نعت

آغاز ِ نعت کرتی ہوں میں اس دعا کے ساتھ
محشر میں کاش میں ہوں رسولِ خدا کے ساتھ

شہرِ نبی بلاتا ہے لگتا ہے یہ مجھے
آتی ہے جب مدینے کی خوشبو ہوا کے ساتھ

میری زبان پر ہے رواں ذکرِ مصطفیٰ
جاں بھی اے کاش نکلے مری اس ادا کے ساتھ

ہر ضربِ دل سے آتی ہے آواز یا رسول
جب میں درود پڑھتی ہوں ہر اک دعا کے ساتھ

آنکھوں کو بند کرکے ، میں شہرِ رسول کی
ہر روز سیر کرتی ہوں دل کی صدا کے ساتھ

مل جائے مجھ کو ساقیٔ کوثر سے ایک جام
میرا سفر تمام ہو اس اک عطا کے ساتھ

قلبی سکوں ہے امتِ خیر البشر میں ہوں
صد شکر پرورش ہوئی اہلِ وفا کے ساتھ

میں ہوں عرب نژاد تو یہ فخر ہے مجھے
اجداد میرے ہوں گے رسولِ خدا کے ساتھ

مل جائے گی زمانے کو امراض سے نجات
نامِ رسول لیجئے ہر اک دوا کے ساتھ

چلتے ہیں آگ پر بھی جو عشقِ رسول میں
میں بھی ولا چلوں گی ان اہلِ وفا کے ساتھ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *