نسل پرستی کا شکار کرکٹر عظیم رفیق

نسل پرستی ایک نظریہ ہے جو کسی انسانی نسل کا ممتاز ہونے یا کمتر ہونے سے متعلق ہے۔میرا مشاہدہ ہے کہ نسل پرستی ایک ایسا ذہنی مرض ہے جو کسی کو ذات پات، مذہب، نسل و رنگ وغیرہ کے نفرت کے تئیں انسان سے حیوان بنا دیتاہے۔

تاہم کبھی کبھی نسل پرست لوگ اپنے عہدے، طاقت اور سیاسی زور پر اپنے ناپاک ارادے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں لیکن تاریخ کے پنّوں میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ انسانیت اور نسل کے خلاف ظلم کرنے والا بدنام زمانہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔نسلی امتیاز پر اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق ’نسلی‘ اور ’نسلی امتیاز‘کی اصطلاحات میں کوئی فرق نہیں ہے۔اقوام متحدہ کا کنونشن مزید یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ نسلی تفریق پر مبنی برتر ی سائنسی طور پر غلط، اخلاقی طور پر قابل مذمت، سماجی طور پر غیر منصفانہ اور خطرناک ہے۔ کنونشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ نسلی امتیاز کا کہیں بھی، نظریہ یا عملی طور پر کوئی جواز نہیں ہے۔

نسل پرستی کسی بھی خاص انسانی نسل کی کسی دوسری انسانی نسل یا ذات پر فوقیت یا احساس برتری کے بارے میں امتیاز کا ایک نظریہ ہے۔اس کے علاوہ نسل پرستی میں ایک نسل کی بنیاد پر سہولیات، حقوق اور سماجی فوائد تک رسائی محدود کر دی جاتی ہے اور نسل پرستی کے شکار لوگوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق، نسل پرستی اور گروہی امتیاز میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ہے۔یہ دونوں مجموعی طور پر ایک طرح کے معاشرتی مسائل ہیں۔ مثلاً ایک ایک خاص نسل کے لوگوں کو اعلیٰ سمجھنا یا ان کو سماج میں اعلیٰ مرتبہ دینا کیونکہ ان کا رنگ سفید یا وہ تاریخی اعتبار سے ایک کامیاب اور اعلیٰ نسل مانے گئے ہیں۔مثال کے طور پر سفید امریکی،یورپ اورساؤتھ افریقہ کے لوگ جنہوں نے دنیا بھر میں حکومت کی اور دوسری نسل اور رنگ کے لوگوں کو غلام بنا کر اپنے لیے کام کروائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نسل پرستی کے خلاف قوانین اور لوگوں میں اس کی جانکاری کچھ عرصہ قبل سے ہی عام ہوئی ہے۔ ورنہ تیس سال قبل نسل پرستی کے خلاف شکایت کرنا یا اس پر ایکشن لینا ایک غیر ضروری بات سمجھی جاتی تھی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا بھر میں نسل پرستی کی آڑ میں لاکھوں لوگوں کو غلام بنا کر ان پر زیادتیاں کی گئیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہٹلر کے ماتحت نازی پارٹی نے 1933میں اقتدار پر قبضہ کیا اور ان کا خیال تھا کہ جرمن ایک آریائی ماسٹر نسل کا حصہ ہیں، جنہیں اپنے علاقے کو بڑھانے اور کمتر سمجھی جانے والی دوسری نسلوں کے افراد کو غلام بنانے یا قتل کرنے کا حق ہے۔ نازیوں نے خالص آریائی کے پیمانے پر انسانوں کو بہترین انسانوں کے مقابلے میں غیر آریائی کو ذیلی انسان کے طور پر درجہ دیا۔ ایک لمبی جنگ کے بعد نازیوں کو شکست ہوئی، اسرائیل ملک کا قیام ہوا۔لیکن نسل پرستی اب بھی چھوٹے بڑے پیمانے پر سماج میں پائی جارہی ہے۔
ادارہ جاتی نسل پرستی حکومتوں، کارپوریشنوں، مذاہب، یا تعلیمی اداروں یا بہت سے افراد کی زندگیوں کو متاثر کرنے کی طاقت رکھنے والی دیگر بڑی تنظیموں کی طرف سے نسلی امتیاز ہے۔ نتیجتاً، ایسی تنظیمیں تمام لوگوں کو ان کے رنگ، عقیدے یا نسل کی وجہ سے مناسب طریقے سے خدمت کرنے میں ناکام رہتی ہے۔جس کی وجہ سے ایک انسان اپنی رنگ، شکل، مذہب، ذات ملک اور دیگر وجوہات سے نسل پرستی کا شکار ہوجاتا ہے اور جس کی شکایت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

نسل پرستی انفرادی اور گروہی تعصبات اور امتیازی سلوک کا احاطہ کرتی ہے۔ جس کے نتیجے میں غالب سماجی گروپ یا اکثریتی گروہ کو مادی اور ثقافتی فوائد ہوتے ہیں۔ یہ عقیدہ ہے کہ کچھ انسانی گروہ اپنی جسمانی ظاہری شکل یا رنگ کی وجہ سے مختلف رویے کے خصائل کے حامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا،اسے ایک دوسرے پر بر تر بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال ’سفید نسل پرستی‘ ہے، جہاں سفید فام آبادی کی اکثریت ہے۔ سفید نسل پرستی مادی اور ثقافتی فوائد کا مجموعہ ہے۔ نسل پرستی ایک نسبتاً جدید تصور ہے۔ جو نو آبادیاتی دور میں یورپ کی پیدوار ہے۔ یہ سرمایہ داری اور بحر اوقیانوس کے غلاموں کی تجارت کے ساتھ پروان چڑھا۔ یہ امریکہ میں نسلی علیحدگی اور جنوبی افریقہ کے رنگ بھید بھاؤ کے پیچھے ایک بڑی طاقت تھی۔

حال ہی میں برطانیہ کے ایشیائی کرکٹ کھلاڑی رفیق عظیم کی نسل پرستی کی کہانی کی رپورٹ سے ایک خلفشار مچا ہوا ہے۔ یارکشائر کرکٹ نسل پرستی کے اسکینڈل کے سامنے آتے ہی آئے دن اس پر نئی نئی بات سامنے آرہی ہے۔ برطانیہ کے سب سے مشہور کلبوں میں سے ایک کلب یارکشائر نسل پرستی کے معاملے میں الجھا ہوا ہے۔جس پر ان کے ایک سابق کھلاڑی عظیم رفیق نے ادارہ جاتی طور پر نسل پرست ہونے کا الزام لگایا ہے۔ عظیم رفیق نے سب سے پہلے ستمبر 2020میں یہ بات کہی تھی لیکن ان کے دعوں کو مسترد کر دیا گیا اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اس کے بعد عظیم رفیق ممبر آف پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہوئے اور دورانِ سوال و جواب وہ روپڑے۔

عظیم رفیق کے الزامات سے کئی باتیں ایسی ہیں جونسل پرستی ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ جیسے پندرہ سال کی عمر میں انہیں ٹیم کے ساتھیوں نے زبردستی منہ میں سرخ شراب ڈالی۔ اس کے بعد پندرہ سالہ عظیم بحالتِ مجبوری اپنے ساتھیوں کے ساتھ شراب پی کیونکہ اسے لگا کہ ٹیم میں جگہ بنائے رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عظیم رفیق کو مختلف ناموں سے بلانا۔ اس طرح سے اور بھی الزامات عظیم رفیق نے لگائے ہیں اور کہا کہ اس کے بعد ان کا کرکٹ کئیریر برباد ہوگیا ہے۔تاہم یارکشائر کرکٹ کلب کے چئیر مین راجر ہٹن نے کلب کی جانب سے سابق کھلاڑی عظیم رفیق کے ساتھ نسلی امتیاز کے الزامات پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔انگلش کرکٹ نے بھی عظیم رفیق سے غیر مشروط معافی نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعتماد کی بحالی کے لیے تیزی سے اقدامات کئے جائیں گے اور اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ جس طرح عظیم رفیق نے نسل پرستی کا سامنا کیا وہ کھیل کے لیے ایک نقصان دہ بات ہے۔

اسلام نسل پرستی کو مسترد کرتا ہے۔ قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ قرآن میں دنیا کے تمام لوگوں کے درمیان مساوات کا درس دیتا ہے۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’لوگو، ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے۔ پھر آپ کو مختلف نسلوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ آپ ایک دوسرے کو جان سکیں۔اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو اللہ کا سب سے زیادہ خیال رکھنے والا، باخبر ہو‘۔ (الحجرات:13)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے:’ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور انہیں خشکی اور پانی میں سفر کرنے کی توفیق بخشی، صحت مند رزق تلاش کیا اور انہیں اپنی تمام مخلوقات پر فضیلت دی‘۔ (سورۃ الاسراء:70)۔

قبائلی یا نسلی برتری کے تصور کو حضرت محمد ﷺ نے اپنے مشہور الوداعی خطبہ میں رد کر دیا تھا۔ جہاں آپ نے فرمایا تھا: ’لوگوں، تم سب آدم سے اور مٹی سے آئے ہو۔کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں دی جاتی، سوائے اس کے تقویٰ کے۔حضور صلی علیہ وسلم نے عملی طور پر
بلال افریقی، صہیب رومی، سلمان فارسی، عبدالسلام بنی اسرائیل وغیرہ کے ساتھ مل کر انسانوں کی اس مساوات اور اتحاد کا علمی مظاہرہ کیا۔ روایت کے مطابق ایک دفعہ حضور صلی علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حضرت بلال سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ، ’کالی عورت کے بیٹے‘۔تو آپ صلی علیہ وسلم نے اس صحابی سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ تمہاری نادانی کی نشانی ہے‘۔

انگلش کرکٹ نے نسل پرستی کے شکار عظیم رفیق سے معافی مانگ لی اور ایک بار پھر نسل پرستی کی جو کہانی خبروں سے لے کر لوگوں کی زبان تک تھیں دھیرے دھیرے ’ٹائے ٹائے فش‘ ہوگئی۔یعنی نسل پرستی کی بات ہوئی، معافی مانگا گیا اور آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں اتفاق ہوا کہ اس پر مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔جسے ہم ایک مغربی سسٹم کہتے ہیں جس سے معاملات سلجھتے اور الجھتے رہتے ہیں۔

لیکن برسوں سے نسل پرستی کے شکار لوگوں کو معافی اور ہمدردیوں کے سوا کیا ملا ہے؟ شایدکچھ بھی نہیں، جو کہ ایک افسوس ناک بات ہے۔ مجھے اس بات کو کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہو رہی کہ نسل پرستی کا مرض اب بھی سماج، تنظیموں، دفاتر اور اداروں میں عام ہیں۔ جہاں نہ جانے کتنے لوگ نسلی بھید بھاؤ سے دوچار، دن رات خاموش نسل پرستی کو سہہ رہے ہیں۔

نسل پرستی کے خلاف ہم سب کو متحد ہو کر لڑنا ہوگا، اس کے خلاف آواز اٹھانا ہوگا،تبھی ہم نسل پرستی کو اپنے سماج، دفاتر،معاشرے، اورملک سے اکھاڑ پھینکے گیں۔ اسی عزم اور وعدے کے ساتھ کہ ہم اور آپ جب بھی نسل پرستی سے دوچار ہوں تو اس کے خلاف ضرور شکایت کریں نا کہ خاموش ہو کرنسل پرستوں کی حوصلہ افزائی کریں۔