نظم : تم اکیلے نہیں

میں جب نکلتا کبھی بھی گھر سے

تو ذہن بس اتنا سوچتا ہے

کہ کاش کوئی میرا ہوتا

کوئی تو میرے بھی ساتھ چلتا

طویل منزل، اداس مشکل سی راہ ہوتی

ہر اک طرف بس چمکتے سورج کی کرنیں ہوتیں

ہواؤں کے نرم جھونکے ہوتے

سروں پہ امبر کا سایہ ہوتا

شجر قطاروں میں جھومتے اور

سکون پرور فضائیں ہوتیں

زمیں مکمل سی مجھ کو لگتی

تو آسماں بے حساب دِکھتا

دماغ میں اور پھر اچانک

ستار سا کوئی بجنے لگتا

کہیں سے بچے کی کھلکھلاہٹ سنائی دیتی

مجھے بھی احساس کاش ہوتا

کہ میرے ہمراہ بھی کوئی ہے

کہ جیسے ہمراہ میرا سایہ

قدم ملا کر کے چل رہا ہے

مری طرح بڑھتا جا رہا ہے

مری طرح سے ہے الجھا وہ بھی

کہ جیسے سایہ نہیں وہ میں ہوں

جو مجھ کو احساس دے رہا ہے

کہ تم اکیلے کبھی نہیں ہو

کہ تم اکیلے کبھی نہیں ہو