نواز الدین صدیقی کا انٹرویو: لیلیٰ کے رنگین کردار کی نزاکت اور فلموں کی نمائش کے لیے سینما سکرینز پر گفتگو

انڈین فلموں کے اداکار نواز الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ کہانیوں پر نہیں بلکہ اچھے کرداروں پر یقین رکھتے ہیں اور فلم کا ہِٹ یا فلاپ ہونا فلم کی نمائش کے لیے سینما سکرینز پر منحصر ہے کیونکہ روایتی طور پر سٹار پاور والی فلموں کو زیادہ سکرینز ملتی آئی ہیں۔

بی بی سی کو دیے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’کم بجٹ میں بنی فلم کبھی فلاپ نہیں ہوتی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میری بہت سی فلمیں ایسی ہیں جن کی کوئی خاص کہانی نہیں۔ اور میرا ان کہانیوں پر یقین بھی نہیں بلکہ کرداروں پر ہے۔ کرداروں سے چلنے والی کہانیاں ہونی چاہییں۔‘

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر میں آپ کو لے کر فلم بناؤں تو یہاں سے وہاں جانے کی بھی فلم بنا لوں گا جیسے نومیڈ لینڈ ایک فلم ہے، ایک خاتون کا سفر ہے کہ اس کے ذہن میں کیا کیا چل رہا ہے۔ کہانی سے زیادہ اہم کردار کا ذہن ہوتا ہے اور مجھے وہ بہت دلچسپ لگتا ہے۔ میں کردار کے ذہن کی کھوج لگانا چاہتا ہوں، کہانی خود بخود بن جائے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا فلم کی کامیابی کا انحصار اس کی ریلیز اور اس کو ملنے والی سنیما سکرینز پر ہوتا ہے۔ انھوں نے اعتراض اٹھایا کہ جب کسی فلم کو نمائش کے لیے سینما کی سکرینز نہیں ملتیں تو ’فلم کے لیے چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہاں لوگوں کو فلمیں دیکھنے کی عادت ہے ایسے میں اگر کسی جانور پر بھی بنائی گئی فلم کو آپ ڈھائی ہزار سکرینوں پر لائیں گے تو پہلے دن 15 سے 20 کروڑ ہونا ہی ہونا ہے۔‘

’فلم کا انحصار سکریننگ پر ہے۔ اگر دنیا کی سب سے اچھی فلم میں یہاں ریلیز کروں سات سو یا ہزار سکرینز پر تو کتنے لوگ اسے دیکھنے آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ کی فلم چیمبور میں لگے اور آپ اندھیری میں رہتے ہیں اور اس کا شام کا شو ہے تو کون دیکھنے آئے گا۔ لوگ کہیں گے میں او ٹی ٹی پر دیکھ لوں گا۔‘

'بڑے سٹارز کی فلم میں زیادہ منافع انھیں ہی ہوتا ہے‘

نواز الدین نے تسلیم کیا کہ ’سٹار پاور والی فلموں کو زیادہ سکرینز ملتی آئی ہیں۔۔۔ بڑے سٹارز کی فلم فلاپ تبھی ہوتی ہے جب بہت ہی واہیات ہو، ورنہ کہاں۔‘

’اتنی زیادہ سکرینز پر وہ پیسہ کما ہی لیتی ہیں، تھوڑا بہت جو بھی ہے۔ سٹار کی فلم میں زیادہ منافع سٹار کو ہی ہوتا ہے نہ کہ سٹوڈیو کو۔ لیکن ٹھیک ہے، ان کی فلم فلاپ ہوتی ہے تو انھیں زیادہ نقصان ہوتا ہے۔‘

اس کے برعکس ’کم بجٹ میں بنی فلم کبھی فلاپ نہیں ہوتی ہے۔ ہماری کم بجٹ کی فلم کو اتنا نقصان نہیں ہوتا۔ تھیٹر میں لگاؤ، اس کے بعد کہیں اور بھی۔ اتنا کم بجٹ ہوتا ہے کہ وہ کبھی فلاپ نہیں ہوتی۔‘

لیلیٰ، نواز الدین، ہیرو پنتی
،تصویر کا کیپشنفلم 'ہیرو پنتی ٹو' میں نواز الدین لیلیٰ کا کردار نبھا رہے ہیں

ان کے مطابق اب وہی فلمیں یا ویب سیریز ہِٹ ہو سکیں گی جن میں غیر معمولی صلاحیت اور پرفارمنس ہو گی ورنہ سیریز کے چار اداکار اسے سوشل میڈیا پر ہِٹ بنا کر خود ہی خوش ہوتے رہیں گے۔

ویب سیریز کی بھرمار پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بھوپال میں شوٹ کر رہے تھے تو وہاں تقریباً 20، 22 ویب سیریز کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ کسی نے بتایا لکھنؤ میں بھی 15 سے 20 سیریز کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔ پتا نہیں انھیں کون لوگ دیکھیں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ کورونا کی وبا تھمنے کے بعد ’اب روزمرہ کی زندگی بہت مصروف ہے، سینما ہال کھل گئے ہیں۔ اب اگر کوئی دلچسپ سیریز آئے گی، اس میں کمال کی پرفارمنس ہو گی اور اس کا مواد اچھا ہوگا تو ہی لوگ دیکھیں گے۔‘

لیلیٰ کا رنگین کردار اور نواز الدین کی نزاکت

فلم ’ہیرو پنتی ٹو‘ میں اپنے کردار ’لیلیٰ‘ کے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’نام سے ہی پتا چل رہا ہے۔ ’لیلی‘، یہ مردوں کے نام تو نہیں رکھے جاتے خواتین کے ہوتے ہیں۔ تو اس میں خواتین کی کچھ خصوصیات ضرور ہیں۔

’بہت دلچسپ کردار ہے اور اس میں کچھ نزاکت بھی ہے اور کھل کر بات کرتا ہے، حقیقت پسند بھی ہے۔ بہت رنگین کردار ہے اور یہ ہدایتکار کا خیال تھا کہ کردار ایسا ہونا چاہیے اور ایسا ہی ہے۔‘

جب نواز الدین سے پوچھا گیا کہ آیا انھوں نے اس کردار میں کچھ اضافہ کیا تو وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے ذہن میں کچھ نہیں تھا کہ یہ کیسا ہو گا لیکن جب میک اپ ہوا اور کپڑے پہنے تو میں نے فوٹو دیکھ کر سوچا کہ اس میں یہ عادتیں ڈال دینی چاہیے تاکہ یہ دلچسپ لگے۔ احمد خان (فلم کے ہدایتکار) نے کچھ تجاویز دیں اور مل کر لیلیٰ کا کردار تیار ہوا۔

یہ فلم انڈیا کے سینما گھروں میں 29 اپریل کو ریلیز ہوئی ہے اور اس میں نواز الدین مرکزی کردار ٹائیگر شروف کے مقابلے ایک ولن کا کردار نبھا رہے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ٹائیگر شروف کے ساتھ کام کرنے میں مزہ آتا تھا۔ لندن میں چھ روزہ قرنطینہ تھا اور اس میں ہم کھیلتے بھی تھے۔ ہوٹل میں رُکے ہوئے تھے شام میں بیڈمنٹن کھیلتے تھے اور باتیں کرتے تھے۔‘

’پتھر مانو تو پتھر مگر یقین کرنا شروع کرو تو اسے کچھ بھی بنا لو‘

نواز الدین کی ایک خصوصیات یہ ہے کہ وہ جو کردار نبھائیں تو فینز انھیں اسی کردار میں قبول بھی کر لیتے ہیں، جیسے سیکرڈ گیمز میں گنیش اور پھر منٹو میں سعادت حسن منٹو کے کردار۔ تو وہ یہ سب کچھ اتنی آسانی سے کیسے کر لیتے ہیں۔

اس کے جواب میں نواز الدین نے بتایا کہ ’کہیں نہ کہیں اپنی شخصیت کو زیرو کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ میں اپنی شخصیت کو زیرو کر لیتا ہوں اور اس کے بعد اس کردار کا ایک تاثر دینا ہوتا ہے۔ مثلاً اگر میں نے آپ کو ٹھاکرے کا ایک تاثر دے دیا، (یعنی) میں نقل نہیں کروں گا ان کی لیکن اس کے باوجود اگر میں نے اصل میں آپ کو وہ تاثر دے دیا اور آپ نے مان لیا تو اس کا مطلب جو تھوڑا بہت میرا کام تھا وہ ہو گیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’بہت ساری زندگیاں ایسی ہوتی ہیں جو آپ نہیں دیکھ سکتے بلکہ تصور کرنا ہوتا ہے۔‘

نواز الدین
،تصویر کا کیپشناس فلم میں نواز الدین کے ساتھ ٹائیگر شروف بھی نظر آئیں گے

’آپ کے تصورات حقیقت پر مبنی ہونے چاہییں اور جتنا آپ لوگوں کے بیچ میں رہیں گے۔ کردار گنیش کی زندگی میں نے نہیں دیکھی مگر جو لکھا تھا اور ہدایتکار نے بتایا تو آپ سوچنے لگتے ہیں کہ اس کا بچپن کیسا ہو گا، جیسے ہدایتکار نے بتایا۔ اس میں آپ سفر کرتے ہیں اور آپ کو چیزیں ملتی رہتی ہیں، اگر آپ کا کردار پر سو فیصد یقین ہو تو پھر آپ اسے ادا کرتے ہیں۔‘

وہ اس کی مثال کچھ یوں دیتے ہیں کہ ’وہی ہے نہ پتھر مانو تو پتھر ہے۔ لیکن اس پر یقین کرنا شروع کرو تو اسے کچھ بھی بنا سکتے ہو۔‘

نواز الدین کے لیے کیمرے کے سامنے آنا ایک موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار کا سچ بول سکیں۔ ’آج بھی کیمرا سامنے آتا ہے تو تھوڑی سی گھبراہٹ ہوتی ہے، جب شروع کرتے ہیں تب گھبراہٹ ہوتی ہے۔ بیچ میں سانس بہتر ہوجاتی ہے۔ یہ سچ بولنے کے لیے اچھا موقع ہوتا ہے۔ اس موقع پر آپ کردار کا سچ بول سکتے ہو۔‘

’فلم میں ماں مار کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی‘

جب سوال نواز الدین کی نجی زندگی سے متعلق ہوا تو انھوں نے دوٹوک کہا کہ ’میں جتنا سادہ ہو سکتا ہوں اتنا سادہ رہتا ہوں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ می فلمی پردے پر ’اتنے مشکل کردار کرتا ہوں کہ بہتر ہے زندگی کو آسان بنا لو۔ زندگی میں بہت آزاد ہوں، کسی ایک چیز پر میرا سخت رویہ نہیں۔ میرا حلیہ دیکھیں کہ انگوٹھی وغیر کچھ بھی نہیں کہ کوئی چیز میرے آڑے آئے۔ جتنا خود کو فری رکھ سکتا ہوں اتنا فری رکھتا ہوں تاکہ کردار کی پیچیدگیاں ادا کر سکوں۔‘

وہ کسی بنگلے یا گھر کے شوقین نہیں۔ اپنے گھر کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ مجھے بھائی نے دکھایا تو میں نے لے لیا۔ لیکن مجھے مزہ تب آیا جب اس میں ڈیزائنگ ہو رہی تھی، تب میری دلچسپی جا گی۔‘

’میری پسندیدہ چیز اس گھر میں پینٹنگز ہیں، جیسے شیکسپیئر کی۔ کیونکہ میں نے آٹھ، دس سال تھیٹر کیا ہے۔ جب اداکاری کرتا تھا تو چاروں طرف ڈراموں کی پینٹنگز لگی ہوئی تھیں، بڑے بڑے رائٹرز اور پلے رائٹس کی۔ روز ہم وہاں ریہرسل کرتے تھے۔ وہ دنیا آج بھی مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔۔۔ جب میں گھر کی اس منزل پر آتا ہوں تو مجھے تھیٹر ورلڈ نظر آتا ہے۔‘

وہ ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’جب میں اچھے کپڑے پہنتا ہوں تو میری ماں کو اچھا لگتا ہے۔ انھیں کمرشل فلموں میں مزہ آتا ہے۔ کمرشل فلموں میں مجھے ہمیشہ ارب پتی اور گلیمرس دکھایا جاتا ہے۔ جیسے کوٹ یا ٹکسیڈو سب دیا جاتا ہے۔ جیسے کِک، منا مائیکل یا لیلیٰ۔ انھیں یہ دیکھ کر بڑا اچھا لگتا ہے کہ میرے بیٹے نے اچھے کپڑے پہنے ہیں۔‘

نواز الدین صدیقی بتاتے ہیں کہ ’ماں مجھے فلموں میں مار کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ کوئی ماں اپنے بچے کو مار کھاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔‘

error: