نظم:تنبیہ

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

یہ بات حق کی ہے بات ساری

یہ جنگ ساری اصول کی ہے

یہ رات آخر کٹے گی اک دن

سحر نمودار پھر سے ہو گی

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

چلو نہ تم کو میں آزماؤں

نہ ہم کو ایسے تم آزماؤ

کہاں ہے فرعون دوجا کوئی

جو آئے گی فرعونیت دوبارہ

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

تمہیں تکبر ہے طاقتوں پر

تو یہ بھرم ہے

جو آخر اک دن کو ٹوٹنا ہے

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

لہو بہا ہے جو میرا اب تک

نہیں جمے گا یقین رکھو

اُٹھے گی اک دن صدا ہماری

تو قفل ٹوٹیں گے سب دروں کے

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

کہاں کا ظالم، ستم کہاں کا

نہ خوف پہلے تھا اور نہ اب ہے

ہمارا حق بس ہمارا ہی ہے

جسے کوئی بھی نہ لے سکے گا

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

ڈبوئیں گے ہم تمہاری کشتی

مٹائیں گے ہم تمہاری ہستی

ہم اپنا حق تم سے چھین لیں گے

وہ دن بہت جلد دیکھ لو گے

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

بنا کے یہ ریت کی دیواریں

یہ سوچتے ہو کہ روک لو گے

بھرم میں ہو تم

اٹھائیں گے جب صدائیں اپنی

تو یہ دیواریں بھی گر پڑیں گی

نہ ہم جھکے ہیں نہ سر جھکا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: