نظم - سرد رات

"امتیاز گورکھپوری"

تنہا میں اک موڑ پہ بیٹھا سوچ رہا ہوں
اب تک اس کو آ جانا تھا!
سردی میں یہ رات بھی پوری ڈوب چکی ہے
اور تارے بھی بند آنکھوں سے جھانک رہے ہیں
شاید وہ بھی دیکھ رہے ہیں!!
کب یہ راہیں روشن ہوں گی؟
کب آٸے گا میرا ہمدم؟
یعنی کب اس رات میں اس کے، جسم کی گرمی،
حدت پا کر، گرم ہوائیں میری جانب بھی اٸیں گی؟
لیکن یہ سب اب تک ہے اک خواب ادھورا۔۔
جانے ہمدم کب آٸے گا؟
میں بس تنہا راہ میں بیٹھا سوچ رہا ہوں
اس کی راہیں دیکھ رہا ہوں
رات بھی دھیرے دھیرے اب تک ڈوب چکی ہے
میں بھی درد میں دھیرے دھیرے ڈوب چکا ہوں