نظریہ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے

"سارہ عمر"

برصغیر پاک و ہند میں ہمیشہ سے مسلمان اور ہندو قوم ایک ساتھ رہی ہیں-کئی برس ایک ہی خطے میں سکونیت اختیار کرنے کے باوجود دونوں اقوام کے مذہب، تہذیب وتمدن، رسم و رواج، رہن سہن، طرز معاشرت
غرضیکہ ہر چیز ایک دوسرے سے مختلف تھی-یہی جداگانہ حیثیت اور تشخص دو قومی نظریے کی بنیاد بنی جس کی بنا پر پاکستان معرض وجود میں آیا-
نظریہ پاکستان سے مراد ہے کہ  مسلمان ایک الگ قوم ہیں، ان کا دین اسلام ہے اور وہ دوسرے مذاہب سے ہر لحاظ سے مختلف اور منفرد ہیں-پاکستان بنانے کا مقصد ایسی مملکت کا قیام تھا جہاں کسی کی غلامی نہ کی جائے، آزاد اور خودمختار ریاست قائم کی جائے اور وہ اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں-قیام پاکستان کے لیے مسلمانوں نے ایک طویل جدوجہد کا سامنا کرنے کے بعد آزادی کی نعمت حاصل کی مگر پاکستان کو بنے چوہتر سال گزرے تو لوگوں کے ذہنوں سے نظریہ پاکستان کا تصور بھی مٹنا شروع ہو گیا - نئی نسل نظریہ پاکستان سے قدرے بے بہرہ  صورتحال دکھائی دیتی ہے-ایسی صورتحال میں بھلا کیسے نظریہ پاکستان کی بقا ممکن ہو سکتی ہے؟نظریہ پاکستان کی بقا اور سلامتی صرف اسی صورت ممکن ہے کہ نوجوان نسل کو اس نظریے کی بنیاد سے متعارف کروایا جائے - آج کل کی نوجوان نسل نہ صرف ہندوستانی فلموں اور اداکاروں پہ مرتی ہے بلکہ ہندوں اور کافروں کے مذہبی تہواروں کی بھی تقلید کرتی دکھائی دیتی ہے-کئی مسلمان پاکستان میں بھی دیوالی اور ہولی جیسے تہوار مناتے ہیں -
یہ ذمہ داری صرف علماء کرام کی نہیں بلکہ اساتذہ اور والدین کی بھی ہے کہ نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے کلیدی کردار ادا کریں - قیام پاکستان کے واقعات پڑھ کر سنائے جائیں یا پھر ان پر ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں - جس طرح ہجرت کر کے آنے والے تمام بزرگ اپنی اولادوں کو اس خون کی ہولی کا آنکھوں دیکھا حال سنا کر ان کے اندر لا شعوری طور پر اپنے ملک سے محبت کا جذبہ اجاگر کرتے-اس کی واضح مثال أرطغرل غازی اور ان کے بیٹے کی فتوحات پہ بنے والی سیریز بھی ہے-لاک ڈاؤن کے دنوں میں پاکستانی عوام نے أرطغرل غازی کی سیریز کو وقت گزاری کے لیے دیکھنا شروع کیا مگر تاریخی واقعات کے پس منظر میں فرمائی گئی یہ سیریز انتہائی مقبول ہوئی اور شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچی-اپنے آبا و اجداد کے ورثے کو بچانے کے لیے ایک اہم کوشش میڈیا کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے کہ تاریخی واقعات کے پس منظر میں ایسی کہانیاں اسکرین پہ دکھائی جائیں جو اہل وطن کے سینوں میں اپنے وطن کی محبت کو اجاگر کر دیں-ان کے دلوں میں دوبارہ سے جذبہ ایمانی زندہ ہو اور وہ جان سکیں کہ یہ دو اقوام کبھی ایک ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے نظریات، عقائد، معاشرت، تہزیب و ثقافت، زبان اور مذہب آج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں-بھارت جتنا مرضی کشمیر کو اپنا "اٹوٹ انگ" کہتا رہے مگر کشمیری آج بھی اس خطے پہ اپنی الگ پہچان چاہتے ہیں-وہ بحیثیت مسلمان کبھی غیر مسلم ریاست کا حصہ نہیں بن سکتے اسی مقصد کے لیے وہ چوہتر سالوں سے کوشاں ہیں اور آزادی کے حصول تک ان کی یہ جنگ جاری رہے گی-افسوس صد افسوس، والدین کس طرح اپنے بچوں کو تاریخی واقعات سے روشناس کروائیں آج کل کے والدین کو اپنی اولاد سے بات کرنے کے لیے بھی مسیج اور فیس بک کا سہارا لینا پڑتا ہے-نوجوان ہر وقت ہاتھوں میں موبائل فون پکڑے اسی میں مصروف نظر آتے ہیں-
یہ دین، مذہب، تاریخ اور ثقافت سے دوری ہی ہے جو آج کل کے بچے کہتے ہیں کہ الگ ملک کی ضرورت ہی کیا تھی؟ہندو ہمارا دوست ہے-ہندوستان اور ہماری تہذیب و ثقافت میں کوئی فرق نہیں -
نظریہ پاکستان کو پاکستان کے وجود سے الگ کرتے ہی پاکستان کا تصور ہی ختم ہو جائے گا - پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جو مسلمانوں کے لئے دین اسلام کے فروغ کے لئے حاصل کی گئی-ایسی ریاست جہاں ارکان اسلام بجا لانے کی پابندی نہ ہو، جہاں سب کو برابری کا درجہ حاصل ہو، جہاں سب کی عزتیں محفوظ ہوں -
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نظریہ پاکستان کی زیادہ سے زیادہ ترویج کی جائے-تعلیمی اداروں میں ایسے پروگرام منعقد کیے جائیں جس سے نوجوانوں میں شعور پیدا ہو-سوشل میڈیا پہ دو قومی نظریے کے متعلق بات کی جائے اور ایسے مقابلے منعقد کیے جائیں جس میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے - مصنفین نظریہ پاکستان کے متعلق اپنی تحاریر سے نوجوانوں کا خون گرمائیں، انہیں احساس دلائیں کہ یہ ملک ہمیں اتنی آسانی سے نہیں ملا تھا - اس کے لیے لاکھوں افراد نے قربانی دی ہے اپنا خون بہایا ہے-مبصرین کو چاہیے کہ نظریہ پاکستان کے پہلوؤں کو اجاگر کریں-علماء کرام کو چاہیے کہ اپنی محافل میں دو قومی نظریے کی اساس کو واضح کریں - والدین کو چاہیے کہ اپنے چھوٹے بچوں کو قیام پاکستان اور ہجرت میں پیش آنے والے واقعات کی کہانیاں سنائیں تاکہ چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات پختہ ہو جائے کہ یہ اسلامی ریاست ہندوستان کے ساتھ متحد ہونے کے لیے نہیں بنی تھی بلکہ یہ ایک الگ، جداگانہ، منفرد، اسلامی فلاحی ریاست ہے-غرضیکہ ہر شخص کو نظریہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا-اس نظریہ کے فروغ کے لیے اپنا حصہ ڈالنا ہو گا-
دو قومی نظریہ نہ صرف پاکستان کے قیام کی وجہ تھا بلکہ یہ نظریہ پاکستان ہی ہے جو پاکستان کی بقا اور سالمیت کے لیے ضروری ہے - یہی تو ہماری جڑ اور بنیاد ہے-یہی ہماری شناخت اور پہچان ہے-یہی ہمارے ایک جداگانہ قوم ہونے کا نشان ہے-یہی ہماری آن بان، شان ہے اور اسی - کے دم سے ہمارا پاکستان ایک مضبوط پاکستان ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *