Site icon Dunya Pakistan

ناری کنٹریکٹر: وہ باؤنسر جس نے انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کریئر ختم کر دیا تھا

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ناری کنٹریکٹر کے سر میں 60 سال قبل ڈالی گئی دھات کی پلیٹ کو سرجری سے نکال دیا گیا ہے۔ چارلی گریفتھ باؤنسر کی ایک گیند سے ان کے سر پر چوٹ لگی تھی اور ان کا بین الاقوامی کرکٹ کریئر ختم ہو گیا تھا۔

اس واقعے تک ناری 10 ٹیسٹ میچز میں انڈیا کی قیادت کر چکے تھے وہ نہ صرف ٹیم کے اہم بلے باز تھے بلکہ اننگز کا آغاز بھی کیا کرتے تھے اور ان کی تیز گیند کروانے کی صلاحیت پر بھی کسی کو کوئی شک نہیں تھا۔

انڈین ٹیم سنہ 1962 کے دورہ ویسٹ انڈیز میں دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے دوران باربیڈوس کے خلاف وارم اپ میچ کھیل رہی تھی۔

بارباڈوس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 390 رنز بنائے۔ انڈیا کی جانب سے ناری کنٹریکٹر اور دلیپ سردیسائی نے اننگز کا آغاز کیا۔

عام طور پر ناری پہلی سٹرائک نہیں لیتے تھے لیکن چونکہ سردیسائی پہلی بار اننگز کا آغاز کر رہے تھے اس لیے انھوں نے پہلی گیند کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ بارباڈوس کی جانب سے بولنگ کی ذمہ داری ویس ہال اور چارلی گریفتھ نے سنبھالی۔

پویلین کی کھڑکی

ناری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میچ سے ایک دن پہلے ایک پارٹی میں ویسٹ انڈیز کے کپتان فرینک وریل نے ہمیں گریفتھ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔‘

’وریل نے کہا تھا کہ گریفتھ کا ایکشن بہت واضح نہیں لیکن اس کی رفتار بہت زیادہ ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ چوٹ نہ لگے۔‘

تاہم ناری کی احتیاط بیکار رہی جب ہال نے دوپہر کے کھانے کے فوراً بعد سردیسائی کو صفر پر آؤٹ کر دیا۔ سردیسائی کی جگہ روسی سورتی آئے۔ گریفتھ بہت تیز رفتاری سے بولنگ کر رہے تھے۔

،تصویر کا کیپشنویسٹ انڈیز کے کپتان فرینک وریل نے گریفتھ کی بولِنگ کے بارے میں خبردار کیا تھا

ناری یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’گریفتھ کے اوور کی دوسری گیند میرے کندھے سے اوپر تھی اور اسے میں نے جانے دیا۔ کانریڈہنٹ نے تیسری گیند پر میرا کیچ تقریباً پکڑ لیا تھا، اب میں سوچتا ہوں کہ کاش ہنٹ نے میرا کیچ پکڑ ہی لیا ہوتا۔ اس زمانے میں کوئی سائیڈ سکرین نہیں ہوتی تھی۔‘

’جیسے ہی گریفتھ نے چوتھی گیند پھینکنے کے لیے دوڑنا شروع کیا اچانک کسی نے پویلین کی کھڑکی کھولی۔ میرے ذہن میں یہ آیا کہ اس گیند کے بعد میں اس کھڑکی کو بند کرنے کے لیے کہوں گا، جیسا کہ توقع تھی اگلی گیند بھی شارٹ پچ کی گیند تھی۔‘

ناری اس گیند کو کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اوپر آتی ہوئی گیند سے بچنے کے لیے اپنا سر گھومایا اور گیند میرے سر کے پچھلے حصے سے 90 ڈگری کے زاویے سے ٹکرا گئی۔ میں گھٹنوں کے بل گر گیا۔ اس وقت لی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ جب میں گھٹنوں کے بل گرا اس وقت بھی بلا میرے ہاتھ سے نہیں چھوٹا تھا۔‘

’اس وقت کہا گیا تھا کہ میں نے باؤنسر سے بچنے کے لیے ڈک کیا تھا، جو درست نہیں تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ پویلین میں کھڑکی کھلنے سے میرا دھیان بٹ گیا تھا اور میری توجہ سو فیصد گیند پر نہیں تھی۔‘

،تصویر کا کیپشنباربیڈوس کے خلاف میچ کے دوسرے دن چارلی گریفتھ کا ایک تیز باؤنسر ناری کنٹریکٹر نے کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند ان کے دائیں کان کے اوپر جا لگی اور انھوں نے اپنا سر پکڑ لیا

ناقابل برداشت درد

دوسری طرف ناری کے گرتے ہی چندو بورڈے پویلین سے ان کے لیے پانی کا گلاس لے کر بھاگے۔

چندو کہتے ہیں کہ ’جب میں پچ پر پہنچا تو ناری پوری طرح ہوش میں تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ میرے سر میں شدید درد ہو رہا ہے۔ میں ان کا ہاتھ پکڑ کر پویلین میں لے آیا۔لیکن میں محسوس کر سکتا تھا کہ ان کے ہاتھ کا دباؤ میرے اوپر بڑھتا جا رہا تھا اور انھیں ناقابل برداشت درد ہو رہا تھا۔

ٹیم کے منیجر غلام احمد اور چندو بورڈے انھیں ہسپتال لے گئے۔ وہاں ان کا ایکسرے لیا گیا۔ ایکسرے سے معلوم ہوا کہ ان کے سر کے پچھلے حصے میں اندرونی خون بہہ رہا ہے۔

ڈاکٹر نے کہا کہ اگر ان کا فوری آپریشن نہ کیا گیا تو ان کو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ غلام احمد نے ممبئی فون کر کے ان کی بیوی اور بورڈ سے رضا مندی حاصل کی اور ڈاکٹر نے ان کا آپریشن شروع کر دیا حالانکہ وہ کوالیفائڈ نیورو سرجن نہیں تھا۔

،تصویر کا کیپشنسر میں لگی چوٹ کا درد ناقابلِ برداشت تھا

گیند کی رفتار

باپو ناڈکرنی، پولی امیگر، کرکٹ کے نامہ نگار پی این پربھو اور ویسٹ انڈیز کے کپتان فرینک وریل نے ناری کو اپنا خون دیا تھا۔ آپریشن جاری تھا کہ ہسپتال کی بجلی چلی گئی۔ غلام احمد اتنا گھبرا گئے تھے کہ انھوں نے ایک ساتھ دو سگریٹ سلگا رکھے تھے۔

ٹیم کے ایک اور رکن سلیم درانی کو آج تک وہ لمحہ یاد ہے جب خون میں لت پت ناری پویلین واپس آئے تھے۔

درانی کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے کانوں اور ناک سے خون فوارے کی طرح بہہ رہا تھا۔ جب تک ناری کو ہوش نہیں آیا انڈین ٹیم کا کوئی رکن سو نہیں پایا۔ وہ ان کی صحتیابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔

درانی یاد کرتے ہیں کہ ناری کی بے ہوشی کے دوران فرینک وریل روزانہ انھیں دیکھنے جاتے تھے اور ایک دن چارلی گریفتھ بھی انھیں دیکھنے ہسپتال پہنچے تھے۔

میں نے چندو بورڈے سے پوچھا کہ آپ گریفتھ کو آج کے تیز بولرز کے مقابلے میں کیا درجہ دیں گے۔ بورڈے نے جواب دیا کہ ’گریفتھ بلاشبہ بہت تیز بولنگ کراتے تھے لیکن آپ کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ان دنوں نہ ہیلمٹ تھے اور نہ ہی چیسٹ گارڈز اور نہ ہی ایلبو گارڈز ہوا کرتے تھے۔‘

اس وقت فرنٹ فٹ نو بال کا قاعدہ بھی لاگو نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے گریفتھ جیسے بولر 18 گز سے گیند کرتے تھے۔ بعض اوقات ہم تیز بولرز سے بچنے کے لیے اپنی جیبوں میں دستانے ٹھونس لیتے تھے۔

چندو ایک اور واقعہ سناتے ہیں کہ ’جب سنہ 1967 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم انڈیا آئی تو میں چنئی میں ان کے خلاف 96 رنز پر کھیل رہا تھا۔ تب گریفتھ نے وہی گیند پھینکی جو اس نے ناری کے خلاف پھینکی تھی۔ 96 کے سکور پر گیند آپ کو صاف طور پر دیکھائی دیتی ہے لیکن گریفتھ کی وہ گیند اتنی تیز تھی کہ میں اسے نہیں دیکھ سکا اور گیند میرے کانوں کو چھوتے ہوئے باؤنڈری کے پار چلی گئی۔‘

شام کو روہن کنہائی میرے کمرے میں آئے اور کہا کہ ’چندو میں اس سنچری کا جشن منانا چاہتا ہوں، کیا تم جاننا چاہو گے کیوں؟ میں نے پوچھا کیوں تو اس پر ان کا کا جواب تھا کہ تم ابھی تک زندہ ہو۔ وہ گیند تمہیں ختم کر سکتی تھی۔‘

،تصویر کا کیپشنناری کنٹریکٹر اپنی بیوی ڈولی کے ساتھ

سر میں دھات کی پلیٹ

اس آپریشن کے بعد ناری کو چھ دن تک ہوش نہیں آیا۔ ساتویں دن انھوں نے پہلی بار آنکھ کھولی۔ پھر انھیں فرانس کے راستے انڈیا واپس لایا گیا۔ بعد میں ان کے سر میں دھات کی پلیٹ لگائی گئی۔

ناری نے ایک دلچسپ قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ایک بار دلی کے ہوائی اڈے پر جب میں ممبئی جانے کے لیے پہنچا تو میٹل ڈیٹیکٹر بار بار بجتا رہا اور وہاں کے سکیورٹی عملے نے مجھے بار بار میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنے کو کہا۔ جس کے بعد انھوں نے اپنا تعارف کرایا اور تعینات افسران کو پوری کہانی سنائی کہ ان کے سر میں دھات کی پلیٹ لگی ہوئی ہے۔‘

دوسرا موقع

ناری کنٹریکٹر نے ایک بار پھر زبردست ہمت کا مظاہرہ کیا۔

سنہ 1959 میں لارڈز گراؤنڈ میں برائن سٹیتھم کے پہلے اوور کی ایک گیند ان کی پسلیوں سے ٹکرائی اور ان کی دو پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ اس وقت ناری نے ایک بھی رن نہیں بنایا تھا لیکن انھوں میدان نہیں چھوڑا اور 81 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے۔

برج ٹاؤن میں شدید زخمی ہونے کے باوجود ناری نے دوبارہ انڈیا کے لیے کھیلنے کی امید کبھی نہیں چھوڑی لیکن مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود انڈین سلیکٹرز انھیں انڈین ٹیم میں دوبارہ منتخب کرنے کی ہمت نہیں کر سکے۔

Exit mobile version