نظم - بے بس کتابیں

الماری میں سجی کتابیں 

اور دھول سے اَٹی کتابیں 

آنکھ جھکائے پوچھ رہی ہیں

کوئی ہمیں کیوں پڑھتا نہیں ہے

کوئی ہمیں کیوں تکتا نہیں ہے

کیسے سوال کتابوں کے تھے

تم جس سے غمگین ہوئے ہو

ویسے سوال بجا تھے ان کے

کتنی چاہ سے چھپوائی تھی

فکر مند کتنے رہتے تھے 

لیکن سچ تو یہ ہے تم کو

الماری میں سجی کتابوں سے

اب کوئی چاہ نہیں ہے

انٹرنیٹ نے ان سے تم کو دور کیا ہے

ڈیجیٹل دور میں تم بھی ڈیجیٹل ہو بیٹھے ہو

ہر اک ہاتھ میں ہے موبائل

لوگوں کی ہر بات میں ہے شامل موبائل

اور ایسے میں الماری میں سجی کتابیں کوئی پڑھے کیوں

جب سب کچھ موبائل میں ہے

غالب، میر ہوں یا اقبال ہوں

چاہے پھر اخبار ہو کوئی

موبائل میں پڑھ لیتے ہیں

گھر گھر گلیوں اور مکان میں

آسانی سے دستیاب ہیں

بس نظام کچھ بدل گیا ہے

ورنہ ساری بات وہی ہے

پھر کیوں رنج کتابوں کو ہے

پھر بھی سوال یہ کیوں کرتی ہیں

ویسے سوال بجا ہیں ان کے

الماری میں سجی کتابیں

اور دھول سے اَٹی کتابیں

کوئی انہیں کیوں پڑھتا نہیں ہے

یہی پوچھتی ہیں بے بس کتابیں 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.