نظم

بھیڑ میں تنہا رہتا ہوں
آگ میں جلتا رہتا ہوں

آس میں ہر دم ملنے کے
خواب ہی دیکھتا رہتا ہوں

بھینس بنا کے فقیروں کا
حال پہ ہنستا رہتا ہوں

شہرت،دولت عزت پر
اکثر ڈرتا رہتا ہوں

ہے مجھ میں بھی کوئی بات
زعم میں جیتا رہتا ہوں

جھانک گریباں میں بھی فہیم
خود سے کہتا رہتا ہوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.