نایاب پرندہ: امریکی ریاست پینسلوینیا میں ایک ایسا پرندہ جو نر بھی اور مادہ بھی

امریکی ریاست پینسلوینیا میں پرندوں میں دلچسپی رکھنے والے ایک شخص نے ایک ایسے پرندے کی تصاویر کھینچی ہیں جو آدھا نر اور آدھا مادہ دکھائی دیتا ہے۔ انھیں ان کی ایک دوست نے اس پرندے کے متعلق بتایا اور وہ کیمرہ لے کر ’ناردرن کارڈینل‘ نامی اس پرندے کے پیچھے لگ گئے اور تصاویر کھینچ لیں۔

مخلوط جنس کے پرندے بہت کم ہی ہوتے ہیں اور شاید ہی کسی نے ان کی تصاویر اتاری ہوں۔

نر کارڈینل سرخ رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ مادہ ہلکے بھورے رنگ کی ہوتی ہیں، اسی وجہ سے لگتا ہے کہ یہ خاص پرندہ شاید دونوں جنسوں کا مرکب ہو سکتا ہے۔

69 سالہ ریٹائرڈ ماہر ارضیات جیمی ہل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ’زندگی میں ایک بار، دس لاکھ میں ایک مرتبہ ہونے والا اتفاق‘ تھا۔

ناردرن کارڈینل

جیمی ہل کی ایک دوست نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ریاست پینسلوینیا کے علاقے وارین کاؤنٹی میں واقع اپنے برڈ فیڈرز میں ایک ’غیر معمولی چڑیا‘ آتی جاتی دیکھی ہے۔

پہلے تو ہل نے سوچا کہ کیا یہ پرندہ شاید لیویسٹک یا ایسا پرندہ ہو جو اپنے پِگمینٹس چھوڑ رہا ہے، جیسا کہ البینو جانور وغیرہ۔ لیوسٹک ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ پرندے کے پروں میں پگمینٹیشن ختم ہو رہی ہے، لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ آدھے مادہ اور آدھ نر ہو جائیں۔

لیکن موبائل فون کی تصویروں کو دیکھنے کے بعد انھیں شک ہوا کہ کہیں یہ پرندہ ’بائلیٹرل گائننیڈرومورفیزم‘ (bilateral gynandromorphism) والا پرندہ تو نہیں۔ بائلیٹرل گائننیڈرومورفیزم پرندے کی اس جسمانی حالت کو کہا جاتا ہے جب اس میں بالکل صحیح کام کرنے والی بیضہ دانی بھی ہو اور درست کام کرنے والا ایک خصیہ بھی۔

ناردرن کارڈینل

وہ اس جگہ گئے جہاں کارڈنیل دیکھا گیا تھا۔ ایک گھنٹے کے دوران ہی وہ اس غیر معمولی پرندے کی تصاویر کھینچنے میں کامیاب ہو گئے۔

ہل بتاتے ہیں کہ ’تصاویر کھینچنے کے بعد، میرا دل اگلے پانچ گھنٹوں تک تیزی سے دھڑکتا رہا، اس وقت تک جب تک میں گھر نہیں پہنچا اور ڈیجیٹل امیجز پراسیس نہیں کر لیں کہ دیکھوں میرے پاس اصل میں کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے سے ایک ایسے ہد ہد (وڈپیکر) کی تلاش کر رہا تھا جس کے متعلق شک تھا کہ وہ ناپید ہو چکا ہے، اور ایک ایسے عام پرندے کی قسم جو ہمارے گھروں کے باغیچوں میں پایا جا سکتا ہے، اس گائننیڈرومورف ناردرن کارڈینل کے اس نایاب ورژن کی تصویر کشی کرنا اتنا ہی دلچسپ تھا جتنا مجھے لگتا ہے کہ اس (خاص) ہدہد کو دریافت کرنا ہوتا۔‘

جیمی ہل
،تصویر کا کیپشنجیمی ہل گذشتہ 48 سال سے پرندوں کو دیکھ ہے ہیں

ویسٹرن الینوئے یونیورسٹی کے پروفیسر برائن پیئر جنھوں نے امریکہ میں ناردرن کارڈینلز کے بائلیٹرل گائننیڈرومورفیزم کا سروے کیا ہے، کہتے ہیں کہ آدھے نر اور آدھے مادہ پرندے بہت کم ہی ہوتے ہیں۔

لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ انواع میں ایسا بہت عرصے تک چھپا رہتا ہے اور نظر نہیں آتا۔

Northern cardinal

وہ کہتے ہیں کہ ’بظاہر بائلیٹرل گائننیڈرومورفیزم خلیوں کی تقسیم کے دوران غلطی سے ہو سکتا ہے۔‘

اس ممکنہ گائننیڈرومورف ناردن کارڈنیل کو علاقے میں پہلی مرتبہ نہیں دیکھا گیا ہے۔

جریدے نیشنل جیوگرافک کے مطابق سنہ 2019 میں ایک جوڑے نے اسی طرح کے پرندے کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ہل کہتے ہیں کہ جو کارڈینل انھوں نے دیکھا ہو سکتا ہے کہ یہ وہی ہو۔

پروفیسر پیئر بتاتے ہیں کہ شمالی امریکہ میں ناردرن کارڈینل بہت عام فیڈر پرندے ہیں۔ چونکہ نر اور مادہ کی شکل بہت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ان میں گائننیڈرومورف نمونہ تلاش کرنا آسان ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *