نور زمان: سکواش کا زمان خاندان، جس کی تیسری نسل بھی چیمپیئن بن گئی

’کرکٹ میں اگر کسی کھلاڑی کو کھانسی یا چھینک بھی آ جائے تو یہ بھی ریکارڈ بک میں درج ہو جاتی ہے‘، کسی نے یہ بات مذاقاً کہی تھی لیکن یہ غلط بھی نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کرکٹ ایسا کھیل ہے جس میں ان گنت سنگ میل اور ریکارڈز محفوظ ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کرکٹ میں بننے والے ریکارڈز باقاعدگی سے مرتب کیے جاتے رہے ہیں اور مختلف کھیلوں پر سب سے زیادہ شائع ہونے والی کتابیں اور جرائد بھی کرکٹ کے ہیں۔

رنز، وکٹ اور کیچ تو ایک طرف آپ کو کرکٹ کی کتابوں سے یہ بات بھی بڑی آسانی سے معلوم ہو جائے گی کہ کس فیملی کے کتنے افراد نے کرکٹ کھیلی ہے۔ مثلاً پاکستانی کرکٹر ہارون رشید کی فیملی میں سات بھائیوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔

شاید دوسرے کھیلوں میں اس طرح کے ریکارڈز آسانی سے دستیاب نہ ہو سکیں۔ سکواش ہی کو لے لیجیے، جسے خاندانی اجارہ داری اور فیملی افیئر کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن اس کھیل میں بھی جیت اور ہار کے ریکارڈز سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر کچھ معلومات موجود ہیں تو وہ بھی بہت محدود ہیں۔

پاکستان کے 18 برس کے نور زمان نے تھائی لینڈ میں منعقدہ 29ویں ایشین جونیئر سکواش چیمپیئن شپ جیتی ہے۔ فائنل میں انھوں نے ملائشیا کے جوکم چوآ کو شکست دی۔

نور زمان کی کامیابی کے بعد صرف یہی سننے اور پڑھنے میں آیا کہ پشاور کے ایک نوجوان باصلاحیت کھلاڑی چیمپیئن بن گئے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات اور خاص طور پر ان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں معلومات ہوں گی۔

نور زمان
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے 18 برس کے نور زمان نے تھائی لینڈ میں منعقدہ 29ویں ایشین جونیئر سکواش چیمپیئن شپ جیتی ہے

ایک ہی خاندان کے 19 کھلاڑی سکواش میں

نور زمان کا تعلق سکواش کی مشہور زمان فیملی سے ہے۔ اس فیملی کی پہلی نسل سے تعلق رکھنے والے پانچ بڑوں نے بین الاقوامی سکواش میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ پھر اس خاندان کی دوسری نسل سکواش کورٹ میں اتری اور اب نور زمان کی شکل میں اس خاندان کی تیسری نسل بھی چیمپیئن کہلانے لگ گئی ہے۔

نور زمان کے والد منور زمان بھی سکواش کھلاڑی رہے ہیں تاہم اس فیملی کا اصل تعارف قمر زمان کے بغیر نامکمل ہے جو نور زمان کے دادا ہیں۔

قمر زمان خوبصورت سٹروکس کھیلنے کی وجہ سے اپنے دور میں سکواش کے ’جادوگر‘ کہلاتے تھے۔ وہ سکواش کے عالمی نمبر ایک بھی رہے۔ انھوں نے سنہ 1975 میں برٹش اوپن جیتی تھی جسے اس وقت تک سکواش کی غیر سرکاری عالمی چیمپیئن شپ کا درجہ حاصل تھا۔ اس دور میں قمرزمان کے جیف ہنٹ کے ساتھ ہونے والے مقابلے سکواش کی تاریخ کا خوبصورت حصہ ہیں۔

قمر زمان کے تینوں بیٹوں منور زمان، منصور زمان اور منیر زمان نے بھی سکواش کھیلی۔ ان میں منصور زمان انٹرنیشنل سطح تک پہنچے اور عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ منصور زمان دو مرتبہ ایشین جونیئر چیمپیئن بھی رہ چکے ہیں۔

منصور زمان کے بڑے بیٹے عبداللہ زمان جونیئر سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں جبکہ چھوٹے بیٹے ریان زمان کا ٹیلنٹ صرف چھ برس کی عمر میں سامنے آچکا ہے۔

قمر زمان اپنے بیٹے منور اور منصور زمان کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنقمر زمان اپنے بیٹے منور اور منصور زمان کے ساتھ

قمر زمان کے چاروں بھائیوں نے بین الاقوامی سطح پر سکواش کھیلی۔ شمس زمان ورلڈ جونیئر چیمپئن شپ کھیلے جس کے بعد انھوں نے کوچنگ کو اپنایا اور متعدد ممالک جیسے جرمنی، فلپائن، کویت، سری لنکا اور تھائی لینڈ کی ٹیموں کے کوچ رہے۔

شمس زمان کے پانچوں بیٹوں نے سکواش کھیلی جن میں بلال زمان، فرخ زمان اور فیصل زمان انٹرنیشنل سطح تک آئے جبکہ شاہین زمان اور فہد زمان قومی سطح پر کھیلے۔

قمر زمان کے بھائیوں میں تیسرے نمبر پر فخر زمان بھی ورلڈ جونیئر سکواش چیمپیئن شپ کھیلے ہیں جس کے بعد انھوں نے بھی جرمنی میں کوچنگ کی۔ فخرزمان کے دو بیٹوں فرحان زمان اور فہیم زمان نے بھی سکواش کھیلی۔ فرحان زمان اس وقت انٹرنیشنل سکواش کھیل رہے ہیں۔ فرحان زمان کی بیگم سعدیہ بھی سکواش کھلاڑی ہیں۔

قمر زمان کے بھائیوں میں چوتھے نمبر کے آصف زمان سنہ 1983 میں پہلی ایشیئن جونیئر سکواش چیمپیئن شپ جیتنے والی فاتح پاکستانی ٹیم میں شامل تھے۔ سنہ 1986 میں وہ آرمی میں شامل ہو گئے اور پھر ان کا زیادہ تعلق سپورٹس منیجمنٹ سے رہا جن میں انٹرنیشنل ملٹری گیمز قابل ذکر ہیں۔ آصف زمان اس وقت پاکستان سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

قمر زمان کے سب سے چھوٹے بھائی عمر زمان نے دو مرتبہ ورلڈ ٹیم سکواش چیمپیئن شپ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس وقت وہ قطر میں کوچنگ کر رہے ہیں۔ ان کے تینوں بیٹے سکواش کھیل رہے ہیں جن میں عمیر زمان نے ایشین جونیئر مقابلوں میں قطر کی طرف سے حصہ لیا۔

قمر زمان کے ایک بھانجے شاہد زمان انٹرنیشنل سکواش کھیل چکے ہیں جبکہ ایک اور بھانجے حمزہ خان نے دو سال قبل برٹش اوپن جونیئر چیمپیئن شپ میں انڈر15 ٹائٹل جیتا تھا۔

نور زمان اپنے والد منور زمان کے ساتھ
،تصویر کا کیپشننور زمان کے والد منور زمان بھی سکواش کھلاڑی رہے ہیں

’سکواش خون میں شامل‘

نور زمان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں انھیں سکواش سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

’میں نے دادا کی ڈانٹ اور مار دونوں کھائی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ میں سکواش کھیلوں اور جب میں نے تھوڑی سی محنت کے بعد اچھے اچھے کھلاڑیوں کو ہرانا شروع کیا تو پھر مجھ میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اگر میں زیادہ محنت کروں تو زیادہ اچھے نتائج حاصل کرسکتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایشین جونیئر، برٹش اوپن جونیئر اور ورلڈ جونیئر مقابلوں کی بڑی اہمیت ہے۔ میں ایشین جونیئر چیمپیئن شپ جیت چکا ہوں، اب میں دیگر دو مقابلوں میں حصہ لوں گا، جس کے بعد میری پوری توجہ سینئیر سکواش پر ہو گی۔‘

نور زمان کا کہنا ہے کہ ان کے والد منور زمان ان کی ٹریننگ پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں لہذا ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنے والد کی توقعات پر پورا اتریں۔

منور زمان کا کہنا ہے کہ نور زمان کی عالمی رینکنگ اس وقت 111 ہے لیکن انھیں امید ہے کہ وہ بہت جلد ہی عالمی رینکنگ کے ابتدائی 50 کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

سابق برٹش اوپن چیمپیئن قمر زمان کا کہنا ہے کہ نور زمان میں ٹیلنٹ ہے لیکن پہلے وہ زیادہ محنت نہیں کر رہے تھے لیکن بعد میں انھیں احساس ہوا کہ اگر انھوں نے سکواش میں اپنا کریئر بنانا ہے تو انھیں سخت محنت کرنا ہو گی۔

قمر زمان کہتے ہیں کہ سکواش ہمارے خون میں شامل ہے اسی لیے یہ ایک نسل سے دوسری اور پھر تیسری نسل میں منتقل ہوتا ہے۔

’ہم اپنی نوجوان نسل کو اس کھیل میں کامیابیاں حاصل کرتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آج کل کے بچے کھیل سے زیادہ موبائل فون اور انٹرنیٹ میں لگ گئے ہیں جبکہ سکواش ایک ایسا کھیل ہے جو سخت محنت مانگتا ہے۔ آپ بچوں کو بتا سکتے ہیں انھیں سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں لیکن محنت انھی کو کرنا ہوتی ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.