نواز شریف کا خوف

نواز شریف کا خوف حکومت کے رگ و پے میں سرایت کر چکا۔ مریم نواز نے گھر سے باہر قدم کیا رکھا، اربابِ اقتدار کے اعصاب چٹخ گئے۔ خود شکستگی کا عجیب منظر ہے۔ نوازشریف کے بارے میں پنجاب حکومت ہی نہیں، شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز کی رپورٹس کو بھی مشکوک بنادیا گیا ہے۔ مشیر سب ذمہ داری کسی اور پر ڈال کر بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں۔ تضادات بتا رہے ہیں کہ سب کسی پریشانی میں ہیں۔ شیر پر سوار ہیں لیکن یہ خوف بھی کھائے جا رہا ہے کہ اس سے اترنا پڑا تو پھر کیا ہو گا۔
آدمی حیرت سے سوچتا ہے: کیا اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ نوازشریف کی واپسی ہے؟ معیشت گرداب میں ہے۔ آئی ایم ایف نے ابھی قرض کی پچھلی قسط ادا نہیں کی کہ معاشی اصلاحات کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ مہنگائی اور بیروزگاری کا سیلاب سفید پوش آبادیوں کو اجاڑتا چلا جارہا ہے۔ گرمی دو درجے بڑھ جائے تو بجلی کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ خارجہ پالیسی ایسی کہ دیرینہ دوست شدید ناراض ہیں۔ حکومتی اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ اس صورتِ حال میں کیا حکومت کی اصل پریشانی یہ ہونی چاہیے کہ نوازشریف کو کیسے واپس لایا جائے؟
اس حکومت کو اپوزیشن ایسی ملی کہ ہر حکومت اس کی تمنا کرے۔ ایسی شریف النفس کہ 'گالیاں کھا کر بھی بد مزہ نہیں‘ ہوتی۔ حکومت کے دستِ سوال کی طرح، اس کا دستِ تعاون ہمیشہ پھیلا رہتاہے۔ بجٹ کی منظوری ہو یا فیٹف کے مسائل پر قانون سازی، اپوزیشن سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ وزرا جب چاہتے ہیں، ثواب سمجھ کر تبرا کرتے ہیں لیکن مجال ہے کہ اطاعت میں کوئی کمی آئی ہو۔ اس پہ مستزاد نوازشریف صاحب کا غیاب اور مریم نواز کی خاموشی۔
اس اپوزیشن نے حکومت کو یہ موقع فراہم کر دیاتھا کہ وہ تمام تر توجہ گورننس اور معیشت کی بہتری پر مرتکز کر دیتی۔ نام نہاد احتساب معیشت کیلئے زہرِ قاتل اور عوام کیلئے محض قاتل ثابت ہوا۔ چینی مافیا کا احتساب ہوا تو اس کا کچھ نہ بگڑا، چینی مگر عوام کی ہاتھوں سے ریت کی طرح سرکنے لگی۔ کہیں حکمت وبصیرت کا گزر ہوتا تو بڑھتے قدم رک جا تے کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔ مگر یہ تحریکِ انصاف کی حکومت ہے۔ ملک میں سب کچھ پہلی بار ہورہا ہے۔
اِس وقت اگر کہیں معاشی سرگرمی کے آثار ہیں تو وہ تعمیر کا شعبہ ہے۔ اس کی وجہ سامنے ہے۔ حکومت نے سجدہ سہو کیا اور اس شعبے کے لیے بالکل مختلف پالیسی کا اعلان ہوا۔ بتایا گیا کہ سرمایہ کاری کرنے والے سے ذریعہ آمدن کی تحقیق نہیں ہو گی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کے اصرار پر ہوا جنہوں نے خان صاحب پر سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔
یہ جس سبب سے بھی ہوا، حکومت کے احتسابی بیانیے سے سراسر انحراف تھا۔ اس پالیسی کے تحت، لوگوں کو موقع دیا گیا کہ ناجائز آمدن کو قومی معیشت میں شامل کر دیں۔ یہ انحراف کیوں ہوا؟ معیشت کا پہیہ سرمایے سے چلتا ہے۔ دنیا میں سرمایے سے اس کا مذہب نہیں پو چھا جاتا۔ معیشت کو پہلے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے، پھر اس کے مذہب کا تعین ہوتا ہے۔
معیشت ہی نہیں سماج کا یہ آزمودہ اصول ہے کہ کوئی عمل خلا میں نہیں ہوتا۔ آپ ایک جاری عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ پہلے اس سے واقف ہوتے، اس کا حصہ بنتے اور پھر اس میں حسبِ شوق تبدیلی لاتے ہیں۔ عام انسان تو ایک طرف، پیغمبروں جیسے پاکیزہ نفوس بھی معاشرے کی جاری روایت کو بیک جنبشِ قلم موقوف نہیں کرتے۔ اپنا دامن صاف رکھتے ہیں مگر سماجی نفسیات کو بھی پیشِ نظر رکھتے ہیں۔
اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ سے بڑھ کر کون ہو گا جو غلامی کے خاتمے کا متمنی ہوگا۔کون ہوگا جو آپ سے بڑھ کر سود کی لعنت سے نجات چاہتا ہوگا۔ آپ نے مگر سماج کو تبدیلی کے نام پر کسی اضطراب میں مبتلا نہیں کیا۔ غلامی کے ادارے کو ختم ہونے میں بہت وقت لگا اور یہی معاملہ سود کا تھا۔ ایک روایت کے مطابق، قرآن مجید کی جو آخری آیت نازل ہوئی، وہ سود کے بارے میں تھی۔
پیغمبرانہ حکمت تو دور کی بات، اگر عقلِ عام کا بھی حکومتی صفوں سے گزر ہوتا تو حکمرانوں کی پہلی ترجیح سیاسی استحکام ہوتا کہ یہ معاشی استحکام کی ناگزیر ضرورت ہے۔ معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی تو اس کے بعد ان لوگوں کے خلاف اقدام کیا جا سکتا تھا جن کو مافیا کہا جا رہا ہے۔ پھر وہ معاشی سرگرمی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے بھی تو انہیں قابلِ ذکر کامیابی نہ ملتی۔
اب ہوا یہ کہ حکومت نے ایک مفروضے کے ساتھ آغاز کیا۔ وہی جو خان صاحب دھرنے اور انتخابی تقریروں میں دہراتے رہے۔ وہی مفروضہ، جسے مراد سعید صاحب کی شعلہ بیانی نے امر کر دیا۔ خیال کیا گیا کہ 'لوٹے ہوئے‘ اربوں روپے واپس لائے جائیں گے اور ملک میں دولت کی ریل پیل ہو جائے گی۔ اسد عمر صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتا دیا کہ حکومت کو آغاز ہی میں معلوم ہو گیا تھا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس کے بعد تو سنبھل جانا چاہیے تھا کہ احتساب سے کچھ نہیں ملنے والا‘ لیکن نرگسیت اس اعتراف میں مانع رہی کہ جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا، وہ غلط تھا۔ اس احتساب کے نتیجے میں چینی مہنگی ہوئی اور پھر آٹا۔ عوام کے حصے میں مہنگائی کے سوا کچھ نہیں آیا۔ اگر فائدہ ہوا تو وکلا کو‘ حکومتی وکلا کا معاوضہ سرکاری خزانے سے جاتا ہے۔ گویا عوام کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ کبھی براہ راست مہنگائی کی صورت اور کبھی وکلا کی فیس کی شکل میں۔
یہ بھی مانا جا سکتا تھا کہ یہ سب آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہو رہا ہے۔ چلیں اس عظیم مقصد کی خاطر عوام مزید بوجھ اٹھا لیتے۔ اس کے حق میں بھی لیکن کوئی شہادت نہیں مل سکی۔ آئین کی حکمرانی کا سب سے بنیادی تقاضا تھا پرویز مشرف کی واپسی۔ اس پر وزیر قانون نے فرمایا تھا ''نو کمنٹس‘‘۔ یہی حکومت کی پالیسی ہے۔ جو حکومت نوازشریف کے ملک سے باہر جانے پر پیچ و تاب کھا رہی ہے، اسے پرویز مشرف صاحب کے باہر رہنے کا رتی برابر ملال نہیں۔
اصل بات نوازشریف اور مریم نواز کا خوف ہے۔ خان صاحب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ آج ان کے لیے کوئی سیاسی چیلنج ہے تو وہ مریم نواز ہے۔ یہ بات اس ملک کے عوام بھی جانتے ہیں۔ نوازشریف نے جو بیانیہ دیا، اگر مریم اس پر قائم رہتی ہیں تو وہ پورے پاکستان کی امید بن سکتی ہیں۔ مریم نواز ایک دن کے لیے نمودار ہوئیں تو مستقبل کی سیاست کے خدوخال واضح ہو گئے۔ عوام کسی ایسے لیڈر کے منتظر ہیں جو ان کی آواز بن جائے۔ ان کی بے چینی کا ترجمان بن جائے۔ یہ کام اس وقت صرف مریم نواز کر سکتی ہیں۔
خان صاحب اگر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے اور انتقام کے بجائے عوام کی بہتری کو پہلی ترجیح بناتے تو یہ ممکن تھا کہ نوازشریف قصہ پارینہ بن جاتے۔ انسانی نفسیات یہی ہے کہ بہتر مل جانے پر کہتر کو بھلا دیتا ہے۔ دو سال بیت جانے کے بعد بھی اگر لوگ نواز شریف کو یاد کر رہے ہیں اور خان صاحب کی سب سے بڑی درد سری وہی ہیں تو انہیں اپنے معاملات پر غور کرنا چاہیے۔ وہ لوگوں کو بہتر متبادل نہیں دے سکے۔ 'شخصی دیانت‘ کا بھرم بھی بیچ چوراہے پھوٹ چکا۔ یہ کہنے کے لیے دیانت کی نئی تعریف کرنا پڑے گی کہ 'خود تو بڑا دیانت دار ہے‘۔
حکومت کی زبان سے بار بار نواز شریف کا ذکر ظاہرکرتا ہے کہ ان کا نام لوگوں کی یادداشت سے محو نہیں ہوا۔ نہ عوام کی اور نہ حکومت کی۔ کسی کے لیے یہ ایک حسرت کا نام ہے اور کسی کے لیے خوف کا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *