نسلہ ٹاور: ’سپریم کورٹ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن ہمارے پیسے تو واپس دلوائیں‘

’اب ہمیں کیوں نکالا جا رہا ہے؟ ہم نے تو تمام معاملات کلیئر کر لیے ہیں، کاغذات بھی چیک کروا لیے ہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن ہمیں ہماری رقم واپس کر دیں۔ رقم واپس کر دیں تو ہم آج ہی چلے جائیں گے۔ بغیر پیسوں کے تو ہم خالی نہیں کریں گے۔‘

یہ کہنا ہے ثمینہ بانو کا جو نسلہ ٹاور کے باہر احتجاج کرنے والوں میں شامل تھیں۔ ثمینہ ان پچاس سے زائد افراد میں سے ہیں جنھوں نے ساڑھے چار سال پہلے بکنگ کے ذریعے نسلہ ٹاور میں فلیٹ خریدا تھا۔

یاد رہے کہ 25 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے کمشنر کراچی کو حکم جاری کیا تھا کہ وہ شاہراہِ فیصل اور شاہراہِ قائدین کے بیچ بنی پندرہ منزلہ نسلہ ٹاور کی عمارت کو ایک ہفتے کے اندر منہدم کریں۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نسلہ ٹاور کے بلڈر کو تمام مالکان کو اُن کی رقم واپس کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ثمینہ اور اس عمارت کے دیگر رہائشیوں کی مشکلات بیان کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اس عمارت کو غیرقانونی کیوں اور کن بنیادوں پر قرار دیا گیا۔

نسلہ

سپریم کورٹ کا اعتراض کس بارے میں ہے؟

نسلہ ٹاور 1120 مربع گز پر بنی رہائشی عمارت ہے۔ سپریم کورٹ نے اس بلڈنگ کی تعمیر پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس بلڈنگ کا 780 مربع گز کا پلاٹ قانونی طور پر خریدا اور تعمیر کرایا گیا ہے لیکن اس بلڈنگ کے مالک تقریباً 250 مربع گز زمین کی لیز کی قانونی ملکیت ثابت نہیں کر پا رہے ہیں کہ وہ کب اور کس سے خریدی گئی تھی۔

کہا جا رہا ہے کہ نسلہ ٹاور کا 250 مربع گز پر بنا حصہ تجاوزات کے زمرے میں ہے اور سروس لین پر بنا ہوا ہے۔

اسی سے جُڑی ایک مثال کراچی کے کلفٹن کے علاقے میں بنے شاپنگ مال گلاس ٹاور کی بھی ملتی ہے۔ تقریباً پندرہ سال پہلے کلفٹن کے رہائشیوں اور سماجی کارکنوں نے اعتراض اٹھاتے ہوئے اس وقت درخواست دائر کی تھی کہ اس شاپنگ مال کا بیشتر حصہ سروس لین پر بنا ہوا ہے۔

اس درخواست کے بعد گلاس ٹاور کے سامنے تعمیر شدہ اضافی حصے کو گرا دیا گیا تھا۔

نسلہ ٹاور کے معاملے میں عدالت نے اس پوری بلڈنگ کو گِرانے کا حکم جاری کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس بلڈنگ کو منظّم انداز میں دھماکہ خیز مواد کے ذریعے گرا دیا جائے۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق عمارتوں کو منہدم کرنے کی اس نوعیت کی روایت انڈیا میں بھی دیکھی گئی ہے جہاں دھماکہ خیز مواد استعمال کر کے تعمیرات کو گرایا جاتا رہا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ نسلہ ٹاور گرانے کے اخراجات نسلہ ٹاور کے مالک سے وصول کیے جائیں اور اگر مالک یہ رقم نہ دیں تو کمشنر کراچی نسلہ ٹاور کا پلاٹ فروخت کر کے رقم وصول کریں۔ جبکہ عمارت کے گرنے کے بعد جمع ہونے والا ملبہ فوری طور پر اٹھا لیا جائے۔

اس عمارت سے رہائشیوں کو نکالنے کی آخری تاریخ 27 اکتوبر تھی، مگر متعدد مکینوں نے ڈیڈ لائن سے قبل ہی یہاں سے نکلنے کو ترجیح دی۔

افراتفری کا ماحول

نسلہ

اس وقت نسلہ ٹاور کے باہر ایک افراتفری کا ماحول ہے۔ جہاں ایک طرف لوگ ایک دوسرے کی گھر کا سامان فلیٹس سے اُتارنے میں مدد کرتے نظر آئے وہیں وہ مکین جو اپنا سامان باندھ چکے ہیں وہ سڑک پر بیٹھے لوڈنگ گاڑیوں کا انتظار کرتے نظر آئے۔

اس عمارت کے باہر لوگوں کی ایک بھِیڑ جمع ہے۔ یہ تمام افراد وہ ہیں جو اپنے رشتہ داروں کو وہاں سے نکلنے میں مدد کرنے کی غرض سے یہاں پہنچے ہیں۔

لیکن جب یہاں بیٹھے لوگوں سے سوال کیا گیا کہ کیا فلیٹ خریدنے سے پہلے انھوں نے اس کے بارے میں کوئی جانچ کی تھی؟ تو مختلف جواب سامنے آئے۔

ثمینہ نے بتایا کہ انھوں نے بکنگ کے ذریعے گھر خریدا تھا۔ اور 'تمام تر کاغذی کاروائی پوری کرنے کے بعد' پیسے دیے تھے۔

نسلہ

عبدالقادر نامی کرایہ دار نے بتایا کہ انھیں ایجنٹ کے ذریعے اس اپارٹمنٹ کے بارے میں پتہ چلا تھا۔

عبدالقادر نے بتایا کہ 'اس وقت میرے حالات ایسے نہیں ہیں کہ میں فوراً سے کرائے پر گھر خرید سکوں۔ مجھے اس اپارٹمنٹ پر خرچ کی گئی رقم واپس کی جائے یا پھر گھر خالی کرنے کے وقت میں توسیع کی جائے۔'

اس وقت نسلہ ٹاور کی بجلی اور پانی کے کنکشنز کاٹ دیے گئے ہیں اور جو لوگ فی الحال سامان نکالنے میں مصروف ہیں وہ شام تک یہاں سے ایک ایک کر کے نکل جاتے ہیں۔

اس عمارت کے جتنے بھی مکینوں سے بی بی سی نے بات کی بظاہر اُن سب کا سب سے بڑا مطالبہ یہی سننے کو ملا کہ اُن کو اُن کے پیسے لوٹا دیے جائیں تو وہ یہاں سے چلے جائیں گے۔

سندھ بار کونسل کے صدر صلاح الدین احمد سوال کرتے ہیں کہ ’اس وقت سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ایسی تکنیک موجود ہے جس کا سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذکر کیا گیا ہے؟‘

اس کا جواب ہے کہ پاکستان میں ایسی تکنیک موجود نہیں ہے۔ تو ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس عمارت کو کیسے گرایا جائے گا، یہ دیکھنے والی بات ہو گی۔

نسلہ

کیا ماضی میں کسی متنازع عمارت کو دھماکہ خیز مواد کے ذریعے منہدم کیا گیا؟

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر ’سی بریز‘ بلڈنگ کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے۔

اگست 2019 میں سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری نے اس بلڈنگ کی ساکھ کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کبھی بھی گِر سکتی ہے اس لیے یہاں رہائش پذیر لوگوں کو نکال کر اسے گرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے ان احکامات کے بعد بلڈنگ کو گرانے کی غرض سے وہاں پر مزدور ہتھوڑوں سے اس بلڈنگ کو توڑتے نظر آتے تھے۔ اور سی بریز بلڈنگ کو خطرناک قرار دینے کے باوجود اس کو بم سے اڑانے کا حکم نہیں دیا گیا۔

تاہم عمارت کو گرانے کے عمل کے دوران ہی رواں ماہ سپریم کورٹ نے بلڈنگ کو گرانے کے عمل کو روک کر نیسپاک، انجینئرنگ کونسل اور کراچی کنٹونمنٹ کو دو ماہ تک اس کی تفتیش مکمل کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر بنی گرینڈ حیات عمارت، بنی گالہ، بحریہ ٹاؤن اور پاکستان کی افواج کے کمرشل تعمیرات کا معاملہ بھی سامنے ہے۔

اس کے بارے میں سندھ بار کونسل کے صدر صلاح الدین احمد نے کہا کہ 'ان تمام معاملات پر سپریم کورٹ نے ان عمارات کو ریگولارائز کرنے کے احکامات دیے جس کہ نتیجے میں ان غیر قانونی تعمیرات کو نہیں گرایا گیا۔'

ریگولارائز کرنے کا مطلب کسی بھی غیر قانونی عمارت کو قانون کے مطابق جرمانہ یا نقشوں میں تبدیلی پر عملدرآمد کر کے اس قانونی شکل دینا ہے۔

اسلام آباد کےگرینڈ حیات منصوبے کے تحت بنی عمارت کو کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 2016 میں سِیل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔

لیکن پھر سپریم کورٹ نے اس عمارت کے مالک بی این پی گروپ کو حکم کیا کہ وہ سی ڈی اے کو 17 ارب روپے چھ قسطوں میں آٹھ سال کے اندر جمع کروا دیں تاکہ عمارت ریگولارائز ہو سکے۔

اسی طرح بحریہ ٹاؤن کو 460 ارب روپے جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔ جبکہ اکتوبر 2018 میں وزیرِ اعظم عمران خان کے بنی گالہ میں بنے گھر کے کچھ حصے کے غیر قانونی زمین پر بنے ہونے کے عوض سپریم کورٹ نے انھیں جرمانہ ادا کرنے اور زمین کو ریگولارائز کرنے کے احکامات دیے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اکثر وہ عمارتیں یا آبادیاں گرانے میں پھرتی دکھائی جاتی ہے جو غریب طبقے کی ہوتی ہیں۔

اربن پلینر (شہری عمارتوں کے منصوبہ ساز) عارف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’صرف غریبوں اور مڈل کلاس طبقے کی آبادیوں کو چھیڑا جاتا ہے اور ان کی آبادیوں کو توڑا جاتا ہے۔ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے علاوہ میں اس میں عدلیہ کو بھی شامل کرتا ہوں۔ انھوں نے بھی جو فیصلے دیے ہیں وہ غریبوں کے خلاف کیے ہیں۔ ان فیصلوں کی بنا پر بااثر لوگوں کی ہمت بنی ہے کہ وہ غریبوں کے پیچھے پڑگئے ہیں۔‘

نسلہ

رہائشی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد لوگوں کو ان کی رقوم واپس ملتی ہیں؟

ماضی میں کچھ اس طرح کی مثالیں موجود ہیں جب کسی غیرقانونی قرار دی گئی عمارت کے مکینوں کو اُن کی رقوم واپس کی گئیں۔

فروری 2019 میں ڈان اخبار میں اینٹی کرپشن سیل کی جانب سے ایک اشتہار میں 'فراڈ الرٹ' کے نام سے جاری کردہ فہرست میں 123ویں نمبر پر فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کا نام تھا۔ یہ سکیم پاکستان کی فضائیہ نے بظاہر شہدا کے خاندانوں کے لیے بنانے کی بات کی تھی جو اینٹی کرپشن سیل کے تحت 'پونزی (جعلی) سکیم' تھی۔

لیکن اس کے بعد فضائیہ ہاؤسنگ سکیم میں سرمایہ کرنے والے افراد کو ان کا سرمایہ ایک ایک کر کے لوٹا دیا گیا۔

سنہ 2016 میں نیب کے ذریعے تقریباً 60 لاکھ روپے کی رقم ان لوگوں میں تقسیم کی گئی تھی جن کو فراڈ کر کے کراچی کے ناردرن بائی پاس میں بلڈرز نے زمینیں فروخت کی تھیں۔

اسی طرح 2018 میں نیب راولپنڈی نے اس نوعیت کے ایک کیس میں ڈھائی کروڑ روپے وصول کیے جن میں سے ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں میں تقسیم کر دیے گئے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہورہا ہے کہ کراچی میں کسی عمارت کے ’فراڈ‘ یا غیر قانونی ہونے کی بنیاد پر اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہو۔ لیکن 'کنٹرولڈ بومبنگ' کے ذریعے گرانے کی مثال اب تک نہیں ملتی۔

صلاح الدین احمد کہتے ہیں کہ ’اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کو ان کی رقم واپس دی جائے گی یا نہیں۔ اب تک تو روایت یہی رہی ہے کہ پیسے دے دیے جاتے ہیں۔‘