ناظم جوکھیو قتل کیس: نامزد رکنِ سندھ اسمبلی جام اویس تین دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

کراچی کی مقامی عدالت نے ملیر میں نوجوان ناظم جوکھیو کے قتل کے معاملے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس گہرام جوکھیو کو تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

مقتول کے لواحقین کی جانب سے احتجاج کے بعد جام اویس نے جمعرات کو میمن گوٹھ تھانے میں خود کو پولیس کے حوالے کیا جہاں اُن کے خلاف پہلے ہی مقتول کے بھائی افضل جوکھیو کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔

پولیس نے جام اویس کو جمعے کی صبح ملیر کے جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا اور مزید تفتیش کے لیے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے انھیں تین دن کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔

جام اویس کے علاوہ ان کے دو ملازم حیدر اور امیر علی بھی گرفتار ہو چکے ہیں۔

جام اویس کو جمعے کی صبح بکتر بند گاڑی میں عدالت میں لایا گیا اور پیشی کے بعد جب انھیں عدالت سے باہر لایا گیا تو انھیں ہتھکڑی نہیں لگی ہوئی تھی اور ایک پولیس افسر ان کا ہاتھ پکڑ کر بکتربند تک لائے۔

دریں اثنا رات گئے سندھ کے وزیرِ اطلاعات سعید غنی اور وزیرِ توانائی امتیاز شیخ بھی گھگھر پھاٹک پر کراچی حیدرآباد موٹروے پر مظاہرین کے دھرنے میں پہنچے اور اُنھیں انصاف فراہم کرنی کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد مظاہرین کا دھرنا ختم کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان ناظم الدین کے لواحقین نے الزام عائد کیا تھا کہ ناظم نے چند غیر ملکی شکاریوں کو اپنے علاقے میں تلور کے شکار سے روکا تھا اور ان کی ویڈیو بنائی تھی جس کے بعد انھیں مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

کراچی پولیس نے نوجوان پر مبینہ تشدد کے بعد قتل کے الزام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس گہرام جوکھیو اور ان کے ملازمین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اس دھرنے کا آغاز جمعرات کی صبح ہوا تھا جب ناظم کے ورثا ان کی میت کے ہمراہ قومی شاہراہ پہنچے تھے۔ بعد ازاں میت کی مقامی قبرستان میں تدفین کر دی گئی مگر لواحقین نے قومی شاہراہ پر دھرنا جاری رکھا۔

ایف آئی آر

افضل جوکھیو نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے بے گناہ بھائی کے خون کا ازخود نوٹس لیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا اور پولیس حکام کو ہدایت کی تھی کہ لواحقین کی خواہش کے مطابق ایف آئی آر درج کی جائے اور انھی احکامات کے بعد پیپلز پارٹی کے ایم پی اے کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لواحقین کو وہ انصاف ملے جس سے وہ مطمئن ہوں۔

ایف آئی آر میں کیا دعویٰ کیا گیا؟

مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان ناظم الدین کے بھائی افضل احمد جوکھیو نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ سالار گوٹھ ضلع ملیر کے رہائشی ہیں اور گذشتہ روز کچھ غیر ملکی شہری تلور کے شکار کے سلسلے میں ان کے گاؤں آئے جس پر انھوں نے اور ان کے بھائی ناظم نے ان غیر ملکی شہریوں کو گاؤں میں شکار کرنے سے روکا اور ان کی ویڈیو بنائی جس کے بعد وہ غیر ملکی وہاں سے چلے گئے۔

درخواست گزار نے پولیس ایف آئی آر میں کہا ہے کہ رات کو گیارہ بجے انھیں اور ان کے بھائی ناظم کو پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس عرف گہرام نے طلب کیا جب وہ وہاں پہنچے تو جام اویس نے اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر ان کے بھائی پر ڈنڈوں تشدد کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

ایف آئی آر میں ڈیوٹی پر موجود پولیس افسر یونس بٹ نے کہا کہ انھیں معراج نامی شخص نے ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ جام گوٹھ میں جام ہاؤس کے باہر ایک تشدد زدہ لاش موجود ہے جسے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

احتجاج

ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کا کہنا ہے کہ مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والے نوجوان ناظم کے بھائی کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کی جا رہی ہے، جبکہ اس بارے میں رکن سندھ اسمبلی جام اویس اور جام کریم سے ٹیلیفون پر رابطے کی کوشش کی گئی اور انھیں تحریری سوالات بھی بھیجے گئے لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل مقتول ناظم الدین کے اہل خانہ نے قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے کئی گھنٹے تک ٹریفک بلاک کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ ایف آئی آر سے قبل میمن گوٹھ پولیس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ میمن گوٹھ میں دو گروہوں میں تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں ناظم جوکھیو نامی شخص ڈنڈے لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔

جناح ہسپتال میں ناظم جوکھیو کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، اس کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات موجود ہیں جبکہ ابتدائی رپورٹ میں بھی اس کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے موت کی وجہ کیمیائی تجزیاتی رپورٹ آنے کے بعد کی جائے گی۔

ناظم جوکھیو کے بھائی افضل نے صحافیوں کو بتایا کہ 'کارو جبل کے علاقے میں غیر ملکی شہری شکار کے لیے آتے ہیں۔ ناظم جوکھیو نے گذشتہ روز غیر ملکی شہری کی گاڑی کو روک کر ویڈیو بنائی تھی۔جس میں وہ غیر ملکی شہریوں کو مبینہ طور پر تلور کا غیر قانونی شکار کرنے سے منع کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے بعد جام گہرام نے ان سے بات کی اور کہا کہ تمہارے بھائی کو کیا مرچ لگی ہے میں نے کہا کہ غلطی ہوگئی ہے اس نے کہا کہ اس کو میرے پاس پیش کرو۔'

افضل جوکھیو نے الزام عائد کیا ہے کہ رات کو جام اویس کے پرسنل سیکریٹری نے ان سے کہا کہ جام اویس نے بلایا ہے کہ آؤ فیصلہ کرو۔ہم وہاں پہنچے تو جام اویس نے اپنے محافظوں سے میرے بھائی پر تشدد کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'جس پر میں نے کہا کہ سائیں آپ یہ کیا کر رہے ہیں ہم تمہارے ہیں آپ ہمارے ہیں، تلور کی اہمیت ہے یا انسان کی۔ اس نے رات کے تین بجے کہا کہ تمہارے ماموں اور تم صبح آنا فیصلہ کریں گے اور صبح کو جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں بتایا گیا کہ میرا بھائی مر چکا ہے اور ہمیں اس کی لاش بھی نہیں دی گئی۔'

ناظم جوکھیو کی ویڈیو میں کیا تھا؟

ناظم جوکھیو کی جانب سے بنائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک گاڑی کے پاس موجود ہیں جس کی نمبر پلیٹ پر دبئی تحریر ہے اور ناظم کہہ رہے ہیں کہ 'یہ عرب لوگ ہیں یہ ہمارا راستہ بلاک کیے ہوئے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں جب میں نے ان سے پوچھا کہ یہاں کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے ہمارے ساتھ بد معاشی کی اور پولیس کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔'

اسی ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران کیپ پہنے ایک شخص گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے اترتا ہے اور ہاتھ مار کر موبائل گرا دیتا ہے۔

ناظم جوکھیو

اس ویڈیو کے بعد ناظم جوکھیو نے اپنے گھر میں ایک اور ویڈیو بیان ریکارڈ کیا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ 'شام چار بجے میں نے ایک لائیو ویڈیو چلائی جس میں عرب تھا یا ان کا کوئی آدمی تھا جو دھمکیاں دے رہا تھا اور مجھے سے موبائل بھی چھین لیا اور تشدد کے بعد اس نے موبائل واپس کر دیا۔'

ناظم بتا رہے ہیں کہ انھوں نے پولیس مددگار کے نمبر 15 پر کال بھی کی لیکن پولیس نہیں آئی اور یہ لوگ فرار ہوگئے، اس کے بعد وہ تھانے پر درخواست دینے بھی گئے جس کے بعد سے انھیں فون پر دھمکی آمیز کالیں آ رہی ہیں اور کچھ لوگ بھی آئے ہیں کہ اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔

وہ ویڈیو کے آخر میں کہتے ہیں کہ اگر انھیں کچھ بھی ہوا تو اس کے ذمہ دار وہ ہی لوگ ہوں گے جو مجھے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

یاد رہے کہ موسم سرما میں سائبرین پردیسی پرندوں کے شکار کے لیے خلیجی ممالک کے خاندان خصوصی اجازت نامے حاصل کرتے ہیں، اس شکار کے دوران اس سے قبل بھی متعدد بار ناخوشگوار واقعات پیش آچکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

نوجوان ناظم جوکھیو کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کے بعد پاکستان کے سوشل میڈیا پر انھیں ان پر تشدد کر کے ہلاک کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

متعدد صارفین ناظم کی جانب سے بنائی جانے والی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے حکام سے ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹویٹ

سیف سمیجو نامی ایک صارف نے ٹوئٹر پر اس بارے میں لکھا کہ بلاول بھٹو زرداری ان کے خلاف اقدام اٹھاتے ہوئے جنھوں نے دھرتی کے سپوت کو قتل کیا ہے ایک مثال قائم کریں۔ وہ (ناظم جوکھیو) معصوم پرندوں، جانوروں اور قدرتی ماحول کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس نے ملزمان کی ایک ویڈیو بنائی جس کے باعث اس کو مار دیا گیا۔ سندھ میں غیر انسانی سلوک کا یہ حال ہے۔

ٹویٹ

جبکہ فہد مصطفیٰ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ٹھٹہ میں وڈیروں نے ایک معصوم انسان کو ہلاک کر دیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ اور سندھ پولیس اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرے۔ سندھ میں لگتا ہے قانون کی بالادستی نہیں ہے روزانہ وہاں جاگیردار اور امرا معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: