ناکام تجربے سے فزکس کی دنیا میں نئے باب کا آغاز

کائنات کی تشکیل میں استعمال ہونے والے بنیادی ذرّے کا کھوج لگانے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فزکس میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا ہے۔

ہماری روز مرہ زندگی کی تشکیل کرنے والے مادّے کے اس ایک اہم جزو سب ایٹامک پارٹیکل یا ذیلی جوہری ذّرے کی تحقیق کے لیے ایک بہت بڑا تجربہ کیا گیا۔

یہ تحقیق سٹیرائل نیوٹرِینو کہلانے والے ذرے کو پانے میں ناکام رہی ہے۔

اب یہ کائنات کے وجود میں آنے سے متعلق نئے نظریات کی جانب ماہرین طبیعیات کی راہنمائی کرے گی۔

مائکروبُون تجربے میں برطانیہ کے حصے کی فنڈنگ کرنے والے ادارے، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیسیلیٹیز کونسل (ایس ٹی ایف سی)، سے وابستہ پروفیسر مارک ٹامسن اس نتیجہ کو ’بہت اہم‘ قرار دیتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ماہرین طبیعیات کی ایک بڑی تعداد اپنے نظریات کی بنیاد سٹیرائل نیوٹرینو کی موجودگی کے امکان پر رکھتی رہی ہے۔

پروفیسر ٹامسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خیال کافی عرصے سے پایا جاتا ہے اور اس میں کافی دلچسپی لی گئی ہے۔

’یہ نتیجہ واقعی دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ اس کا اثر پارٹیکل فزکس اور کوسمولوجی (علمِ کائنات) کے شعبوں میں ابھرنے والے نئے نظریات پر پڑے گا۔‘

مائکروبُون تجربہ ریاست ایلینائے میں قائم امریکہ کی فرمی نیشنل ایکسیلیریٹر لیبارٹری میں کیا جا رہا ہے۔ مگر اس میں کئی ملکوں کے ماہرین طبیعیات شریک ہیں۔

Electronic racks
،تصویر کا کیپشنمائکروبُون کے الیکٹرونِک ریکس (برقیاتی پھٹوں) کو ڈیٹکٹر کے بالکل اوپر ایک ایسے پلیٹ فارم پر رکھا گیا ہے جو نتائج کو متاثر کرنے کی حامل کاسمِک ریڈئیشن یا کائنات میں موجود تابکار شعاعوں کی بڑی مقدار کو روکتا ہے۔

نیوٹرینو کائنات میں بکھرے ہوئے سب ایٹامک پارٹیکلز یا ذیلی جوہری ذرّات ہیں مگر روز مرہ کی دنیا میں کم ہی مُخل ہوتے ہیں۔ یہ ہر لمحے اربوں کی تعداد میں زمین اور اس پر بسنے والوں میں سے گزرتے ہیں۔

ان کی تین اقسام ہیں: الیکٹرون، ماؤن اور ٹاو۔ 1998 میں جاپانی سائنسدانوں نے دریافت کیا تھا کہ نیوٹرینو سفر کے دوران خود کو ایک روپ سے دوسرے میں ڈھالتے رہتے ہیں۔

روپ دھارنے کے اس عمل کی توجیہ سٹینڈرڈ ماڈل کہلانے والے سب ایٹامک فزکس کے موجودہ ’بڑے نظریے‘ سے نہیں کی جا سکتی۔ بعض ماہرین طبیعیات کا خیال ہے کہ اس بات کے پتہ چلنے سے کہ نیوٹرینو کی کمیت اس قدر کم کیوں ہوتی ہے ہمیں کائنات کے موجودہ نظام اور اس کے وجود میں آنے کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کمیت کی کمی نیوٹرینو کے شکل بدلنے کی صلاحیت کا باعث ہے۔

اینٹی میٹر یا ضد مادّہ

موجودہ نظریات کی رو سے بِگ بینگ (کائنات کی پیدائش کے وقت ہونے والا انفجارِ عظیم یا بڑا دھماکہ) کے فوراً بعد مادے اور ضد مادے کی مقدار مساوی تھی۔ تاہم جب مادّہ اور ضد مادّہ آپس میں ٹکراتے ہیں تو ایک دوسرے کو شدت کے ساتھ مٹا کر رکھ دیتے ہیں اور اس دوران توانائی خارج ہوتی ہے۔ اگر کائنات میں دونوں کی مقدار برابر تھی تو انھیں ایک دوسرے کو ختم کر دینا چاہئے تھے۔

بجائے اس کے آج زیادہ تر کائنات مادّے سے بنی ہوئی ہے اور ضد مادّے کی مقدار بہت کم ہے۔

بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ نیوٹرینو کے شکل بدلنے کی صلاحیت کے پیچھے کائنات کی پھرتی کار فرما ہے جس کی وجہ سے بِگ بینگ کے بعد مادّے کی اتنی مقدار باقی رہی جس سے سیارے، ستارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔

سنہ 1990 میں امریکی محکمۂ توانائی کی ریاست نیو میکسیکو میں قائم لاس الاموس نیشنل لیبارٹری میں لِکوِڈ سِنٹِیلیٹر نیوٹرینو ڈیٹکٹر نامی تجربے کے دوران الیکٹرون نیوٹرینو کی اس سے کہیں زیادہ مقدار پیدا ہوئی جس کی وضاحت نیوٹرینو کی تین اقسام کی شکل بدلنے والے نظریہ سے ممکن ہو سکتی تھی۔ بعد میں 2002 میں ایک اور تجربے نے اس نتیجے کی تصدیق بھی کر دی۔

ماہرین طبیعیات نے ایک چوتھی قسم کے موجود ہونے کا خیال پیش کیا اور اسے سٹیرائل نیوٹرینو کا نام دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس ذرے سے الیکٹرون نیوٹرینو کے بڑی مقدار میں پیدا ہونے کی وضاحت ہو سکے گی، اور یہ بھی واضح ہو سکے گا کہ یہ ذرّات شکل کیوں بدلتے ہیں۔

انھیں سٹیرائل یا بانجھ نیوٹرینو کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ مادّے کے ساتھ کسی طرح کا تعمل نہیں کرتے، جبکہ دوسرے نیوٹرینو اگرچہ کم ایسا کر سکتے ہیں مگر ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب ایٹامک فزکس میں سٹیرائل نیوٹرینو کی دریافت ہِگس بوسون سے بڑی ہوتی کیونکہ نیوٹرینو کی دوسری حالتوں اور ہِگس پارٹیکل کے برعکس یہ فزکس کے موجودہ سٹینڈرڈ ماڈل کا حصہ نہیں ہے۔

سٹیرائل نیوٹرینو کو ڈھونڈنے کے لیے پانچ ملکوں کے تقریباً 200 سو سائنسدانوں پر مشتمل ایک ٹیم نے مائکرو بوسٹر نیوٹرِینو ایکسپیریمنٹ یا مائکروبُون تیار کیا جو ایک بڑے ٹرک کی جسامت کے برابر جگہ میں 150 ٹن مشینوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

اس کے ڈیٹکٹر نہایت حساس ہیں اور سب ایٹامک کی دنیا میں اس کے مشاہدات کی مثال کسی چیز کو الٹرا ہائی ڈیفینیشن یعنی انتہائی صاف طور پر دکھائی دینے سے دی جاتی ہے۔

اب اس ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات کے چار الگ الگ تجزیوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سٹیرائل نیوٹرینو کے بارے میں ’کوئی سراغ نہیں‘ ملا ہے۔

ایک نیا باب

مگر اس نتیجے سے معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ اس سے ایک نیا باب کھل گیا ہے۔

فرمیلیب کی ڈاکٹر سیم زیلر کا کہنا ہے کہ کوئی سراغ نہ ملنے کا مطلب سابقہ معلومات کی تردید نہیں ہے۔

انھوں نے کہا، ’سابقہ معلومات جھوٹ نہیں بولتیں۔

’کوئی بہت دلچسپ عمل جاری ہے جسے ہمیں سمجھنا ہے۔ نئی معلومات ہمیں ممکنہ توجیہات سے نئی سمت میں لے جا رہی ہیں اور کسی زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ یہ بات بہت ولولہ انگیز ہے۔‘

مانچسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر جسٹِن ایوانز کا خیال ہے کہ ان معلومات نے جس نئی پہیلی کو جنم دیا ہے وہ نیوٹرینو کے بارے میں تحقیق میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ہم نیوٹرینو کو دیکھتے ہیں تو ہمیں کوئی نئی یا غیر متوقع بات پتا چلتی ہے۔

’مائکروبُون کے نتائج ہمیں ایک نئی سمت میں لے جا رہے ہیں اور ہمارا نیوٹرینو پروگرام ہمیں بعض معمّوں کی تہہ تک پہنچا دے گا۔‘