ندا یاسر نے بھی ملبوسات کا برینڈ لانچ کردیا

پاکستان کی نامور اداکارہ و میزبان ندا یاسر کے اسٹائل کو ان کے مداح بےحد پسند کرتے ہیں اور یقیناً اداکارہ خود بھی اپنے آپ کو فیشن کی دنیا سے جوڑے رکھتی ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جلد اپنا خود کا ملبوسات کا برینڈ لانچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ندا یاسر نے حال ہی میں برینڈ لانچ کردیا جس کا نام انہوں نے ’این وائے سی‘ (NYC) یعنی ندا یاسر کلوتھنگ رکھا ہے۔

اپنے برینڈ کے حوالے سے ڈان کو دیے ایک انٹرویو میں ندا نے بتایا کہ ’مجھے ہمیشہ سے سرد موسم بےحد رومانوی لگتا ہے جس کے آتے ہی ماضی کی کئی ہادیں تازہ ہوجاتی ہیں، سرد موسم کے رنگ کسی کو بھی متاثر کرسکتے ہیں‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی کریٹو ٹیم کے ساتھ مل کر اپنی کلکشن کو ہر ممکن کوشش کرکے خوبصورت بنانے کی کوشش کی، اور کلیکشن مکمل ہونے سے قبل ہی ہم جانتے تھے کہ ہمیں کیا بنانا ہے‘۔

ندا کے مطابق ’میں ہمیشہ سے پاکستان کے ہر گھر اور ہر خاتون سے کسی نہ کسی طریقے سے جڑنا چاہتی تھی، مجھے لگتا ہے کہ میں بےحد خوش قسمت ہوں کہ میں اپنے دیکھنے والوں کے ساتھ اس طرح بھی جڑ رہی ہوں، میرے برینڈ میں بہترین کپڑے اور رنگوں کا انتخاب کیا جائے گا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے برینڈ میں ایسے ملبوسات پیش کیے جائیں گے جو عام طور پر خواتین کو نہیں ملتے، میرا ماننا ہے کہ ہم مشرقی و مغربی ہر طرز کے ملبوسات میں سب سے زیادہ اہمیت فیشن کو دیتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ پاکستان کی کئی اداکارائیں ایکٹنگ کے ساتھ ساتھ اب ملبوسات کے برینڈز لانچ کررہی ہیں، اداکارہ ماورا اور عروہ حسین، ایمن اور منال ان سب نے بھی اپنے ملبوسات کے برینڈز لانچ کرنے کا اعلان رواں سال کیا۔

البتہ ندا یاسر کے مطابق این وائے سی ان کے لیے صرف ایک بزنس نہیں بلکہ اس سے زیادہ ہی ہے۔

ندا کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ سے اپنے آپ کو دیکھنے والوں سے جڑے رکھنا چاہتی تھی اور این وائے سی اس ہی کا ایک ذریعہ ہے، لوگوں کے فیڈ بیک سے میں بےحد خوش ہوں اور امید ہے کہ خواتین کو میرے ملبوسات بےحد پسند آئیں گے‘۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بین الاقوامی آرڈرز بھی ملنا شروع ہوچکے ہیں۔

فی الحال تو ندا یاسر کا برینڈ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے ملبوسات فروخت کرے گا کیوں کہ ان کی ٹیم اس وقت برینڈ کی ویب سائٹ پر کام کررہی ہے البتہ مستقبل میں ان کا اپنا اسٹور کھولنے کا بھی ارادہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *