Site icon Dunya Pakistan

نظم :موت بے رحم ہوتی بہت ہے

سنا، موت بے رحم ہوتی بہت ہے

جب آتی ہے بس جان لے کر ہے جاتی

ہمیں روتے اور پیٹتے چھوڑ جاتی

کبھی زندگی کو ہے مشکل بناتی

کہیں بچوں کو بے سہارا ہے کرتی

تو عورت کو بیوہ کبھی کر کے جاتی

کسی کو ستّی پر چڑھا دیتی ہے یہ

کسی کو سفیدی اوڑھا دیتی ہے یہ

کسی کو سیاہی میں یہ پاٹ جاتی

کسی کا نصیبا تلک چاٹ جاتی

کسی کو عذابوں میں یہ ڈالتی ہے

مگر اب عجب دور آیا ہوا ہے

ہے موت اب بھی وقت مقرر پہ آتی

مگر ذہن میں اب ٹھہرتی نہیں ہے

کوئی یاد رکھتا نہیں موت کو اب

کہ اب تو یہاں قید رونے پہ بھی ہے

اب آنکھیں بھی نم تک نہیں ہو رہی ہیں

دلاسے بھی اب بس دکھاوے کے ہی ہیں

سبھی کچھ بس اک رسم سی بن گئی ہے

مگر موت اب بھی چلی آ رہی ہے

سو سچ ہی سنا ہے

کہ یہ موت بے رحم ہوتی بہت ہے

کہ یہ موت بے رحم ہوتی بہت ہے

Exit mobile version