نظم ۔۔۔ شرط

"امتیاز گور کھپوری"

بے خوف ملا کرتے تھے پہلے تو بہت ہم
باغوں میں کبھی ہاتھوں کو ہاتھوں میں سنبھالے
تھیٹر میں، کبھی کافی، کبھی لمبی سڑک پر
چلتے تھے گلے میں کبھی ہم بانہوں کو ڈالے
شاپنگ کے لئے مال میں اک ساتھ وہ جانا
وہ شام و سحر تیرا مجھے ملنے بلانا
اور میرا وہ بے ساختہ تیری طرف آنا
ہرگز بھی اب اس طرح کے حالات نہیں ہیں
اب جب بھی کبھی تم مجھے ملنے بلانا
ویکسین کے دو ڈوز لگا لو تبھی آنا
رشتوں کو بچانے کی یہ تدبیر نئی ہے
پُر فیض ملاقات کی بس شرط یہی ہے