نمونیا بمقابلہ کورونا!

میں گزشتہ کئی برس سے سردیوں کے آغاز میں شدید سردی کی خواہش کا اظہار کیا کرتا تھا اور کئی بار اِس کی وجہ بھی بیان کر دیتا تھا کہ ایک سوٹ خرید بیٹھا ہوں، جہاں سے بھی خریدا ہے مگر وہ پہننے کی نوبت ہی نہیں آ رہی۔ اِس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا، ہلکے پھلکے سویٹر سے کام چل جاتا تھا اور خریدا ہوا گرم سوٹ مزید پرانا ہوتا چلا جا رہا تھا مگر بالآخر اللہ نے بےزبان سوٹ کی سن لی اور سردیوں کا آغاز ہو گیا۔ میں اور میرا کوٹ شدید سردی کی خواہش کیا کرتے تھے، ’’اشد‘‘ سردی کی نہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ انسان اور کوٹ دونوں کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے اور اِس بار موسم نے حد ہی کر دی ہے۔

میں اِن دنوں پتلون کے نیچے لیگنگ پہنتا ہوں اور قمیص سے پہلے گرم انڈر شرٹ! سر پر ’’بندر ٹوپی‘‘ پہنی ہوتی ہے، سوٹ (وہی والا سوٹ) اور اُس کے اوپر اُس کوٹ کا بزرگ ایک اوور کوٹ۔ چنانچہ گھر سے نکلتا ہوں تو سردی کو ’’تڑیاں‘‘ دیتا ہوں کہ تم خود کو بہت کچھ سمجھتی تھی، لو میرا بگاڑ لو جو بگاڑنا ہے۔

سردی بیچاری تو شرمندگی سے منہ چھپا لیتی ہے مگر ہم انسانوں میں کچھ لوگ بہت اذیت پسند ہوتے ہیں۔ میں جب گھر سے نکلتا ہوں تو کوئی نوجوان آدھے بازوئوں والی قمیص پہنے میرے ساتھ سیلفی کھنچوانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جس سے میری انا کو خاصی تکلیف پہنچتی ہے، مگر سیلفی کے بعد جب وہ دونوں ہاتھوں سے خود کو ہوا دیتے ہوئے کہتا ہے ’’سر آج گرمی بہت ہے‘‘ تو وہ مجھے زہر لگنے لگتا ہے۔ گزشتہ روز تو حد ہی ہو گئی، جب گوالمنڈی سے گزرتے ہوئے میں نے ایک پہلوان کو ننگے پنڈے سائیکل پر بیٹھے اور سیٹیاں بجاتے دیکھا، اُس نے میرا دل دکھایا، اللہ کرے کوئی حسینہ اُس کا دل دکھائے، ایک عاشق مزاج شخص اِس سے بری بددعا اور کیا دے سکتا ہے۔

دوسری طرف انسان بھی تو خطا کا پتلا ہے، وہ خود کو خواہ کتنا عقلمند سمجھے، حماقت اُس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ آج ایک دوست نے کہا یار جب سے کورونا آیا ہے ہم نے کبھی کسی ریستوران میں کھانا ہی نہیں کھایا، اگر تمہارے پاس ماسک ہے تو چلو کسی ریستوران میں ڈنر کرتے ہیں۔ میں ایسی کسی ناگہانی خوشی کے سبب ہمیشہ جیب میں ایک ماسک رکھتا ہوں، چنانچہ میں نے خوشدلی سے ہاں کر دی۔ رات کو سردی اپنے زوروں پر ہوتی ہے اور کل تو یہ سردی بےشرمی کی بھی ساری حدیں عبور کر چکی تھی۔ جب ہم اس فائیو اسٹار ریستوران کے گیٹ میں داخل ہوئے تو میں نے محسوس کیا کہ میرا دوست ریستوران میں داخل ہونے کی بجائے ایک ٹینٹ کی طرف جا رہا ہے، میں سمجھا ادھر کوئی کام ہو گا مگر اندر گئے تو میزیں اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں، پتا چلا کہ کورونا کی وجہ سے حکومت نے ریستوران کھولنے کی اجازت کھلے ہوا دار مقامات پر دی ہے، سر پر سائبان تھا اور اِدھر اُدھر یخ بستہ ہوا ہمیں ڈھونڈتی ڈھانڈتی ہم تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ کھانے کا آرڈر دیا گیا، کھانا آ بھی گیا، میں نے کانپتے ہاتھوں سے ایک لقمہ منہ میں لیا اور کافی دیر تک منہ چلاتا رہا تاکہ اور کچھ نہیں تو کم از کم منہ تو گرم رہے۔ تھوڑے فاصلے پر ایک انگیٹھی میں گرمائش کے لئے کوئلے جلائے گئے تھے جن کی گرمائش صرف اُس انگیٹھی کے اندر بیٹھ کر محسوس کی جا سکتی تھی۔ یہ میری زندگی کا یادگار کھانا تھا کیونکہ اُس روز میں نے اتنا بھی نہیں کھایا جتنا نیوٹریشنسٹ (ماہرین غذا) اپنے ’’مریضوں‘‘ کو تجویز کرتے ہیں۔

حکومت کے اِس عاقلانہ فیصلے سے مجھے یقین ہے کہ کورونا کی روک تھام میں خاصی مدد ملے گی لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ مارکیٹ میں دستیاب نمونیے کی ادویات کا ابھی سے جائزہ لے اور سب دکانداروں کو ہدایت کرے کہ وہ اِن ادویات کا اسٹاک کر لیں۔ کورونا اِن شاء اللہ ختم ہو جائے گا مگر کورونے سے بچنے کے متذکرہ اقدام کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ کہیں نمونیا بھنگڑے ڈالتا ہوا کونے کھدروں سے نکل کر کورونے کو ذلیل کرنے پر نہ تل جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: