روایات تھیں۔

نادر شاہ ایک دوہری ثقافت میں بڑے ہوئے۔ ایرانی سلطنت کا ترکی بولنے والا شہری جس کی شخصیت کا ایک پہلو وہ فارسی ثقافت بھی تھی جو استنبول سے سمرقند اور دلی تک اپنائی جا چکی تھی۔

وہ دس سال کی عمر میں ایک اچھے گھڑسوار اور شکاری کے طور پر جانے جاتے تھے جو تیر اندازی اور نیزے کے بھی ماہر تھے۔ ان کے بچپن میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور خاندان غربت میں پھنس گیا۔

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت مرد کے بغیر بہت کمزور ہو جاتی تھی ان کی ماں نے ایک غریب بیوہ کے طور پرہمت نہیں ہاری۔ مؤرخ کہتے ہیں کہ شاید اپنی ماں کو اس طرح محنت کرتے دیکھنے سے ہی اس کے اندر عورتوں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوا جس کا ثبوت انھوں نے بعد میں مہمات کے دوران کئی بار پیش کیا۔

’وہ سختی کے یہ دن کبھی نہیں بھولے اور نہ ہی ان دنوں کے ساتھیوں کو، خاص طور پر اپنی ماں اور بھائی ابراہیم کو۔‘

ان پر ایسے دن بھی آئے جب وہ جنگل سے لکڑی چن کر اونٹوں اور خچروں پر شہر لے جا کر بیچتے تھے اور یہی ان کی آمدن کا ذریعہ تھا۔ ایکسوردی بتاتے ہیں کہ بادشاہ بننے کے بعد اپنے لکڑی چننے کے ان دنوں کے ایک ساتھی کو نوازتے ہوئے انھوں نے اسے کہا کہ ’مغرور مت ہو جانا، اس خچر کو اور لکڑیاں چننا یاد رکھنا۔‘

اگر اپنے والد کی وفات سے پہلے اس کا بچپن خوشگوار اور دوسرے بچوں پر رعب ڈالتے گزرا تو والد کی موت کے بعد غربت کی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں سے کٹ گئے جیسے اب وہ ان میں فٹ نہیں ہوتے تھے۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ بادشاہ بننے کے بعد بھی اپنے ارد گرد کے ماحول میں، شاندار درباروں اور اشرافیہ میں ’فٹ نہ ہونے کا احساس‘ ساری زندگی ان کے ساتھ رہا۔

نادر شاہ کا ایران میں ’عسکری انقلاب‘ کی طرف پہلا قدم

پندرہ سال کی عمر میں وہ ایک مقامی سردار اور ابیورد شہر کے گورنر بابا علی بیگ کی سروس میں چلے گئے۔ بابا علی بیگ خراسان کے افشروں میں اہم سردار تھے۔ انھوں نے بابا علی بیگ کی سروس میں ایک تمنچی کی حیثیت سے شروعات کیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا دایاں بازو بن گئے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ایرانی سلطنت کے اس دور دراز علاقے میں بھی آتشیں اسلحہ پہنچ چکا تھا اور نادر نے اس وقت کے جدید جنگی طریقوں پر مبنی اپنے کیریئر کی بنیاد یہاں رکھ دی تھی۔

آنے والے مہینوں اور سالوں میں نادر شاہ نے ایران کی عسکری صلاحیتوں میں انقلاب برپا کر دیا۔

سنہ 1714/15 میں ایک ترک قبیلہ خراسان کی شمالی سرحد پار کر کے سلطنت کی حدود میں داخل ہو گیا۔ لڑائی ہوئی، بابا علی کی فوج کا پلڑا بھاری رہا، سینکڑوں حملہ آور قیدی بن گئے۔

نادر نے یقیناً اہم کردار ادا کیا ہو گا کہ بابا علی نے اس کامیابی کی اطلاع سلطنت کے دارالحکومت اصفہان جا کر ایران کے صفوی بادشاہ شاہ سلطان حسین تک پہنچانے کے لیے نادر شاہ کا انتخاب کیا۔

نادر شاہ کو بادشاہ کے سامنے پیش ہونے کے اعزاز کے ساتھ دربار میں ایک سو تمن بھی انعام میں ملے۔ یہ ان کا اصفہان کا پہلا دورہ تھا جس میں ان کا ایک بالکل نئی دنیا سے تعارف ہوا۔

’ایک تاریخی حوالے کے مطابق دربار کے کچھ اہلکاروں نے نادر کے ساتھ برا سلوک کیا اور برسوں بعد جب وہ شاہ بنا تو اس نے اپنے درباریوں کی تفریح کے لیے اس واقعے کو ایک تھیٹر ڈرامے کی صورت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔‘ نادر شاہ کا شاہی شان و شوکت دیکھنے کا یہ تجربہ اچھا نہیں رہا اور وہ کبھی اس چیز کو پسند نہیں کر سکے۔

یہ واقعہ ان کے اپنے ارد گرد ماحول میں مس فٹ ہونے کی ایک اور مثال ہے۔ دربار کے امرا اس قبائلی کی صلاحیتوں کو پہچان نہیں سکے تھے۔

تاہم اس وقت شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ان کی صفوی سلطنت تیزی سے اپنے زوال کی طرف بڑھ رہی تھی اور ان کے سامنے موجود قبائلی نادر شاہ پہلے ان کی سلطنت کے آخری سہارے اور پھر جلد ہی ان کے بادشاہ کے طور پر سامنے آنے والا تھا۔

Sir Anthony Shirley at the court of Shah Abbas the Great in 1599. Sir Anthony Shirley or Sherley, 1565-1635. English traveller. Sh?h Abb?s the Great or Sh?h Abb?s I of Persia, 1571 - 1629. 5th Safavid Shah (king) of Iran.
،تصویر کا کیپشنایران کی صفوی حکومت کے اہم بادشاہ شاہ عباس اور عروج کے زمانے کی جھلک: دو سو سال سے زیادہ عرصے ایران پر حکومت کرنے والے اس صفوی خاندان کا بادشاہ '23 اکتوبر سن 1722 کو افغانیوں سے مانگے ہوئے گھوڑے پر سوار ہو کر ہتھیار ڈالنے کے لیے افغان محمود غلزئی کی خیمے تک پہنچا۔'

صفوی سلطنت کا خاتمہ اور ایران پر افغانوں کا قبضہ

ایران کی دو سو سال پرانی صفوی سلطنت کو مشرق سے غلزئی افغانوں کی طرف سے چیلنج کیا گیا اور بات یہاں تک پہنچی کہ صفوی خاندان کا بادشاہ اصفہان میں ’23 اکتوبر سن 1722 کو افغانیوں سے مانگے ہوئے گھوڑے پر سوار ہو کر ہتھیار ڈالنے کے لیے افغان محمود غلزئی کی خیمے تک پہنچا۔‘

اس وقت تک نادر شاہ مشھد کے قریب قلات شہر کو اپنا گڑھ بنا چکے تھے۔ یہ شہر سن 1382 میں امیر تیمور کا قلعہ بھی رہ چکا تھا۔ اس قبضے نے نادر کی پوزیشن علاقے میں دیگر سرداروں کے مقابلے میں مضبوط کر دی تھی۔

سن 1725/1726 میں اب سابقہ صفوی سلطنت کے ’دربدر خودساختہ بادشاہ‘طہماسپ قلی خان ایرانی سلطنت کی بساط پر ایک چھوٹا مہرہ تھے۔ انھوں نے اصفہان افغانوں کے ہاتھ میں جانے کے کچھ ہی عرصے بعد اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔

لیکن اس وقت تک سینکڑوں برس پرانی اس سلطنت کے شمالی اور مشرقی علاقوں پر روس اور سلطنت عثمانیہ کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ایرانی علاقوں پر قبضے کی دوڑ میں ان دو بڑی سلطنتوں میں آپس میں لڑائی کا خطرہ بھی پیدا ہو چکا تھا۔

اس افراتفری کے دور میں نادر شاہ کی دھاک میں اضافہ ہو رہا تھا اور انھوں نے طہماسپ کی طرف سے دوستی کا پیغام قبول کر لیا۔ انیس ستمبر 1726 کو نادر شاہ نے اپنی اطاعت کے اعلان کے ساتھ طہماسپ کا ایک شاندار تقریب میں استقبال کیا۔ یہ وہ دن تھا جب نادر شاہ علاقائی شخصیت سے اٹھ کر اب قومی سطح کے سردار بن چکے تھے۔

نادر شاہ نے جلد ہی ایک جنگ میں طہماسپ کے ایک بڑے مخالف کو شکست دے کر اپنا رتبہ بڑھا لیا اور اب وہ ایرانی سلطنت کے دربدر بادشاہ کے قرچی باشی(کمانڈر ان چیف ) تھے۔

نادر شاہ کو طہماسپ قلی خان (طہماسپ کا غلام) کا خطاب دیا گیا۔ شاہ کا نام ملنا بہت اعزاز کی بات سمجھی جاتی تھی۔ اسی سال خزاں میں نادر شاہ نے اپنے شاہ کو مشہد کا مقدس شہر بھی فتح کر دیا۔

طہماسپ کی طاقت بڑھ رہی تھی اور اسی دوران روسیوں نے بھی ان بھی رابطے بڑھانا شروع کر دیے۔ روسی عثمانیوں کی طرف سے ایرانی سلطنت کے علاقوں میں پیش قدمی سے خوش نہیں تھے۔ انھوں نے شاہ طہماسپ اور نادر شاہ کی طرف سے سلطنت واپس لینے کی کوششوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا اعلان کیا۔ وہ ان دونوں کو عثمانیوں کے دشمن کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

امام رضا
،تصویر کا کیپشننادر شاہ مشہد پر قبضہ مکمل ہوتے ہے امام رضا کے مزار پر حاضری کے لیے گئے اور زمین چوم کر اپنی کامیابی پر شکریہ ادا کیا۔ اس نے بعد میں اس کے گنبد کی سجاوٹ میں بھی اضافہ کیا اور ایک نیا مینار بھی تعمیر کروایا جو آج تک قائم ہے۔

نادر شاہ کاامام رضا کے مزار پر بھکاریوں سے مکالمہ

نادر شاہ مشہد پر قبضہ مکمل ہوتے ہے امام رضا کے مزار پر حاضری کے لیے گئے اور زمین چوم کر اپنی کامیابی پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے بعد میں اس کے گنبد کی سجاوٹ میں بھی اضافہ کیا اور ایک نیا مینار بھی تعمیر کروایا جو آج تک قائم ہے۔ اس عقیدت کے اظہار سے نادر شاہ کی فوج کے قزلباش فوجی اور مذہبی حلقے یقینا‘ خوش ہوئے ہوں گے۔

نادر شاہ کے بارے میں اسی وقت کا ایک قصہ بھی مشہور ہوا۔ انھوں نے مزار کے باہر نابینہ ہونے کی ایکٹنگ کرنے والے ایک بھکاری سے پو چھا کہ وہ کب سے مزار پر اپنی آنکھیں ٹھیک ہونے کے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ اس نے کہا دو سال۔ نادر شاہ نے اسے کہا کہ اگر دو سال دعا مانگنے کے بعد بھی اس کی آنکھیں ٹھیک نہیں ہو رہیں تو اس کا مطلب ہے اس کا ایمان بہت کمزور ہے۔

نادر شاہ نے اس بھکاری سے کہا کہ اگر ان کے مزار سے باہر آنے تک اس کی آنکھیں ٹھیک نہ ہوئیں تو وہ سمجھیں گے کہ اس کا ایمان ٹھیک نہیں اور وہ اس کا سر قلم کر دیں گے۔

مؤرخ لکھتے ہیں جب نادر شاہ تھوڑی دیر میں واپس آئے تو اس فقیر نے آگے بڑھ کر انھیں کہا کہ ’معجزہ ہو گیا، معجزہ ہو گیا‘ آنکھیں ٹھیک ہو گئی ہیں۔ نادر شاہ نے ’مسکرا کر کہا کہ ایمان ہی سب کچھ ہوتا ہے‘ اور وہاں سے چلے گئے۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ سن 1726 کے آخر تک چند ہفتوں کے اندر اندر نادر شاہ ایک عام قبائلی سردار سے اٹھ کر صفوی بادشاہت کی بحالی کی روشن امید بن چکے تھے۔

شاہ طہماسپ کی شکست

سن 1726 میں مشہد کی فتح کے بعد سے نادر اور شاہ طہماسپ کے درمیان دوریاں پیدا ہونی شروع ہو گئیں۔ درباریوں نے طہماسپ کے کان بھرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اور وہ فروری سن 1727 خاموشی سے مشہد سے چلے گئے اور ایک کرد شہر میں پہنچ کر نادر شاہ کو غدار قرار دے دیا اور پوری سلطنت میں نادر شاہ کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی مدد طلب کر لی۔

نادر نے بھی کوئی وقت ضائع کیے بغیر مشہد میں طہماسپ اور ان کے وزرا کی ساری جائیداد ضبط کر لی اور اپنے بھائی ابراہیم خان کو انچارج بنا کر کرد شہر خبھوشن پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا۔ المختصر طہماسپ نے شکست دیکھتے ہوئے صلح کا فیصلہ کیا اور نادر کے پیچھے ہیچھے 21 مارچ کو نوروز کے دن زبردست تقریبات اور جشن کے بیچ واپس مشہد آگئے۔ دو ہفتے جاری رہنے والے اسی جشن کے دوران نادر شاہ کی ایک کرد سردار کی بیٹی سے شادی بھی ہوئی۔

تاہم مؤرخ بتاتا ہے کہ طہماسپ کا شکست تسلیم کرنا اور نہ ہی نادر کی شادی ان دونوں کے اختلافات کو ختم کر سکی۔ نادر کا کہنا تھا کہ صفوی سلطنت کے دارالحکومت اصفہان کی طرف پیشقدمی سے پہلے ہرات کے ابدالی افغانوں سے نمٹنا ضروری ہے جبکہ طہماسپ صفوی خاندان کی بادشاہت بحال کرنے کے لیے بے چین تھے۔

یہ آخری بار نہیں تھی جب ایک سابقہ سلطنت کا وارث اور مستقبل کا یہ بادشاہ آمنے سامنے آئے تھے۔ 23 اکتوبر 1727 کو طہماسپ ایک بار پھر نادر کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے۔ ان کی مایوسی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ شاہ طہماسپ ایک مہم کے دوران رات کو ہاتھ دھونے کے بہانے خیمے سے نکلے اور فرار ہونے کی ناکام کوشش کی۔ ابھی وہ خیمے سے کوئی میل بھر دور ہی گئے تھے کہ نادر شاہ ان تک پہنچ گئے۔

انھوں نے اپنا گلا کاٹنے کی کوشش لیکن نادر نے تیزی سے آگے بڑھ کر ان کا خنجر چھین لیا۔ اس واقعے کے بعد طہماسپ نے پھر نادر شاہ سے الگ ہونے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

نادر شاہ کی فوج اصل ہتھیاروں سے مشق کرتی تھی: یونانی تاجر کا آنکھوں دیکھا احوال

نادر شاہ نے آخر اتنی طاقتور فوج کھڑی کیسے کی؟ سن 1729 میں نادر شاہ نے مارچ میں نوروز کے موقع پر ہرات پر حملہ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ ’یہ ایک اہم مہم تھی جس میں ان کی چھوٹی سی فوج کا ان کے اب تک کے سب سے طاقتور دشمن سے مقابلہ تھا۔‘

لیکن اس سے پہلے نوروز کا جشن دھوم دھام سے منایا گیا، جیسے کہ انھوں نے بعد میں بھی ہمیشہ کیا۔ انھوں اپنے افسران کی خوب تواضع کی اور گھوڑوں اور ہتھیاروں سمیت قیمتی تحائف تقسیم کیے۔

اس کے علاوہ اس جنگ کی تیاری کے لیے نادر شاہ نے وسیع پیمانے پر مشقیں شروع کروائیں جن کا ایک یونانی تاجر نے تفصیلی آنکھوں دیکھا احوال تاریخ کے لیے چھوڑا ہے۔

مشقوں میں مستقل اچھا مظاہرہ کرنے والوں کو چاہے وہ عام سپاہی ہی کیوں نہ ہوتے ایک سو یا پچاس سپاہیوں کا کمانڈر مقرر کر دیا جاتا تھا۔ مؤرخ بتاتے ہیں کہ وہ اچھے افسران کی سلیکشن یقینی بناتے تھے اور ترقی صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوتی تھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ مشقوں میں ’سپاہی ایک دوسرے پر مختلف پوزیشنوں سے حملہ کرتے، دائرے اور جوابی دائرے بناتے۔۔۔ حملہ کرتے، بکھرتے اور پھر دوبارہ اسی پوزیشن پر اکٹھے ہوتے۔‘ ان مشقوں میں اصل ہتھیار استعمال ہوتے تھے اور احتیاط برتی جاتی تھی کہ کوئی زخمی نہ ہو۔ گھوڑوں پر سوار ہو کر مختلف ترکیبوں کی مشق ہوتی تھی۔ ہر گھڑ سوار مختلف ہتھیاروں کے ساتھ بھی الگ الگ مشق کرتا تھا۔‘

کنٹرول اور ڈسپلن کا یہ عالم تھا کہ بار بار کی مشقوں کے بعد جنگ میں نادر شاہ اور ان کے افسروں کے درمیان ایسی ہم آہنگی ہوتی تھی جیسے وہ نادر شاہ کے دماغ سے چل رہے ہوں۔ یونانی تاجر نے لکھا کہ مشقوں کے دوران نادر شاہ خود ہر عمل کا حصہ بنتے تھے اور ان کا جنگ میں بھی یہی اصول تھا۔

نادر شاہ اور طہماسپ مئی میں ہرات پر حملے کے لیے روانہ ہوئے۔ ابدالی افغان بھی صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اللہ یار خان کی قیادت میں اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک ہو گئے تھے۔ دونوں فوجوں کا ہرات سے پچاس کلومیٹر باہر سامنا ہوا۔

نادر شاہ کو اس لڑائی میں کامیابی ملی۔ کئی افغان سرداروں نے پیش ہو کر اپنی اطاعت کا اعلان کر دیا۔طہماسپ شاہ اور ان کے درباری خوش نہیں تھے لیکن نادر شاہ نے ان سرداروں کا استقبال کیا اور مستقبل میں ابدالی افغان نادر شاہ کے انتہائی قابل اعتماد اتحادی اور فوج کا اہم حصہ ثابت ہوئے۔ اس مہم نے ایرانیوں کا اعتماد بحال کیا تھا اور وہ اب اپنی سلطنت کی واپسی کے لیے غلزئی افغانوں کے سامنے کے لیے تیار تھے۔

نادر شاہ کا کیمپ
،تصویر کا کیپشننادر شاہ کا کیمپ

صفوی سلطنت کا دارالحکومت اصفہان سے افغانوں کا انخلاء

29 ستمبر 1729 کے دن دونوں فوجیں آمنے سامنے تھیں۔ افغانوں کو شکست ہوئی۔ بالآخر نو دسمبر 1729 کو نادر شاہ نے اصفہان کے باہر شاندار تقریب میں طہماسپ شاہ کا استقبال کیا۔ یعنی نادر شاہ اور طہماسپ شاہ نے افغانوں سے صفوی دارالحکومت واپس لے لیا۔

ایکس وردی لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں یورپ کی جنگوں کے مقابلے میں ایشیا اور مشرق وسطی کی جنگوں کے بارے میں مستند ذرائع کم ہیں۔ نادر شاہ کی مہمات کے بارے میں لکھنے والے زیادہ تر غیر فوجی تھے اور ان کے بقول ایک امکان یہ بھی ہے کہ نادر شاہ خود ہی ایسا چاہتے تھے تاکہ ان کا جنگ کا طریقہ سب کو معلوم نہ ہو۔

نادر شاہ کا فوجی انقلاب اور اس کی قیمت

نادر شاہ کے مشقوں اور آتشیں اسلحے پر انحصار اور مستقل بنیادوں پر فوج بھرتی کرنے کی ایک قیمت تھی۔ اس کا مطلب سپاہیوں کی مشقوں کے لیے ہر وقت دستیابی اور ان کی مختلف انداز میں حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ نئی تکنیک اور ہتھیاروں کا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ فوج کے ساتھ ساتھ رہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ انھیں نیا ہتھیار دے کر گھر بھیج دیا جائے اور وہ واپس نہ آئیں۔ انھیں اچھی اور بروقت تنخواہ دینا ضروری تھا۔ اور اس صورت میں ان کے کپڑوں، رہائش اور خوراک کا بندوبست بھی ضروری تھا۔ خراب ہونے والے اسلحے کی جگہ نیا اسلحہ فراہم کرنا ضروری تھا۔ کیولری کے لیے اچھے گھوڑے چاہیے تھے جو سوار اوراسلحے کا بوجھ اٹھا سکیں۔ اور آتشیں اسلحے کا فائدہ اٹھانے کے لیے بندوقچیوں کی بڑی تعداد چاہیے تھی۔

نادر کی فوج ہر وقت بڑی ہو رہی تھی۔ المختصر ان کی فوج تباہ کن حد تک مہنگی تھی۔ نادر ہر وقت اس فوج کو قائم رکھنے کے لیے آمدن کے نئے ذرائع کے بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ اور اس کے لیے ان کے زیر قبضہ علاقوں کے لوگوں پر بھاری ٹیکس اور جبری ادائیگیوں کا مستقل بوجھ تھا۔ ’فوج میں اضافہ، مشقوں اور آتشیں اسلحے پر نیا انحصار۔۔۔اخراجات میں بھاری اضافہ یہ سب یورپ میں اس وقت سے ایک سو پچاس برس پہلے ہونے والی تبدیلوں کے جیسا تھا۔‘

ایکسوردی کہتے ہیں کہ یورپ میں یہ سب تبدیلیاں اور نئے جنگی تقاضے وہاں کی طرز حکومت میں اصلاحات اور اقتصادی ذرائع میں اضافے کا باعث بنے۔ لیکن نادر شاہ کا فوجی انقلاب اتنا دیر پا نہیں تھا کہ یورپ جیسی تبدیلوں کا باعث بنتا۔

ایسے تو سارا وقت اپنے سپاہیوں کو سزائیں دینے میں گزر جائے گا: نادر شاہ کی فوج کے خلاف شکایات

طہماسپ اور اصفہان کے لوگ صفوی بادشاہت کی بحالی پر خوش تھے لیکن ضروری نہیں تھا کہ نادر شاہ کے بھی یہی جذبات ہوتے۔ نادر کے لیے اپنی فوج کو خوش رکھنے اور اس کی تنخواہ سے زیادہ ضروری کبھی بھی کچھ نہیں تھا۔ افغانوں سے واپس ملنے والے اصفہان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ ان کی فوج کی ضروریات زیادہ دیر تک پوری ہوتیں۔ جلد ہی خورک اور لباس کی کمی کا شکار فوجی شہریوں سے چھینا جھپٹی کرتے نظر آنے لگے اور کئی بار تو گھروں میں گھس کر لوٹ مار تک بات پہنچ گئی اور کئی غریب خاندان ان کو کچھ نہ دے سکنے پر غلامی میں بیچ دیےگئے۔

ان کے ایک سپاہی کی طرف سے ایک اہم شہری کی بیوی کے ساتھ زیادتی کی شکایت جب نادر شاہ تک پہنچی تو انھوں نے یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ اس طرح تو ان کا سارا وقت سلطنت کے دشمنوں کی بجائے اپنےسپاہیوں کو سزائیں سنانے میں گزر جائے گا۔

تاہم ایکس وردی لکھتے ہیں بعد میں انھوں نے اپنا رویہ بدلا اور فوج میں سخت ڈسپلن قائم کرنے پر زور دینا شروع کر دیا۔

نادر شاہ
،تصویر کا کیپشننادر شاہ نے دلی پر حملے کے بعد اپنے بیٹے نصراللہ کی شادی شہنشاہ اورنگزیب کی پڑپوتی اور محمد شاہ کی بھتیجی سے کر دی۔ روایت کے مطابق مغل اہلکار دولہے کی سات پشتوں کا پتہ کرواتے تھے۔ جب نادر شاہ کے بیٹے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ 'ان سے کہہ دو وہ نادر شاہ کا بیٹا ہے جو تلوار ابن تلوار ابن تلوار ہے اور ستر پشتوں تک ایسے ہی ہے۔'

نادر شاہ اور ان کے بیٹے کی صفوی شہزادیوں سے شادیاں

طہماسپ شاہ چاہتے تھے نادر شاہ شکست کھانے والے افغان حکمران اشرف غلزئی کا پیچھا کریں اور ان سے وہ شہزادیاں بھی بازیاب کروائیں جنہیں وہ شکست کے بعد فرار ہوتے ہوئے ساتھ لے گئے تھے۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ نادر شاہ نے کافی لے دے کے بعد صفوی شہزادیوں کی بازیابی کے لیے غلزئی سلطان اشرف کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کے بدلے میں انھوں نے خراسان، کرمان اور دیگر کچھ علاقوں کے علاوہ پوری سلطنت میں ٹیکس وصول کرنے کا اختیار بھی حاصل کیا تاکہ فوج کا خرچہ پورا کیا جا سکے۔

شاہ تہمسپ کے ساتھ اس معاہدے کے استحکام کے لیے یہ بھی طے پایا کہ ان کی اور ان کے بیٹے رضا قلی کی شادی تہمسپ کی دو بہنوں سے ہو گی۔ نادر شاہ کی شادی ان میں سے ایک رضیہ بیگم سے ہوئی۔ اس طرح نادر شاہ ایرانی سلطنت کے شمالی اور مشرقی حصے کے عملاً حکمران بن گئے تھے اور ان کی پیسے اور قانونی حیثیت کی دو ضروریات بھی پوری ہو گئیں۔

نادر شاہ کی ہمیشہ مالی معاملات پر گہری نظر رہی۔ انھوں نے آنے والے برسوں میں ٹیکس کے معاملات کے لیے اہلکاروں، انسپکٹروں اور جاسوسوں کا جال بچھایا اور صفوی سلطنت کے نظام کو مزید مظبوط کیا۔ نادر شاہ کی ضروریات زیادہ تھیں اور کئی بار بغیر وارننگ کے دوگنے ٹیکس کا بھی مطالبہ کیا گیا اور عدم ادائیگی کی سزائیں سخت تھیں۔

نادر شاہ اپنے مطالبات تسلیم ہونے کے بعد 24 دسمبر 1729 کو بیس سے پچیس ہزار سپاہیوں کی فوج لے کر اصفہان سے اشرف کے تعاقب میں روانہ ہوئے۔ شیراز کے قریب ان کا آمنا سامنا ہوا۔ ایک بار افغانوں نے بھرپور حملہ کیا لیکن وہ نادر شاہ کی فوج کے ڈسپلن اور آتشین اسلحے کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ اشرف وہاں سے فرار ہو گئے لیکن پھر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگتے اپنے پرانے دشمنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

نادر شاہ کے لیے سطنت عثمانیہ کے سلطان محمود اول کا تحفہ
،تصویر کا کیپشننادر شاہ کے لیے سطنت عثمانیہ کے سلطان محمود اول کا تحفہ: نادر شاہ کی سلطنت عثمانیہ سے جنگیں بھی ہوئیں اور ایک موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ وہ 'قندھار، بخارا، دلی اور استنبول کے حکمرانوں کے گلے میں لگامیں ڈال دیں گے' لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی صلح کی کوششیں نہیں ہوئیں اور امن کے پیغام نہیں بھجوائے گئے۔

افغانوں کے بعد سلطنت عثمانیہ سے ٹکراؤ

نادر شاہ نے دلی میں مغل بادشاہ کو اشرف کی شکست کی اطلاع پہنچائی اور ساتھ ہی یہ بھی اطلاع دی کہ قندھار کو واپس ایرانی سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ انھوں نے مغل بادشاہ سے درخواست کی کسی مفرور افغان کو مغل سلطنت میں پناہ نہ لینے دی جائے۔ ’یہ درخواست بعد میں اہمیت اختیار کر گئی جب اسے (انڈیا کے خلاف) جنگ کی بنیاد بنایا گیا۔‘

اس کے ساتھ ہی انھوں عثمانی سلطنت میں بھی ایک ایلچی کے ذریعے ایرانی سلطنت کے علاقے واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایک روایت کے مطابق ہمدان اور آذربائجان سے لوگوں نے آ کر نادر شاہ سے عثمانیوں کے سلوک کے خلاف شکایت کی۔ ’دیگر قیدیوں کے ساتھ ایرانی شیعاؤں کی عثمانی قید سے رہائی کا آنے والے برسوں میں نادر شاہ کی مہمات کے جواز کے طور پر بار بار ذکر سننے میں آیا۔‘

مؤرخین کے مطابق کئی ہفتے گزرنے پر بھی جب عثمانی سلطنت سے کوئی جواب نہ ملا تو نادر شاہ نے مغرب کی طرف آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ نادر شاہ اور ان کی فوج 8 مارچ 1730 کو شیراز سے روانہ ہوئی۔ اور ایک بار ماضی کی طرح اس جنگی مہم سے پہلے بھی راستے میں رک کر بھرپور انداز میں جشن نو روز منایا گیا جس کا مقصد سپاہیوں کا افغانوں کے خلاف کامیابی کا شکریہ ادا کرنا اور انھیں ذہنی طور پر عثمانیوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کرنا تھا۔

قندھار، بخارا، دلی اور استنبول کے حکمرانوں کے گلے میں لگامیں ڈالنے کا عزم

مؤرخ بتاتے ہیں کہ پہلی جھڑپ میں ہی عثمانی دستوں کو اندازہ ہو گیا کہ یہ پہلے والی ایرانی فوج نہیں۔ شکست کے بعد وہ ہمدان کی طرف پسپائی پر مجبور ہو گئے۔ اس کے بعد مالییر کے میدان میں ایک بڑا معرکہ ہوا جس میں تیس ہزار سپاہیوں کی عثمانی فوج کو پھر شکست ہوئی۔ اس لڑائی نے عثمانیوں کا مغربی ایران پر کنٹرول ختم کر دیا۔

ہمدان نادر شاہ نے بغیر لڑائی کے فتح کر لیا۔ یہاں دس ہزار ایرانی قیدی آزاد کروائے گئے اور بڑی مقدار میں اسحلہ ایرانیوں کے ہاتھ آیا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد نادر شاہ کرمانشاہ میں بھی داخل ہو گیا اور پورا صوبہ ان کے قبضے میں تھا۔

ایک ماہ کے آرام کے بعد وہ 17 جولائی 1730 کو آذربائجان کو بھی عثمانیوں سے واپس لینے کے لیے روانہ ہو گئے۔ نادر شاہ کی کامیابیوں سے پریشان عثمانی حکومت نے ایران کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کر دیا اور استنبول میں ایرانی سفیر کو بھی قید کر دیا گیا۔ استنبول کے عوام میں بھی بے چینی بڑھ رہی تھی جس کی وجہ سے حکومت جلد از جلد معاہدہ چاہتی تھی اور انھیں اب جارجیا کے بھی ہاتھ سے نکلنے کی فکر تھی۔

اسی دوران نادر شاہ نے تبریز کے گورنر کو بھی شکست دے دی۔ ہر لڑائی کے بعد ایرانیوں کے ہاتھ میں بڑی مقدار میں اسلحہ لگ رہا تھا اور بہت سے لوگ قیدی بن رہے تھے۔ تاہم عورتوں کے بارے میں نادر شاہ کا حکم تھا ’انھیں بحفاظت ان کے گھروں تک چھوڑا جائے اور ان کی سلامتی کے بارے میں سخت احکامات تھے۔‘

’ایک سال سے بھی کم عرصے میں انتہائی تیزی سے جرات مندانہ کارروائیوں کے ذریعے نادر شاہ نے افغانوں اور عثمانیوں کو مکمل طور پر ہرا کر ایرانی سلطنت کے اہم شہر ان سے واپس لے لیے تھے۔‘

تاہم نادر شاہ عثمانی کیمپ کی خراب صورتحال کا فائدہ نہیں اٹھا سکے کیونکہ انھیں تبریز میں پانچ روز ہی ہوئے تھے کہ ہرات سے ابدالی افغانوں کی بغاوت کی اطلاع ملی۔

نادر شاہ نے مشرق کا رخ کیا اور ایک طویل جنگی مہم کے بعد ابدالیوں نے 27 فروری 1732 کو ہتھیار ڈال دیے اور ہرات کی پہاڑیاں ایرانیوں کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ لیکن کوئی قتل عام ہوا نہ لوٹ مار اور مؤرخین کے بقول نادر شاہ کے نرم رویے نے ان کے ہم عصروں کو حیران کر دیا۔

نادر شاہ کبھی مشرق میں اور کبھی مغرب میں ایک کے بعد ایک جنگی مہم میں مصروف تھے اور حالات خود آہستہ آہستہ ان کے بادشاہ بننے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

وہ افغانوں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے کہ جنوری 1732 میں طہماسپ اور عثمانیوں کے درمیان معاہدہ طے پا گیا اور یہی معاہدہ ہرات سے فرح جاتے ہوئے نادر کے ہاتھ لگ گیا۔ نادر کا ارادہ شاید ہرات کے بعد قندھار فتح کرنے کا ہو لیکن اب اس سب کو انتظار کرنا تھا۔ ایکسوردی لکھتے ہیں اگر نادر شاہ کا طہماسپ کو اکیلے چھوڑنے کا مقصد اس سے کوئی بڑی غلطی کروانا تھا تو اس میں وہ توقع سے زیادہ کامیاب ہو چکے تھے۔ ’طہماسپ اپنا موقع گنوا چکے تھے، اب نادر کی باری تھی۔‘

نادر نے کھلے عام سلطنت عثمانیہ کے ساتھ اس معاہدے کو رد کر دیا۔ ’سنہ 1732 میں اصفہان پہنچ کر اپنی روایتی احتیاط اور تیاری کے ساتھ نادر نے طہماسپ کو نشے کی حالت میں دربار میں شیعہ امرا اور فوجی افسران کے سامنے پیش کر دیا جنہوں نے انھیں تخت کے لیے نااہل قرار دے دیا اور ان کے کمسن بیٹے عباس کو تخت پر بٹھا دیا۔‘

ایکسورتھی لکھتے ہیں نادر نے اس موقع پر عہد کیا کہ وہ نئے شاہ کے نام پر ’قندھار، بخارا، دلی اور استنبول کے حکمرانوں کے گلے میں لگامیں ڈال دیں گے۔‘

قندھار
،تصویر کا کیپشنقندھار: قندھار میں کامیابی کے بعد اس جواز کی بنیاد پر کہ مغلیہ سلطنت نے ان کو مطلوب افغانوں کو پناہ دی تھی نادر شاہ نے دلی کا رخ کیا۔ انھوں نے ایرانی اور مغلیہ سلطنتوں کے بیچ پرانی سرحد پار کی، کابل فتح کیا اور ان کی اگلی منزل دلی تھی۔

ایرانی سلطنت کی مغربی سرحدوں کی بحالی اور نادر قلی خان اب نادر شاہ بن گیا

نادر کی پہلی ترجیح عثمانویوں پر حملہ کر کے ایران کی مغربی سرحدیں بحال کرنا تھا۔ اس کے بعد پیشقدمی کرتے ہوئے انھوں نے سنہ 1735 میں عثمانوی فوج کو یروان کے مقام پر بھاری شکست دی اور انھیں امن معاہدے پر مجبور کیا جس کے تحت ایران کی پرانی سرحدیں بحال کر دی گئیں اور عثمانوی فوج پیچھے ہٹ گئی۔ اس جنگ میں روس نے ترکوں کے خلاف نادر کا ساتھ دیا اور وہ خود بھی بحیرہ کیسپین کے ایرانی علاقوں سے پیچھے ہٹ گئے جن پر انھوں نے صفوی سلطنت پر افغانوں کے حملے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ کر لیا تھا۔

سنہ 1735 تک قندھار کے علاوہ نادر شاہ نے صفوی سلطنت کا کنٹرول اپنے تمام پرانے علاقوں پر بحال کر دیا تھا۔ اور پھر انھوں نے تمام امرا، قبائیلی سرداروں اور ایران کے اعلیٰ اہلکاروں کی رضامندی سے موگھان کے مقام پر ایک اجلاس میں اپنے آپ کو نیا بادشاہ تسلیم کروا لیا۔ ان کی مخالفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ’ایک ملا کو نجی محفل میں صفوی بادشاہت قائم رکھنے کے حق میں بات کرنے پر مروا دیا گیا۔‘

’یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آخری دور میں ظالم حکمران کی شہرت کے باوجود اور اس ایک ملا کی مثال کے علاوہ ، انھوں نے اپنے بعد اور پہلے آنے والوں کے برعکس تقریباً بغیر سیاسی بنیاد پر کسی تشدد کے اقتدار حاصل کیا۔‘

’وہ قتل کے ذریعے نہیں بلکہ حکمت عملی، پروپوگینڈا، ہوشیاری، زبردست فوجی حمایت اور سب سے بڑھ کر جنگی کامیابیوں کی بنیاد پر طہماسپ کو تخت سے ہٹا کر خود بادشاہ بنے۔‘

نادر شاہ کی مذہبی پالیسی

موگھان میں نادر شاہ نے شعیہ اور سنیوں کو قریب لانے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ ایکسوردی کہتے ہیں نادر کی مذہبی پالیسی نے کئی مقاصد حاصل کیے۔ ان میں سے ایک تو یہ تھا کہ فوج میں سنیوں کی بڑی تعداد کی وفاداری مزید مضبوط ہو گئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ نادر شاہ کی مذبی پالیسی کے تحت اقلیتوں کے ساتھ رواداری برتی گئی، وہ آرمینیائی لوگوں کے ساتھ بہت اچھے تھے اور ’بعد میں یہودیوں کی طرف سے ان کے دور کو استحصال سے نجات کے دور کے طور پر یاد کیا گیا؟‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ ایران کے اندر انھوں نے سنی فرقے کو نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن ایران سے باہر اپنے آپ کو اور سلطنت کو سنی کے طور پر پیش کرتے تھے اور اس طرح ’انھوں نے اپنے آپ کو اسلامی دنیا کے رہنما کے طور پر عثمانوی سلطنت کے سلطان کے مقابل کھڑا کر دیا ہے اور ان کے اور ان کی سلطنت کے شیعہ ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں تھا۔‘ اس مذہبی پالیسی کے تحت انھوں نے اپنے آپ کو صفوی سلطنت سے بھی الگ کر لیا۔

ان کے کچھ اور اقدام جو صفوی حکمرانوں سے مختلف تھے ان میں اپنے بیٹوں کو حرم میں رکھنے کی بجائے صوبوں کی گورنریاں سونپی۔ ان کا حرم بھی پچھلے بادشاہوں کے مقابلے میں چھوٹا تھا۔ ’عورتوں کو اغوا کرنے کے خلاف احکامات جاری کیے۔‘

مؤرخ سوال اٹھاتے ہیں کہ نادر شاہ کا انداز حکمرانی ماضی سے مطابقت رکھتا تھا یا مستقبل سے۔ نادر شاہ بار بار اپنا موازنہ تیمور لنگ سے کرتے تھے اور اپنے ترک ہونے کا ذکر کرتے تھے اور انھوں نے اپنے پوتے کا نام بھی تیمور کے بیٹے کے شاہ رخ کے نام پر رکھا تھا۔

Mughal Emperor Muhammad Shah (left) and King Nadir Shah of Iran (right). Unknown artist, 1740, Musee Guimet, Paris
،تصویر کا کیپشننادر شاہ اور محمد شاہ: نادر شاہ نے مغل بادشاہ کو تخت سے نہیں ہٹایا اور واپسی سے پہلے انھیں کئی تحائف پیش کیے اور اپنے ہاتھوں میں ان کے تاج میں قیمتی زیور سجایا جس کا مقصد ان کی مکمل حاکمیت کی تصدیق کرنا تھا۔ مغل بادشاہ محمد شاہ نے جواب میں تبت اور کشمیر سے لے کر سمندر تک دریائے سندھ کے تمام مغربی علاقے انھیں پیش کر دیے۔ 'یہ ڈیل یقیناً پہلے سے طے شدہ تھی۔'

نادر شاہ نے دلی کا رخ کیا

نادر شاہ کی تخت نشینی پر سلطنت کی مغربی سرحدیں محفوظ تھیں اور ایران کے اندر ان کا پورا کنٹرول تھا۔ اس پوزیشن میں انھوں نے مشرق کی طرف قندھار کا رخ کیا۔ اس مہم کے اخراجات کے سلطنت کے اندر لوگوں نے بھاری قیمت ادا کی اور ملک کے کئی حصوں میں معیشت کا پہیہ رک گیا۔

قندھار میں کامیابی کے بعد اس جواز کی بنیاد پر کہ مغلیہ سلطنت نے ان کو مطلوب افغانوں کو پناہ دی تھی دلی کا رخ کیا۔ انھوں نے ایرانی اور مغلیہ سلطنتوں کے بیچ پرانی سرحد پار کی، کابل فتح کیا اور ان کی اگلی منزل دلی تھی۔

دلی کے شمال میں کرنال کے مقام پر مغل بادشاہ محمد شاہ کی فوج کو شکست دے کر مارچ سن 1739 کو دلی پہنچے۔ اس دوران کچھ فسادات ہوئے جس میں کچھ ایرانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ ایکسوردی لکھتے ہیں کہ ’اپنے گھر سے دور مغلیہ سلطنت کی دولت کے اتنے قریب وہ صورتحال پر کنٹرول نہیں کھو سکتے تھے۔‘ نادر شاہ نے ’بے لاگ قتل عام کا حکم دیا جس میں ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے جن میں زیادہ معصوم شہری تھے۔‘

’اس مقام سے پہلے۔ نادر نے کم سے کم میدان جنگ کے علاوہ اپنے عزائم غیر ضروری خون خرابے کے بغیر حاصل کیے تھے۔ لیکن دلی کے بعد شاید انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان کے پہلے والے اصول اب غیر ضروری ہو گئے تھے۔‘

نادر شاہ نے دلی سے بڑی مقدار میں زیورات، سونا اور چاندی کے ساتھ دریائے سندھ کے مغرب میں تمام مغل علاقے بھی تحفے میں حاصل کیے۔ ’حاصل کی گئی دولت کی کل قیمت تقریباً سات سو ملین روپے تھی۔۔۔۔ اندازوں کے مطابق یہ پیسہ فرانس کی حکومت کا سن 1756 سے 1763 تک جاری رہنے والی سات سالہ جنگ پر اٹھنے والے خرچ سے زیادہ تھا جس میں آسٹریا کو دی جانے والی سبسڈی اور بری اور بحری جنگیں شامل تھیں۔‘

نادر شاہ کو ملنے والے جواہرات میں سب سے زیادہ قابل ذکر کوہ نور، دریائے نور اور تاج ماہ نامی ہیرے تھے جن کی آنے والی دہائیوں میں اپنی ایک خونی تاریخ تھی۔ ان کا دلی پر حملے کا مقصد ایران کے مغرب میں جنگی مہمات کے لیے ضروری ’کیش‘ حاصل کرنا تھا جو ان کی تخت نشینی تک ایران کے پاس نہیں تھی۔

نادر شاہ نے مغل بادشاہ کو تخت سے نہیں ہٹایا اور واپسی سے پہلے انھیں کئی تحائف پیش کیے اور اپنے ہاتھوں میں ان کے تاج میں قیمتی زیور سجایا جس کا مقصد ان کی مکمل حاکمیت کی تصدیق کرنا تھا۔ مغل بادشاہ محمد شاہ نے جواب میں تبت اور کشمیر سے لے کر سمندر تک دریائے سندھ کے تمام مغربی علاقے انھیں پیش کر دیے۔ ’یہ ڈیل یقیناً پہلے سے طے شدہ تھی۔‘

نادر شاہ کی گونج یورپ اور روس کے شاہی درباروں میں

مغلیہ سلطنت کے خلاف کامیابی نے نادر شاہ کی ’عالمی شہرت کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔‘ دلی میں گزرے ان کے تقریباً دو ماہ کہانی تاجروں اور کاروباری لوگوں کی زبانی دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئی۔ ’انڈیا میں یورپی کمپنیوں کے نمائندوں اور پادریوں سے نادر شاہ کے بارے میں رپورٹیں طلب کی گئیں۔‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ نادر شاہ کی کارروائیاں لندن کے اخبارات کی زینت بنیں۔ ’عثمانی اور روسی شاہی درباروں میں کچھ ہی عرصے بعد ہاتھیوں اور جواہرات پر مشتمل نادر شاہ کے بھجوائے ہوئے تحائف وصول کیے گئے۔‘ ایکسوردی لکھتے ہیں روس کو بھجوائے گئے جواہرات آج بھی سینٹ پیٹرزبرگ کے عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔

بات یہیں نہیں رکی چند ماہ میں مختلف یورپی زبانوں میں نادر شاہ کے بارے میں کتابیں شائع ہونے لگیں اور تقریباً ایک نسل بعد تک بھی سب کو نہیں بھی کم سے کم پڑھے لکھے طبقات ان کے نام سے واقف تھے۔

’دلی نادر شاہ کی زندگی کا عروج تھا۔‘ وہ تقریباً دو ماہ قیام کے بعد 16 مئی سن 1739 کو دلی سے روانہ ہوئے۔

لیکن دلی کے بعد نادر شاہ ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ وہ بیمار ہو گئے، ظلم، غصہ اور لالچ ہی اب ان کی شخصیت تھی اور آخر میں اپنے ہی افسروں کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔‘

نادر شاہ: عروج کے بعد زوال

انڈیا سے واپسی پر نادر شاہ کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے رضا قلی نے جن کو وہ اپنی غیر حاضری میں اپنا جانشین بنا کر گئے تھے سابق صفوی بادشاہوں تہمسپ اور عباس کو مروا دیا تھا۔ اس کے علاوہ نادر شاہ اپنے بیٹے کے بہت بڑے دربار سے بھی ناخوش تھے۔ نادر شاہ نے رضا قلی سے نائب کا مقام چھین لیا۔ اس کے بعد باپ بیٹے کے تعلق میں دراڑ پڑتی گئی اور نادر شاہ کے ذہن میں خیال گھر گیا کہ ان کا بیٹا ان کے خلاف سازش کر رہا ہے۔

انڈیا کے بعد نادر شاہ نے ترکستان میں ایک کامیاب مہم کی اور داغستان کی طرف گئے لیکن وہاں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی فوج خوراک کی کمی کا شکار تھی۔ نادر شاہ کی اس وقت تک اپنی صحت بھی خراب ہو چکی تھی۔ انھیں غالباً ’جگر کا مرض لاحق تھا جو ملیریا سے شروع ہوا اور زیادہ مہ نوشی سے بگڑ گیا۔‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ان کے اندر غصہ بھی بڑھتا جا رہا تھا اور نفسیاتی مسائل بھی ہیدا ہو چکے تھے۔ اسی دوران سن 1742 میں انھیں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے رضا قلی نے ان کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔ رضا قلی نے ان الزامات کی تردید کی لیکن نادر شاہ کو یقین نہیں آیا اور ان کی آنکھیں نکلوا دیں جس کے بعد ان کے تخت پر بیٹھنے کا سوال ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

’داغستان میں ناکامی، ان کی بیماری اور سب سے بڑھ کر بیٹے کی آنکھیں نکلوانے کے پچھتاوے نے ان کی زندگی میں ایسا بحران پیدا کیا انھیں ایک طرح سے نفسیاتی طور پر توڑ دیا اور وہ اس سے پھر کبھی باہر نہیں آسکے۔‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ شاید بچپن میں انھوں نے جو غربت اور احساس کمتری دیکھا تھا اس کی وجہ سے نادر شاہ کے لیے ان کا خاندان ہمیشہ بہت اہم تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک نادر شاہ کے لیے ان کے خاندان کی باہمی وفاداری ایک اٹل پہلو تھا اور اسی یقین نے وہ بنیاد فراہم کی جس کی مدد سے انھوں نے ایک سلطنت قائم کی تھی۔ ’اب یہ بنیاد ہل چکی تھی، اور ان میں پہلے جیسی توانائی غائب ہو گئی تھی۔۔۔ اور ان کی جسمانی اور ذہنی صحت تیزی سے بگڑ گئی۔‘

داغستان سے پسپائی کے بعد بعض اطلاعات کے مطابق پہلے سے طے شدہ ایک منصوبے کے تحت عثمانوی عراق میں کارروائی کے لیے نئی فوج تیار کی گئی جو ’اپنے وقت میں کسی ایک ملک کی طاقتور ترین فوج تھی۔‘

کابل سے اچانک لاڑکانہ جانا پڑ گیا

دلی سے خراب موسم میں کئی دریاؤں کو پار کر کے نادر شاہ دو دسمبر سن 1739 کو کابل پہنچے۔ منزل تو مغرب میں اپنی سلطنت تھی لیکن انھیں ایک بار پھر واپس انڈیا کا رخ کرنا پڑا۔ سندھ کے گورنر خدایار خان نے ان کی اطاعت سے انکار کر دیا تھا۔

خدایار خان کا شاید خیال تھا کہ افغانستان کے برفیلے پہاڑوں سے سندھ کے تپتے صحراؤں اور میدانوں کا سفر بہت مشکل ہو گا۔ لیکن نادر شاہ ایسی بات نظر انداز کرنے والوں میں نہیں تھے۔

نادر شاہ دو مہینوں میں ہزار میل کا سفر کر کے سندھ پہنچے اور بالآخر خدایار خان عمر کوٹ میں گرفتار ہوگئے اور انھیں اپنے خزانے سے بھی ہاتھ دھونے پڑے جن میں ’ایران کی صفوی سلطنت کے آخری بادشاہ شاہ سلطان حسین کی کچھ قیمتی اشیا بھی شامل تھیں جو غلزئی افغانوں کے ذریعے ان تک پہنچی تھیں۔‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ کابل سے سندھ کے سفر کے دوران اور لاڑکانہ قیام کے دوران بھی نادر شاہ اور ان کے شاہی دربار کو بلخ اور ہرات سے ان کے پسندیدہ پھل خربوزے کی سپلائی پہنچائی جاتی رہی۔ نادر شاہ سن 1740 میں اپریل کے وسط میں لاڑکانہ سے وسطی ایشیا کی طرف روانہ ہوئے جہاں ان کے اگلے کچھ ماہ مختلف جنگی مہمات اور سلطنت کو محفوظ بنانے میں گزرے۔

29 نومبر سن 1740 کو انھوں نے خیوا کے مقام پر اپنے آپ کو شہنشاہ قرار دے دیا۔ ان کی اگلی منزل ان کی سلطنت کا دارالحکومت مشہد تھی جہاں انھوں نے انڈیا اور ترکستان میں ’مانی گئی منتوں کو پورا کرنے کے لیے امام رضا کے مزار پر قیمتی چڑھاوے دیے۔‘ مشہد میں انھوں نے اپنا ایک نیا مزار بھی تعمیر کروایا۔

فوج کو ایک سال کی تنخواہ ایڈوانس دینے کے بعد وہ 14 مارچ سن 1741 کو داغستان روانہ ہو گئے جہاں وہ اپنے بھائی ابراہیم کی ہلاکت کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ ان کی والدہ ان کی دلی مہم کے دوران وفات پا چکی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی اب ان کے کئی پرانے ساتھی دنیا میں نہیں تھے۔

اسی دوران نادر شاہ کے انڈیا سے تعلق رکھنے والے طبیب علوی خان نے ان سے حج پر جانے کی اجازت مانگ لی۔ ایکسوردی لکھتے ہیں کہ دلی کی مہم کے بعد نادر شاہ کے غصے کو کنٹرول میں رکھنے اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے ان کی جسمانی تکلیف کم رکھنے میں علوی خان کا اہم کردار رہا تھا۔

’اب نادر شاہ زیادہ تر ایسے حکمران تھے جنہیں مشورہ اور مدد دینے والا اور سمجھانے والا کوئی نہیں تھا۔‘ اور داغستان کی دو سال سے جاری مہم میں سب ٹھیک نہیں چل رہا تھا کہ انھیں جنوری سن 1742 میں سلطنت عثمانیہ کا ایک پیغام ملا جو کئی سال پہلے سن 1738 میں ان کی طرف سے بھجوائے گئے امن کے ایک پیغام کا جواب تھا۔

ایرانی مؤرخ ہمایوں کوتازیان اپنی کتاب - -The Persians: Ancient, Mediaeval And Modern Iranمیں لکھتے ہیں کہ نادر شاہ نے ایرانی سلطنت کا سرکاری مذہب سنی رکھنے کے بدلے سلطنت عثمانیہ سے فقہ جعفریہ کو تسلیم کرنے کا کہا تھا لیکن اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔ کوتازیان لکھتے ہیں کہ ’ان کی تجویز ماننا عثمانیوں کے لیے اتنا ہی مشکل تھا جتنا ایرانیوں کے لیے سنی اسلام بحیثیت سرکاری مذہب۔‘

نادر شاہ نے سلطنت عثمانیہ کے ساتھ پھر محاذ کھول دیا۔ اب ان کی منزل بغداد اور سلطنت عثمانیہ کے کچھ دوسرے شہر تھے۔ ایکسوردی لکھتے ہیں کہ ایرانیوں کے نقطہ نظر سے ’یہ عثمانیوں کے خلاف فیصلہ کن مہم ہونی تھی جس کے نتیجے میں نادر شاہ اسلامی دنیا کے حکمران قرار پانے تھے۔ اس مہم کی تیاریں بھی اتنے ہی بڑے پیمانے پر تھیں۔‘

Battle of Maxen. 1759. During the Seven Year War between Austria and Prussia.
،تصویر کا کیپشنآسٹریا اور پرشیا کے درمیان سات سالہ جنگ کا ایک تصوراتی منظر: فوج کے تنخواہوں کا ریکارڈ رکھنے والے ایک اہلکار کے مطابق سن 1743 کے آغاز میں نادر شاہ کی فوج تین لاکھ پچھتر ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ مؤرخ کہتے ہیں یہ فوج یورپ کی دو بڑی طاقتوں آسٹریا اور پرشیا دونوں کی افواج کو ملا کر بھی ان سے بڑی تھی۔ لیکن اس کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ تھی۔

دنیا کی سب سے بڑی فوج

’نادر شاہ نے سینکڑوں نئی توپوں کے ساتھ اپنے توپخانے کو سب سے آگے روانہ کیا۔ ان کی فوج کے تنخواہوں کا ریکارڈ رکھنے والے ایک اہلکار کے مطابق سن 1743 کی اس مہم کے آغاز میں ان کی فوج تین لاکھ پچھتر ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی جن میں بہت تھوڑی تعداد شیعہ ایرانیوں کی تھی۔ اس فوج میں ’60 ہزار ترکمان اور ازبک، 70 ہزار افغان اور انڈین، 65 ہزار خراسانی اور ایک لاکھ بیس ہزار کا تعلق مغربی ایران اور 60 ہزار کا آذربائیجان اور کوہ قاف سے تھا۔‘

یہ فوج یورپ کی دو بڑی طاقتوں آسٹریا اور پرشیا دونوں کی افواج کو ملا کر بھی ان سے بڑی تھی۔ لیکن اس کی قیمت بھی اتنی ہی زیادہ تھی۔

دلی کی مہم کے بعد ایران میں تین سال تک ٹیکس کی چھوٹ اور اس سے پیدا ہونے والی اقتصادی خوشحالی اب ماضی کا حصہ بن چکی تھی۔

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ نادر شاہ کو معلوم تھا کہ اتنی بڑی نئی جنگی مہم کے کیا اثرات ہوں گے لیکن اب شاید اسے اس کی پرواہ نہیں تھی۔ بغداد کی مہم کی مہم سے پیدا ہونے والی مشکلات سن 1740 کی دہائی میں بڑھتی گئیں۔ معیشت رک گئی، لوگ ٹیکس لینے والوں سے بچنے کے لیے گھر بار چھوڑ کر جنگلوں بیابانوں میں چھپنے پر مجبور ہونے گلے۔ بڑی تعداد میں لوگ بغداد، بصرہ اور مشرق میں انڈیا کی طرف نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے۔

مختلف اندازوں کے مطابق سن 1722 سے پہلے کے مقابلے میں ’تجارت کا ہجم پانچ گنا کم ہو گیا۔‘ سن 1736 میں نادر شاہ کے قندھار کوچ کرنے کے بعد سے سلطنت میں ’نسبتاً امن‘ تھا لیکن ٹیکسوں اور مایوسی اور پریشانیوں نے نئی بغاوتوں کو جنم دینا شروع کر دیا تھا۔

’نادر شاہ کی کہانی میں فوج اور اس کے لیے ٹیکسوں کا نفاذ ایک مستقل پہلو ہے۔‘

داغستان
،تصویر کا کیپشنداغستان کا ایک پہاڑی گاؤں: زندگی بھر کی کامیاب مہمات کے بعد عمر کے اخری حصے میں داغستان کی پہاڑیوں میں ناکامی نے نادر شاہ پر بہت منفی اثر ڈالا

سلطنت عثمانیہ نشانے پر تھی لیکن نادر شاہ نے فوج کو پسپائی کا حکم دے دیا

نادر شاہ نے سلطنت عثمانیہ میں بغداد، بصرہ، سمارہ، نجف، کربلا اور شط العرب کے گرد کارروائیوں کا حکم دیا۔ کرکوک اور موصل کے محاصرہ کا حکم دیا گیا۔

جنگ طول پکڑ رہی تھی کہ اچانک نادر شاہ کو سلطنت عثمانیہ کے سلطان کی طرف سے پیغام ملا کہ اگر وہ ان کی سرحد سے پیچھے ہٹ جائیں تو وہ امن پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ مؤرخین اس پیغام سے زیادہ حیرت اس بات پر ظاہر کرتے ہیں کہ نادر شاہ نے اس پیغام کے جواب میں 20 اکتوبر سن 1743 کو اپنی فوج کو موصل سے پیچھے ہٹنے کا حکم دے دیا۔ ابھی بصرہ کا محاصرہ جاری تھا لیکن استنبول میں زبردست خوشی کا اطہار کیا گیا۔

سب حیران تھے۔ ’کیا یہ وہی نادر شاہ تھا جس نے کچھ عرصہ پہلے ایک شکایت ملنے پر کابل سے سندھ تک سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کیا تھا۔

’عثمانی عراق میں ان کے پاس اتنی بڑی فوج تھی جس کی انھوں نے پہلے کبھی کمانڈ نہیں کی تھی۔ اس میں انڈیا کی مہم کے تجربہ کار سپاہی بھی شامل تھی۔ صرف موصل کے باہر ان کی کمانڈ میں دو لاکھ سپاہی تھے۔‘

’یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اپنے سائز اور صلاحیت کے اعتبار سے اس وقت یہ شاید دنیا کی سب سے طاقتور فوج تھی۔‘ ایکسوردی لکھتے ہیں کہ یہ ’تو سلطنت عثمانیہ کے گلے میں پھندا ڈال کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی مہم تھی جیسے اس سے پہلے بخارا اور دلی میں ہو چکا تھا۔‘

لیکن نادر شاہ تو صرف 40 دن کے محاصرے کے بعد ہی پیچھے ہٹ گئے۔

مؤرخ مشکل جنگی حالات اور اس طرح کی بہت سی توجیہات پیش کرتے ہیں لیکن یہ سب تو نادر شاہ کے لیے نیا نہیں تھا اور ایسی مشکلات کو سر کر کے ہی انھوں نے اپنا مقام بنایا تھا۔ ان کی بیماریوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے لیکن وہ بھی نئی چیز نہیں تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ محاصرے والی جنگ شاید ان کی طاقت نہیں تھی، وہ میدان میں جنگ کرنے اور چالیں چلنے کو پسند کرتے تھے۔

لیکن ایکسوردی کے خیال میں شاید اب ان میں جنگ کرنے کا عزم ختم ہو گیا تھا۔ ان میں اس بڑی فوج کو کمانڈ کرنے کے لیے ضروری فوکس نہیں تھا اب۔

’ہو سکتا ہے کہ یہ صرف اتفاق نہ ہو کہ موصل کا محاصرہ ختم کرنے کا حکم نادر شاہ نے انہی دنوں میں دیا تھا جب ٹھیک ایک سال قبل انھوں نے اپنے بیٹے رضا قلی خان کی آنکھیں نکلوائی تھیں۔‘

وہ اسے نادر شاہ کی زندگی کا ’ٹرننگ پوائنٹ‘ کہتے ہیں۔ جب عملاً ان کی فتوحات کا دور ’دھماکے کی بجائے خاموشی سے ختم ہو گیا۔‘

’ان کی تلوار، ان کی فوج سب موجود تھی، اتنی ہی مستعد اور ہیبتناک اور ان کے اشارے پر کچھ بھی کرنے اور کہیں بھی جانے کے لیے تیار۔۔۔۔زیادہ تر عثمانی عراق ان کے قبضے میں تھا اور استنبول کی طرف پیشقدمی کا امکان بالکل حقیقی تھا۔ ۔اسلامی دنیا کی قیادت ان کے نشانے پر تھی۔۔ لیکن وہ اپنے اس بیٹے کو تباہ کر چکے تھے جس کو وہ ہمیشہ سے یہ عظمت ورثے میں دینا چاہتے تھے۔‘

ایک دن اچانک وہ اپنی فوج اور جنگی مہم چھوڑ کر اپنے حرم کی کچھ خواتین، کیولری کے ایک چھوٹے محافظ دستے کے ساتھ شیعہ مزارات کی زیارتوں کے لیے کربلا اور نجف روانہ ہو گئے۔

ان زیارتوں کے دوران ان سے ملاقات کرنے والے سلطنت عثمانیہ کے ایک اہلکار نے ریکارڈ چھوڑا ہے کہ ’حالانکہ نادر شاہ اب بھی وجیہ تھے، لیکن ان کے چہرے پر عمر اور ذہنی انتشار کے آثار نمایاں تھے، آنکھی پیلی تھیں اور کئی دانت نکل چکے تھے۔ اور وہ اسی سال کے لگ رہے تھے۔‘

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ انہی دنوں میں ایک فرانسیسی پادری نے بھی ان کا علاج کیا اور کہا کہ شاید وہ یرقان کا شکار تھے۔

نادر شاہ کی جنگی مہمات یہاں ختم نہیں ہوئیں۔ لیکن اب ان کی کہانی میں ان کے شہریوں کی مشکلات اور ان پر پڑنے والے بوجھ اور نادر شاہ کے ظلم کا پہلو بھاری ہونے لگا تھا۔

نادر شاہ کی آخری رات

مؤرخ ہمایوں کوتازیان لکھتے ہیں کہ سن 1746 میں سلطنت عثمانیہ کے ساتھ معاہدے کے بعد دونوں سلطنتوں نے سن 1639 والی سرحدیں قبول کر لی تھیں۔ تاہم وہ لکھتے ہیں کہ دریں اثنا نادر شاہ کا ظلم دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔

’سیستان ایک بغاوت کو کچلنے کے لیے جاتے ہوئے ان میں ذہنی عدم توازن کے آثار نظر آئے۔‘ وہ لکھتے ہیں کہ نادر شاہ کا رویہ اتنا عجیب ہو گیا کہ ان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کو اپنی زندگی خطرے میں نظر آنے لگی۔

اور پھر ایک دن نادر شاہ نے اپنے ایرانی کمانڈروں سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ابدالی افغانوں کو اپنی سکیورٹی کی ذمہداری سونپ دی اور ایرانی کمانڈروں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔

یہ 19 جون سن 1747 کی شام تھی۔ ایکسوردی لکھتے ہیں کہ نادر شاہ نے اپنی فوج میں 4000 ہزار سپاہیوں کے 24 سالہ کمانڈر احمد خان ابدالی کو طلب کیا۔

ایکسوردی لکھتے ہیں کہ سن 1738 میں جب نادر شاہ نے قندھار فتح کیا تھا تو نوجوان احمد خان ابدالی اس کی ایک جیل میں قید تھے۔ احمد خان ابدالی کی ایرانی فوج میں موجودہ حیثیت نادر شاہ کی مرہون منت تھی۔

نادر شاہ نے انھیں بتایا کہ انھیں شک ہے کہ ان کے ایرانی گارڈ انھیں قتل کرنا چاہتے ہیں اور انھوں نے احمد خان ابدالی کو ان گارڈوں کو اگلی صبح گرفتار کر کے سکیورٹی کی ذمہداری خود سنبھالنے کا حکم دیا۔ لیکن یہ گفتگو شاید ایرانی گارڈوں نے سن لی تھی۔

نادر شاہ کے ایرانی دستے نے فیصلہ کیا کہ ان کے پاس صرف ایک یہی رات ہے۔ کارروائی کے لیے ستر قابل اعتماد امرا اور افسران کا ایک گروپ تیار کیا گیا۔ نادر شاہ اس رات اپنے معمول کے خیمے کی بجائے اپنی بیوی چکی کے خیمے میں سونے گئے۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ اس رات کے واقعات کی تفصیل ان تک چکی کی ہی کی وجہ سے پہنچی ہیں۔

’نادر شاہ چکی کو یہ کہہ کر لیٹ گئے کہ اگر وہ گہری نیند میں جائیں تو انھیں جگا دیا جائے۔ حملہ آور حرم کے دروازے پر آئے تو ان میں سے زیادہ تر نے آگے آنے سے انکار کر دیا۔ صرف چند آگے بڑھے اور مزاحمت کرنے والے ایک سیاہ فام خواجہ سرا کو قتل کر دیا۔ شور سے چکی کی آنکھ کھلی اور اس نے نادر شاہ کو بھی جگایا۔ نادر شاہ نے فوراً لپک کر اپنی تلوار پکڑی لیکن پاؤں کسی چیز میں الجھنے کی وجہ سے وہ گر پڑے۔ اور اسی حالت میں ایک حملہ آور سالار خان نے ان پر گردن اور کندھے کے بیچ میں وار کیا اور ان کا بازو کاٹ دیا لیکن پھر وہ خود ہی سکتے میں چلا گیا۔‘

’نادر شاہ زمین پر پڑے تھے اور خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ انھوں نے اٹھنے کی ناکام کوشش کی۔ انھوں نے حملہ آوروں سے نہ مارنے کی اپیل کی۔ لیکن ایک اور حملہ آور محمد خان قجر نے آگے بڑھ کر ایک ہی وار میں ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔‘

اس کے ساتھ ہی ’نادر شاہ کی کہانی گمنامی سے شروع ہو کر ٹریجڈی کی تصویر بنتی ہوئی سفاک سازشوں، فوجی کامیابیوں، شان و شوکت اور دولتمندی اور کوتاہیوں، مایوسیوں، انتہائی ظالمانہ کارروائیوں کے بعد ذہنی اضطراب سے گزر کر موت کے منہ میں چلی گئی۔‘

نادر شاہ کی ہلاکت کے بعد کی دہائیاں ’تشدد، افراتفری، تباہی‘ کی کہانی ہیں۔ ایکسوردی لکھتے ہیں ان کی فوج جس میں وہ مختلف کمانڈروں اور نسلوں کے درمیان مقابلے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ان کے بعد ایک نہ رہ سکی۔ ’اسکندر اعظم کی فوج کی طرح ان کی فوج بھی مختلف جرنیلوں میں بٹ گئی جن میں احمد خان ابدالی تھے جنھوں نے درانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔

ایکسوردی لکھتے ہیں نادر شاہ کے دور میں پہلی بار ان کے سپاہیوں کی اکثریت کو آتشیں اسلحہ دیا گیا اور ڈرل اور ٹریننگ پر بہت زور دیا جانے لگا جس کا آغاز یورپ میں ایک صدی پہلے ہو چکا تھا۔ فوج سائز میں بڑی ہوئی تو اس کا خرچہ بھی بڑھ گیا اور انھوں نے سلطنت کے ریاستی ڈھانچے کو بھی زیادہ فعال بنانے کے لیے تبدیلیاں کیں۔ یہ سب وہ باتیں تھیں جو عام طور پر یورپ کی خاصیتیں سمجھی جاتی تھیں۔

’اگر نادر کچھ دیر اور حکمران رہ جاتے اور سمجھداری سے حکومت کرتے اور ان سے اقتدار ایک قابل جانشیں کو منتقل ہوتا تو ان کی کامیاب فوج کے اخراجات کے لیے اصلاحات ایرانی انتظامیہ اور معیشت بالکل تبدیل ہو جاتی جیسا کہ یورپ میں ہو چکا تھا۔‘

اس سے ایران میں ’ایسی جدید ایرانی ریاست وجود میں آ سکتی تھی جو اگلی صدی میں شروع ہونے والی سامراجی قوتوں کی مداخلت کا مقابلہ کر نے کی اہل ہوتی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.