نرسوں کی غلطی سے ہسپتال میں بدل جانے والے بچے جنھیں قسمت نے 20 برس بعد دوبارہ ملا دیا

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک مثالی جیون ساتھی سے ملنا آپ کی قسمت کا کھیل ہوتا ہے لیکن جم اور مارگریٹ مچل کے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ انھیں قسمت پر ہم سب سے زیادہ یقین آ گیا۔

پیدائش کے بعد ایک حادثے نے انھیں پہلی بار ملایا، اور پھر تقریباً دو دہائیوں کے بعد وہ زندگی بھر کے لیے رشتے میں بندھ گئے۔

رواں ہفتے کے آخر میں انھوں نے اپنی شادی کی 50ویں سالگرہ منائی اور واقعات کے اس سلسلے کو یاد کیا جنھوں نے ان کی شادی کو یقینی بنایا۔

جم اور مارگریٹ مچل کی ماؤں کو لگا کہ ان کے نوزائیدہ بچوں کے بارے میں ابتدائی طور پر کچھ مختلف تھا۔

دونوں کی پیدائش 15 اور 17 ستمبر سنہ 1952 کو برطانیہ کے شمال میں واقع شہر لینوکس ٹاؤن کے لینوکس کیسل ہسپتال میں ہوئی۔

زچگی یونٹ نے ایک غلطی کی اور نرسوں نے بچوں کو غلط ماؤں کے پاس پہنچا دیا.

مچل، جو جمعرات کو 70 سال کی ہو گئیں ہیں، انھوں نے بتایا کہ دونوں بچوں کی ماؤں کا نام مارگریٹ تھا اور اسی الجھن میں بچے تبدیل ہو گئے۔

Margaret con su madre cuando era bebé.
،تصویر کا کیپشنمارگریٹ بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ

اُن دنوں میں بچوں کو ان کے نام والی بریسلٹ نہیں پہناتے تھے، البتہ چند ہی منٹ بعد ماؤں کو غلطی کا احساس ہو گیا اور بچے واپس اپنی اپنی ماؤں کے پاس پہنچا دیے گئے۔

ہسپتال سے جم اپنے والدین کے ساتھ گلاسگو کے جنوب میں آرڈن میں رہنے کے لیے گئے اور مچل مارگریٹ کو سکاٹش شہر کے شمال مغرب میں واقع نائٹس ووڈ میں ان کے گھر لے جایا گیا، جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھیں۔

اس کے فوراً بعد، مارگریٹ مچل کے والدین نے جم کے گھر سے صرف 30 منٹ کی دوری پر ایک گھر خریدا۔

جب یہ دونوں 18 سال کے ہوئے تو قسمت نے پھر مداخلت کی۔

جم نے بتایا کہ ’ایک دوست کی شادی ہو رہی تھی اور گلاسگو کے کوئنز پارک میں واقع فلیٹ میں تقریب تھی۔‘

’مچل کے دوست پیٹ نے میرے دوست ڈیوڈ سے شادی کی۔ اس وقت ہم پہلی بار ملے۔‘

Jim Mitchell con el pelo largo en una foto en blanco y negro
،تصویر کا کیپشنجم کے بال لمبے تھے اور وہ ان لڑکوں سے ’مختلف‘ تھے جنھیں مچل ڈیٹ کر رہی تھیں

’اس تقریب میں ہم نے آپس میں بات چیت کی۔ میں نے سوچا کہ وہ اپنے لباس میں شاندار لگ رہی ہے، اس لیے میں نے ان سے بات کرنے کی ہمت پیدا کی۔‘

’مجھے بہت خوشی ہوئی جب انھوں نے میرے سے بات کرنے میں دلچسپی ظاہر کی کیونکہ وہ کمرے میں سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔’

دو ماہ تک وہ ایک دوسرے سے ملتے رہے۔۔۔ تب ہی ان کی ماؤں کو شک ہونے لگا کہ کہانی میں کوئی جانی پہچانی چیز ہے۔

مچل نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ’جم کی ماں کو ہسپتال والا واقعہ یاد آ گیا۔ انھوں نے مختلف تفصیلات کو ایک ساتھ رکھا اور تب انھیں یاد آیا کہ ہماری سالگرہ بہت قریب تھی۔‘

زچگی وارڈ میں بچوں کو تبدیل کرنے کے بعد دونوں مائیں بالآخر پہلی بار ملیں اور اپنے بچوں کے رومانس پر حیران رہ گئیں۔

جم اور مچل نے سنہ 1972 میں شادی کی۔ اب وہ ریٹائر ہیں اور گلاسگو کے باہر ایسٹ کِلبرائیڈ میں دو بچوں اور ایک نوعمر پوتی اور پوتے کے ساتھ رہتے ہیں۔

Una fotografía en blanco y negro de Jim y Margaret Mitchell el día de su boda.
،تصویر کا کیپشنجم اور مارگریٹ مچل 50 سال پہلے اپنی شادی کے دن

جمعے کو اس جوڑے نے اپنی اپنی سالگرہ کے دنوں کے درمیان شادی کی 50ویں سالگرہ منائی۔

مچل، جو ایک سابقہ ​​سیلز ایگزیکٹو ہیں، کا خیال ہے کہ اگر یہ اتفاق نہ ہوتا ، تو وہ شاید کبھی بھی جم کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا انتخاب نہ کرتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ ان باقی لڑکوں سے مختلف تھا جنھیں میں ڈیٹ کر رہی تھی۔ ان کے بال لمبے تھے لیکن وہ مہربان، دیکھ بھال کرنے والا اور بالکل مختلف تھا۔‘

اپنے بستر پر دن کا آغاز ناشتے سے کرتے ہوئے، انھوں نے بی بی سی ریڈیو کے پروگرام گڈ مارننگ سکاٹ لینڈ کو ایک طویل اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے راز بتائے۔

مچل کہتی ہیں کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا اور زندگی کے ہر دن کو ساتھ رہتے ہوئے گزارنا ہی سب سے اہم ہے۔

جم کہتے ہیں کہ زندگی میں اُتار چڑھاؤ تو آتے رہتے ہیں لیکن سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہر دن آپ کو اپنے ساتھی سے پھر سے پیار ہو جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.