نادیہ جمیل کینسر سے مکمل طور پر صحتیاب

بریسٹ کینسر کا شکار ہونے والی پاکستان کی معروف اداکارہ نادیہ جمیل ایک سال سے زائد عرصے کے بعد اس مرض سے مکمل طور پر صحتیاب ہوگئیں۔

نادیہ جمیل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں مداحوں کو اپنی صحتیابی سے آگاہ کیا۔

اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 'میں باضابطہ طور پر کینسر سے صحتیاب ہوگئی ہوں، شکر الحمداللہ، تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں'۔

نادیہ جمیل نے مداحوں کی محبت، دعاؤں اور نیک تمناؤں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'اس ظالم کیموتھراپی کی وجہ سے میرے پاؤں کی کچھ رگوں کو نقصان پہنچا ہے، لیکن میں اپنے طریقے سے ڈانس کروں گی کیونکہ بھنگڑا میرے کاندھوں میں ہے'۔

اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اپنی بیماری کے دوران ان کا ساتھ دینے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

نادیہ جمیل نے اسکیری امی نامی پلیٹ فارم کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ میری مالی مشکلات کے دوران کام کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کا بہت شکریہ۔

اداکارہ نے اپنی بیماری کے دوران ان کا ساتھ دینے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا—فائل فوٹو: فیس بک
اداکارہ نے اپنی بیماری کے دوران ان کا ساتھ دینے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا—فائل فوٹو: فیس بک

انہوں نے مزید لکھا کہ میں اپنے تمام دوستوں اور اہلخانہ کی مشکور ہوں، ان کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کے کچھ دوست بشمول ثانیہ سعید، منیبہ مزاری، سلطانہ صدیقی اور عدنان صدیقی بھی میرے ساتھ کھڑے رہے۔

نادیہ جمیل نے مزید لکھا کہ 'صحتیابی کی جانب اپنے سفر میں، میں نے ان لوگوں کو چھوڑنے کا مشکل طریقہ سیکھا جو آپ کو چھوٹا اور بیگانہ محسوس کرواتے ہیں اور ان کو قبول کرنا سیکھا جو محبت اور عزت کرتے ہیں'۔

انہوں نے مزید لکھا کہ 'میں نے نئے دوست اور فیملی بنائی جن سے میں زندگی سے جڑی ہوں، خون سے نہیں، جنہوں نے کینسر اور عالمی وبا کے دوران آئسولیشن میں میرا ساتھ دیا، یہ عظیم لوگ بہت بڑی نعمت ہیں'۔

اداکارہ نادیہ جمیل نے لکھا کہ 'آخر میں، میں خود کھڑی ہوئی ہوں، یہ میری سانس ہے جو مجھے زندہ رکھتی ہے اور میں خود اپنی حفاظت کرتی ہوں'۔

نادیہ جمیل نے گزشتہ برس مئی میں اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے—فائل فوٹو:انسٹاگرام
نادیہ جمیل نے گزشتہ برس مئی میں اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے—فائل فوٹو:انسٹاگرام

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ اندھیرے پھر اتریں گے، ایسا ہونا ہے کہ اندھیرے کے بغیر روشنی کیا ہے لیکن وہ وقت دوبارہ گزر جائے گا۔

نادیہ جمیل نے کہا کہ اگرچہ میں دوبارہ اس مرض کا شکار ہوتی ہوں میں جانتی ہوں کہ مجھ میں دوبارہ کھڑا ہونا سیکھنے کی خواہش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'میں جب بھی گروں گی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر اٹھ کھڑی ہوں گی، چاہتی ہوں کہ مجھے ہمیشہ سچائی، مہربانی، عاجزی، احترام، پیار کا راستہ دکھایا جائے اور پھر اس پر چلنے کا طریقہ اور خواہش بھی پیدا ہو۔

خیال رہے کہ نادیہ جمیل گزشتہ برس اپریل میں بریسٹ کینسر کا شکار ہوگئی تھیں اور انہوں نے لندن کے ایک معروف ہسپتال میں علاج شروع کروایا تھا۔

مرض کی تشخیص کے چند دن بعد ہی 7 اپریل کو اداکارہ کی پہلی سرجری کی گئی تھی جو کامیاب رہی، جس کے بعد اداکارہ کے مزید علاج کے لیے کیموتھراپی کا آغاز کیا گیا تھا۔

اداکارہ اپنی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مداحوں کو آگاہ کرتی رہتی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ اپنی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے مداحوں کو آگاہ کرتی رہتی ہیں—فوٹو: انسٹاگرام

کیموتھراپی کے دوران ہی نادیہ جمیل نے گزشتہ برس مئی میں اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے اور وہ پہلے دن سے مداحوں کو سوشل میڈیا پر اپنی صحت سے متعلق آگاہ کرتی رہی ہیں۔

اس دوران نادیہ جمیل نے چند پوسٹس میں مایوسی کی باتیں بھی کیں اور اپنی طبیعت کافی ناساز ہونے اور خود کو تکلیف سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی تھی۔

کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ لڑنے کے باوجود نادیہ جمیل بچوں اور خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھاتی دکھائی دی تھیں۔

خیال رہے کہ اداکارہ نادیہ جمیل اپنے کیریئر کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بے حد سرگرم رہتی ہیں۔

جہاں پاکستان میں کئی خواتین کو بچوں کو گود لینے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اداکارہ نادیہ جمیل نے دو بچوں کو گود لے کر ایک نئی مثال قائم کی تھی۔