نوح دستگیر بٹ نے پاکستان کو کامن ویلتھ گیمز میں پہلا گولڈ میڈل دلوا دیا

پاکستان کے 24 سالہ ویٹ لفٹر محمد نوح دستگیر بٹ نے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں جاری دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ملک کے لیے پہلا طلائی تمغہ حاصل کر لیا ہے۔

نوح نے 109 کلوگرام سے زیادہ وزن کے ویٹ لفٹرز کے مقابلے میں مجموعی طور پر 405 کلوگرام وزن اٹھا کر نہ صرف گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

اس مقابلے میں نیوزی لینڈ کے ویٹ لفٹر ڈیوڈ لیٹی نے دوسری جبکہ انڈیا کے گردیپ سنگھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

نوح کی کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر انھیں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ’ویل ڈن بٹ صاحب‘۔

یہ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں دوسرا موقع ہے کہ کسی پاکستانی ویٹ لفٹر نے طلائی تمغہ جیتا ہو۔ اس سے قبل 2006 میں شجاع الدین ملک نے میلبرن میں ہونے والے مقابلوں میں 85 کلوگرام وزن کے مقابلے میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

نوح دستگیر بٹ سے قبل بدھ کو ہی پاکستان کے 2022 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں اپنا پہلا تمغہ شاہ حسین شاہ کے کانسی کے تمغے کی شکل میں حاصل کیا تھا۔

شاہ حسین نے جوڈو کی 90 کلوگرام کیٹیگری میں جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کو ہرا کر یہ تمغہ جیتا۔ انھوں نے اس سے قبل 2014 کے کامن ویلتھ گیمز میں بھی چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔

محمد نوح کون ہیں؟

نوح کا تعلق پہلوانی، کبڈی اور ویٹ لفٹنگ کے لیے مشہور شہر گوجرانوالہ سے ہے اور انھیں ویٹ لفٹنگ کا شوق ورثے میں ملا ہے۔

24 سالہ نوح دستگیر بٹ کے والد غلام دستگیر بٹ پانچ مرتبہ کے ساؤتھ ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ اور ریکارڈ ہولڈر ہیں جنھوں نے اٹھارہ مرتبہ قومی چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اب ان کی پوری توجہ اپنے بیٹوں پر مرکوز ہے۔

نوح کی اس کامیابی کے بعد ٹوئٹر پر کامن ویلتھ سپورٹس کے اکاؤنٹ پر ان کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا اب ان کے والد آج رات ان سے بات کریں گے۔‘

اسی ٹویٹ میں محمد نوح کی تصویر پر ان کے یہ الفاظ درج ہیں ’جب میں نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا تو میرے والد بہت ناراض ہوئے تھے۔ کچھ وقت تک انھوں نے مجھ سے بات بھی نہیں کی تھی۔ اس لیے میرا ہدف ہے کہ میں اس بار بہتر کروں گا۔‘

نوح کے چھوٹے بھائی ہنزلہ دستگیر بٹ بھی پاکستان کے قومی جونیئر چیمپیئن رہ چکے ہیں تاہم وہ 2022 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں تمغہ جیتنے میں ناکام رہے اور 109 کلوگرام کے مقابلوں میں نویں نمبر پر رہے۔

محمد نوح دستگیر بٹ

نوح دستگیر بٹ نے 2017 میں گولڈ کوسٹ میں منعقدہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور گذشتہ کامن ویلتھ گیمز میں بھی وہ طلائی تمغے کی امید لیے آسٹریلیا پہنچے تھے لیکن انھیں وہاں کانسی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔

یہ تمغہ جیتنے کے بعد نوح نے کہا تھا کہ یہ کانسی کا تمغہ ان کےلیے پہلا قدم ہے لیکن منزل نہیں کیونکہ انہیں ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں اب تک مجموعی طور پر 26 طلائی، چاندی کے 25 اور کانسی کے 26 تمغے جیتے ہیں جن میں ویٹ لفٹنگ میں جیتے گئے طلائی تمغوں کی تعداد دو ہے جبکہ اس کھیل میں پاکستان نے چاندی کے دو اور کانسی کے تین تمغے بھی جیت رکھے ہیں۔

error: