نور عنایت خان: ’آزادی‘ کے نظریے کی حامی انڈین شہزادی جنھیں برطانیہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دی گئی

لندن کے گورڈن سکوائر گارڈن میں موجود ایک مجسمہ دوسری جنگ عظیم میں برطانوی راج کے لیے جاسوسی کرنے والی خاتون نور عنایت خان کا ہے جنھیں ’جاسوس شہزادی‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

برطانیہ اور فرانس میں پلنے بڑھنے والی نور عنایت خان کا تعلق انڈیا کے ایک شاہی خاندان سے تھا، انھیں دو زبانوں پر عبور حاصل تھا اور سنہ 1942 میں برطانوی حکومت کے سپیشل آپریشنز ایگزیکیٹو (ایس او ای) نامی محکمے میں انھیں بطور ریڈیو آپریٹر نوکری پر رکھا گیا تھا۔

نیشنل آرکائیوز کے ریکارڈز کی مدد سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران وہ پہلی وائرلیس آپریٹر خاتون تھیں جنھیں نازیوں کے زیر حکومت فرانس بھیجا گیا۔

تین مہینے تک نازیوں کو چکمہ دینے کے بعد انھیں بالآخر پکڑ لیا گیا جس کے بعد انھیں قید میں رکھا گیا۔ اُن پر تشدد کیا گیا اور پھر جرمنی کی گسٹاپو ایجنسی نے انھیں ’ڈاچاؤ‘ حراستی کیمپ میں ستمبر 1944 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

جب جرمن فائرنگ سکواڈ نے ان کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے ہتھیار تیار کیے تو نور عنایت خان کے منھ سے نکلنے والا آخری لفظ ’لبرٹی‘ یعنی آزادی تھا۔

نور عنایت خان کی سوانح عمری تحریر کرنے والی شرابانی باسو کہتی ہیں کہ ’آزادی‘ کا نظریہ امن پسند نور عنایت کے لیے انتہائی اہم تھا اور یہ ان کے دل کے بہت قریب تھا۔

نور عنایت خان کو ان کی بہادری کے صلے میں بعد از موت برطانوی حکومت کے سب سے بڑے اعزازوں میں سے ایک ’جارج کراس‘ سے نوازا گیا۔

فرانس میں بھی ان کی بہادری کے گُن گائے گئے اور انھیں بڑے عسکری اعزاز ’کوا ڈی گئیر‘ سے نوازا گیا اور پھر بعد میں ان کے لیے دو یادگاریں بھی تعمیر کی گئیں اور ان کی موت کو یاد کرنے کے لیے سالانہ تقریب کا انعقاد کرنا شروع کیا۔

ٹیپو سلطان کے خاندان سے تعلق

ٹیپو سلطان
،تصویر کا کیپشننور عنایت خان کا شجرہ چوتھی نسل میں ٹیپو سلطان سے جا ملتا ہے

نور عنایت خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہ صرف وہ بہت دلکش اور بہادر تھیں، بلکہ وہ بہت جذبے والی اور حساس خاتون تھیں۔

ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے بہادری کی داستان رقم کی وہ تاجِ برطانیہ کی محبت سے نہیں بلکہ فسطائیت اور آمرانہ راج کے خلاف مخالفت کی بنا پر تھی۔

نور عنایت خان کے والد ایک صوفی استاد اور موسیقار تھے اور نور کی تربیت ایسی کی گئی تھی کہ ان میں مذہبی رواداری بہت تھی اور وہ امن پر پورا یقین رکھتی تھیں۔

شرابانی باسو کہتی ہیں کہ نور سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا کہ ’ملک کسی اور کے قبضے میں ہو‘ اور یہ ایک ایسا جذبہ تھا جو ان کے خون میں رچا بسا ہوا تھا۔

نور عنایت خان کا تعلق میسور کے مشہور زمانہ ٹیپو سلطان کے خاندان سے تھا جنھوں نے 18ویں صدی میں انگریزوں کے راج کی مخالفت کی تھی اور بالآخر 1799 میں سری رنگا پٹنم کے میدان جنگ میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔

نور عنایت خان کی پیدائش روس میں یکم جنوری 1914 میں انڈین والد اور امریکی والدہ کے ہاں ہوئی اور انھوں نے پیدائش کے بعد اپنا وقت لندن میں گزارا۔

تھوڑی عرصے بعد ان کا خاندان فرانس منتقل ہو گیا اور انھوں نے اپنا بچپن پیرس میں گزارا جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کی اور فرانسیسی زبان میں مہارت حاصل کی۔

برطانیہ کے نیشنل آرکائیوز کے مطابق انھوں نے موسیقی اور طب دونوں کی تعلیم حاصل کی۔

نور عنایت
،تصویر کا کیپشننور عنایت خان کے والد ایک صوفی استاد اور موسیقار تھے اور نور کی تربیت ایسی کی گئی تھی کہ ان میں مذہبی رواداری بہت تھی اور وہ امن پر پورا یقین رکھتی تھیں

کچھ عرصے بعد سنہ 1939 میں انھوں نے انڈین بچوں کی روایتی کہانیوں پر مبنی مجموعہ تحریر کیا جس کا نام تھا ’ٹوئنٹی جاٹاکا ٹیلز‘ اور وہ موقر جریدے لی فگارو میں شائع ہوا۔

جب دوسری جنگ عظیم کا سنہ 1939 میں آغاز ہوا تو اس وقت وہ فرانسیسی ریڈ کراس میں بطور نرسنگ کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔

لیکن نومبر 1940 میں جرمنی کے فرانس پر قبضے کرنے سے کچھ عرصہ قبل وہ ملک چھوڑنے میں کامیاب ہو گئیں اور ایک کشتی پر اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ انگلینڈ پہنچ گئیں۔

شیرنی

Noor Inayat Khan
،تصویر کا کیپشنجب گسٹاپو کے ہاتھوں ان کی ٹیم کے اراکین ایک کے بعد ایک گرفتار ہوتے چلے گئے، تو نور نے اس کے باوجود اپنا کام جاری رکھا

برطانیہ پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد انھوں نے خواتین کے لیے ’آکژلری ائیر فورس‘ (ڈبلیو اے اے ایف) میں بطور وائرلیس آپریٹر شمولیت اختیار کی اور اپنی کارکردگی کی بنا پر بہت جلد ایس او ای کے حکام کی نظر میں آ گئیں۔

نورا بیکر کے نام سے معروف نور عنایت خان نے سنہ 1942 میں ایس او ای کے جاسوس یونٹ میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد انھیں فرانس میں تعینات کر دیا گیا۔

لیکن ایس او ای کی اپنی تربیتی رپورٹ میں ان کے بارے میں لکھا گیا کہ ’اُن پر بہت زیادہ ذہنی دباؤ نہیں ہے‘ یعنی وہ بہت زیادہ ذہین نہیں تھیں اور رپورٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ ’وہ فیلڈ میں کام کرنے کے لیے نامناسب ہیں۔‘

فرانس جانے کے بعد نور عنایت خان کو ’میڈیلن‘ کا خفیہ نام دیا گیا اور اس کے بعد انھوں نے وہاں پر ایک خفیہ مزاحمتی نیٹ ورک ’پراسپر‘ میں شمولیت اختیار کر لی جس کو برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے یہ کام دیا تھا کہ وہ ’یورپ کو آگ لگا دیں۔‘

لیکن اس شک کے قطع نظر کے پراسپر کے نیٹ ورک میں نازی جاسوس کو جگہ مل گئی ہے، نور عنایت نے برطانیہ واپس لوٹنے سے انکار کر دیا اور اپنے زندگی خطرے میں ڈالی۔

نور عنایت خان کی زندگی پر آٹھ سال تک تحقیق کرنے والی شرابانی باسو نے بی بی سی کو بتایا: ’نور تو بچوں کے لیے کہانی لکھنے والی ایک خاتون تھیں، وہ موسیقار تھیں، لیکن جب وہ میدان میں اتریں تو وہ ایک شیرنی بن گئیں۔‘

لیکن جب گسٹاپو کے ہاتھوں ان کی ٹیم کے اراکین ایک کے بعد ایک گرفتار ہوتے چلے گئے، تو نور نے اس کے باوجود اپنا کام نہیں روکا اور جب تک ممکن ہوا وہ خفیہ ریڈیو پیغامات برطانیہ بھیجتی رہیں۔

نور عنایت خان کے افسران نے بار بار ان پر زور دیا کہ وہ واپس انگلینڈ لوٹ جائیں لیکن انھوں نے تن تنہا پیرس میں جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کیا اور تین ماہ سے زیادہ عرصے تک اسے کامیابی سے چلایا اور اس عرصے میں وہ بار بار اپنی شناخت اور انپنا بھیس تبدیل کرتی رہتیں۔

لیکن بالآخر ان کی خوش قسمتی کا خاتمہ ہوا اور ٹیپو سلطان کی طرح ان کے ساتھ بھی دھوکہ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ حراست میں لے لی گئیں اور انھیں قید کر دیا گیا۔

حراست میں لینے کے بعد انھیں جرمنی کے فورزہئیم کی جیل میں قید تنہائی میں زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا لیکن انھوں نے دس ماہ تک نازیوں کی جانب سے مسلسل سخت تشدد کے باوجود کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کیں۔

ان کے جذبے اور ثابت قدمی کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے دو بار قید سے بھاگنے کی کوشش کی اور نازیوں نے ان کو ’شدید خطرناک‘ قرار دیا تھا۔

اندرونی طاقت

نور عنایت

ستمبر 1944 میں انھیں ایس او ای کی تین اور خواتین ایجنٹس کے ہمراہ ڈچاؤ حراستی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا جہاں 13 ستمبر کو انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

شرابانی باسو نور عنایت خان کی زندگی کے بارے میں بتاتی ہیں کہ وہ بہت ’متاثر کُن‘ تھیں اور جدید دنیا نور کی زندگی سے بہت سبق سیکھ سکتی ہیں۔

شرابانی باسو کہتی ہیں کہ ’نور کے لیے میدان میں اُترنا، اور گسٹاپو کا مقابلہ کرنا، یہ ان کے اندر کی بہادری اور جذبے اور ثابت قدمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بہت ہی متاثر کُن ہے، خاص کر کہ اب ہم جس قسم کے وقت میں رہ رہے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ایسی خصوصیات کو یاد رکھا جائے اور اُن کی قدر کی جائے۔ 25 لاکھ انڈینز نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا اور یہ رضا کاروں کی سب سے بڑی فوج تھی۔ ہمیں اس جنگ میں ان کی شرکت اور حصے کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے اور نور اس کا حصہ تھیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *